Saturday, 28 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohammad Din Jauhar
  4. Shayari, Asool e Fiqh, Mabaad Tabeeat Aur Irfan

Shayari, Asool e Fiqh, Mabaad Tabeeat Aur Irfan

شاعری، اصول فقہ، مابعدالطبیعات اور عرفان

سائنس، فلسفہ اور مذہب میں بنیادی ترین حیثیت نظری عقل (theoretical reason) کی ہے۔ ان تینوں کے باہمی علمی امتیازات جو وضعی (formal) ہیں وہ بھی نظری عقل کے پیدا کردہ ہیں۔ نظری عقل کی فطری فعلیت اور وضعی تعینات کے بغیر، سائنس، فلسفہ اور مذہب کی معنویت باقی نہیں رکھی جا سکتی اور کلاسیکل علم الکلام کے تناظر میں، مسلمانوں کا بنیادی تہذیبی تجربہ بھی یہی ہے۔ عصر حاضر میں مسلم اہلِ علم میں سائنس کی نفرت، مابعدالطبیعات کی للک اور تجدد کا ہوکا عین اسی نظری عقل کی مرگِ مطلق کے بعد ظاہر ہوا ہے۔ سائنس کی نفرت مسلمانوں میں نکبت تامہ کا باعث ہے، مابعدالطبیعاتی اشغال ان کے عقیدے کو فنا کر چکے ہیں اور تجدد نے شریعت کو ادھیڑ دیا ہے۔

شہود میں ہدایت روشنی ہے اور نظری عقل بینائی اور روشنی کا ادراک بینائی کے بغیر ممکن نہیں۔ مسلم اہلِ علم میں نظری عقل کی موت کے بعد، ان کی ہر طرح کی علمی اور فکری کارگزاری محض صوابدیدی تعبیرات میں باقی رہ گئی ہے جو ناگزیر طور پر مابعدالطبیعات (metaphysics)، جدید باطنیت (Gnosis/Esotericism) اور تجدد (religious modernism) میں ظاہر ہوتی ہیں۔ نظری عقل کے تناظر میں، مابعدالطبیعات، جدید باطنیت اور تجدد ایک ہی بنیاد پر قابلِ رد اور قابل مذمت ہیں کیونکہ نظری عقل کی موت کے بعد تعبیرات کے بھی کوئی معنی باقی نہیں رہتے۔ نظری عقل کی موت کے الم میں مذہبی آدمی کی تعبیرات جنون کا شکار ہو جاتی ہیں اور مابعدالطبیعات اور/یا تجدد کے "شاہکار" سامنے آتے ہیں۔

ہمارے ہاں اصول اور مبادی کے الفاظ تقریباً ہم معنی برتے جاتے ہیں۔ زیربحث موضوع کے ابلاغ کے لیے ان میں پہلے سے موجود امتیازات کو پھیلایا جا سکتا ہے کیونکہ علم اصول سازی اور مبادی کی دستیابی کے بغیر دیوانے کا خواب ہے۔ اصول وضعی (formal) اور تشکیلی ہوتے ہیں اور نظری عقل کا بنیادی وظیفہ انھی کے ذریعے کام کرنا ہے۔ لہٰذا، اصول اولاً نظری عقل کا مسئلہ ہے۔ مبادی عموماً عطائی (given) ہوتے ہیں، اس لیے یہ کہنا قرین صواب ہے کہ مبادی ہرمینیاتی عقل کا اثاث البیت اور شرطِ بدایت ہے۔

علمی سرگرمیوں میں اتنی آزادی یقیناً ہوتی ہے کہ پہلے سے متعین معنی کو چھیڑے بغیر ان کی تحدید یا توسیع کے ساتھ ان کو برتا جائے۔ نظری عقل اپنے خود وضع کردہ نظامِ استدلال میں رہتے ہوئے اپنے معروض کا علم حاصل کرنے کے لیے جو بنیادی مقدمات قائم کرتی ہے وہ اصول کہلاتے ہیں۔ اصول بیک آن ہمیشہ جامعاتی (inclusive) اور مانعاتی (exclusive) ہوتے ہیں۔ نظری عقل اپنی آفاقیت (universality) کے بغیر اور اصول ایک معروف اور مشترک نظام استدلال کے بغیر قطعی لغویات ہیں۔ مبادی عطائی (given) ہیں اور نظری عقل کے حاصلات نہیں ہوتے اور نہ ہو سکتے ہیں۔

نظری عقل اور ہرمینیاتی عقل کے بنیادی فروق کی وجہ سے ان کے حاصلاتِ علم کی شرائطِ قیام بھی بالکل مختلف ہوتی ہیں۔ نظری علوم میں دلیل کسی شے کے ہونے اور نہ ہونے کے حصر میں کام کرتی ہے اور ثبوتی یا سلبی ہوتی ہے۔ علم الکلام اسی نظری عقل کا دائرہ کار ہے کیونکہ اس میں بنیادی بحث وجود کے ہونے نہ ہونے کی ہے اور جو واجب الوجود کے بیک آن منطقی اور مابعدالطبیعاتی قضیے پر منتہی ہوتی ہے۔ ہرمینیاتی عقل میں دلیل سے مراد استناد قائم کرنا ہے اور اس کا ثبوت و سلب استناد کے ہونے نہ ہونے میں حصر قائم کرنا ہے۔ اصول فقہ میں ادلہ استناد کے ضمن میں کام کرتی ہیں اور ان کا ثبوتی یا سلبی ہونا علم الکلام کے استدلالی اسلوب سے قطعی مختلف ہے۔

دو ایسے مسائل ہیں جو نظری عقل سے خاص ہیں اور جدید علوم میں سارے مسائل کی جڑ ہیں۔ ان سے عدم واقفیت کی وجہ سے مابعدالطبیعات کا مسئلہ بھی حل نہیں ہو پاتا جو خاص الخاص نظری عقل کا مسئلہ ہے۔ میں یہ بات عرض کرتا آیا ہوں کہ impass نہ صرف عقل کی خلقت میں ہے بلکہ اس کی تقدیر ہے اور فلسفیانہ علوم سے واقف کوئی آدمی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ مذہبی آدمی کے لیے اس کو جاننا ازحد ضروری ہے۔ نظری عقل جب اپنے خارج میں شہود کی طرف متوجہ ہوتی ہے تو اسے فوری مسئلہ جو درپیش ہوتا ہے وہ کثرت موجودات کا ہے جو بتدریج اور ناگزیر طور پر "وجود کیا ہے؟" کے سوال کی طرف پیشرفت کرتا ہے اور وجود اپنی ہونیت (ہونے میں) میں کثرت ہے اور ہویت میں قابل وقوف (cognizable) ہی نہیں ہے۔

نظری عقل یہ امر پہلے سے جانتی ہے کہ جو شے قابل وقوف نہیں وہ معلوم ہو کر بھی قابلِ علم نہیں ہو سکتی۔ نظری عقل وجود سے آگاہ (aware) ضرور ہے لیکن وجود کے ناقابل وقوف (non-cognizable) ہونے کی وجہ سے اس کا کوئی علم حاصل نہیں کر سکتی۔ دوسرے لفظوں میں وجود کی آگاہی (awareness) غیرتوسیطی (immediate) ہے جو عقل کے اپنے ہی وسائل سے اور عقل کے اپنے ہی استدلال پر کبھی توسیطی (mediate) نہیں بن سکتی، یعنی وجود کا نظری علم ممتنع اور محال ہے، یعنی وجود کا کوئی بھی تصوراتی علم (conceptual knowledge) ممکن نہیں۔

اپنے خارج کی طرف متوجہ ہونے کے بعد، سعیِ حاصلات میں یہ نظری عقل کا پہلا impass ہے اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے وہ مابعدالطبیعات یا وجودیات (ان میں بہت بنیادی نوعیت کے فرق ہیں) کی طرف لپکتی ہے اور اپنی جان پر ظلم عظیم کی مرتکب ہوتی ہے۔ دوسرا مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب نظری عقل اپنے داخل کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور ماہیت علم پر غور کرتی ہے اور وہاں علم کے تشبیہی یا تنزیہی ہونے کا سوال کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہاں نظری عقل تشبیہ یا تنزیہ میں سے کسی ایک طرف سفر کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی اور بہت جذری (radical) نوعیت کے اشکالات کا شکار ہو جاتی ہے جو امتناعِ علم کو اس کے تجربے میں قائم کر دیتے ہیں۔ یعنی تشبیہ اور تنزیہ نظری عقل کا تحدیدی تصور (limiting concept) ہے۔

یہ دوسرا impass ہے اور اس سے نکلنے کے لیے نظری عقل مابعدالطبیعاتی یا وجودیاتی قضایا کی طرف لپکتی ہے۔ ایک یہ ہے کہ عقل (وجود کے روبرو) کوئی تصور ہی قائم نہ کر سکے اور دوسرے یہ کہ اس کا ہر تصور ایک مقابل حذفی تصور کو سامنے لے آئے اور علم کو ناممکن بنا دے۔ لہٰذا، نظری عقل کے اپنے ہی طے کردہ معیارات پر مابعدالطبیعات محال ہے۔ جبکہ علم تشبیہ اور تنزیہ دونوں کو اپنے اندر سمونے کے امکانات رکھتا ہے۔ اس لیے نظری عقل کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ مکمل تشبیہی یا مکمل تنزیہی علم تشکیل دے سکے۔ نظری عقل کا علم جزئی طور پر تشبیہی اور تنزیہی ہو سکتا ہے۔ یہ آفاقی عقل (universal reason) کا وظیفہ جاتی حال ہے جو اس کی خلقت کی وجہ سے اس پر وارد ہے۔

یہاں اس امر کا ذکر کرنا مفید ہوگا کہ نظری علم کے حوالے سے اقدار کا سوال اٹھانا محض حماقت ہے۔ وجود کے ناقابل وقوف (non-cognizable) ہونے اور نظری عقل کے اس داخلی تحدیدی تصور کے ذریعے ہی عقیدے کا دفاع ممکن ہے۔ کلاسیکل علم الکلام کا سب سے بڑا معجزہ یہی ہے کہ اس نے وجود کی بحث کو نظری عقل کی اپنی طے کردہ شرائط پر منتہی کیا اور عقیدۂ توحید کے مباحث میں تنزیہ کو باقی رکھا۔ نظری عقل کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ خدا کا ثبوت لائے یا کوئی مابعدالطبیعات بنائے بلکہ اس کا سب سے بڑا وظیفہ یہ ہے وہ ایمانیات سے معلوم ذات باری کے اسما و صفات کی بحث اور عقیدۂ توحید میں تنزیہ کو قائم رکھے، کیونکہ یہ مسئلہ اس وقت پیدا ہو جاتا ہے جب ایمانیات کو عین اسی نظری عقل کا موضوع بنایا جائے۔

ایمانیات ایک ایسے آدمی کا مسئلہ نہیں ہے جو اس سے خالی ہے، لیکن حامل ایمان، مشمولاتِ ایمان کو جائز طور پر نظری عقل کا موضوع بنا سکتا ہے اور بناتا ہے۔ ایمانیات میں معاد کا عقیدہ مکمل تنزیہ کا حامل نہیں ہے، اس لیے وہ نظری علم میں جزئی طور پر تشبیہی اور تنزیہی ہو سکتا ہے، یعنی تنزیہ کو قائم رکھتے ہوئے تشبیہی ہو سکتا ہے۔ عقیدۂ معاد کے مشمولات اصلاً شئون الہی اور مخلوقات کا ہی بیان ہے، جیسے قیامت، جنت، دوزخ وغیرہ۔ لیکن ذاتِ باری پر ایمان یعنی توحید تشبیہ کا سایہ پڑتے ہی ختم ہو جاتی ہے کیونکہ توحید مطلق تنزیہ ہے۔

کلاسیکل علم الکلام میں توحید اور ذاتِ باری کے مباحث ایمان کی جہت سے نظری عقل کا موضوع بنتے ہیں اور ان مباحث کا مقصد عقیدے کو ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ اس کی تنزیہ کو قائم رکھنا ہے۔ دوسری طرف سائنس کا علم تشبیہی ہے اور ایک حامل ایمان مسلمان کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب توحید کو سائنس بنانے کی طرف پیشرفت کی جائے۔

انسانی شعور میں دو ملکات فعال (active) حیثیت رکھتے ہیں اور وہ نظری عقل اور تخیل ہیں۔ نظری عقل فعال ہے لیکن منطقی، میکانکی اور غیرنامیاتی ہے اور جس کا سب سے بڑا اظہار ریاضی ہے۔ تخیل جذبی، تخلیقی اور نامیاتی ہے۔ نظری عقل میں تخیل انقیاداً داخل ہوتا ہے جبکہ تخیل میں نظری عقل انقیاداً شامل ہوتی ہے۔ شہود کی توسیط صرف عقل کے ذریعے ممکن ہے کیونکہ وہ معقول ہے، جبکہ تخیل تجربے کی توسیط کرتا ہے۔ نظری عقل "تخلیقی" تصورات قائم کرتی ہے جبکہ تخیل "تخلیقی" پیکرات بناتا ہے۔ میں اس کی تفصیل پھر کسی وقت عرض کروں گا۔ اب صرف ضروری بات کہنا چاہتا ہوں۔

آگہی (awareness) شعور کی خلقی صفت ہے اور آگہی علم نہیں ہے۔ علم نظری عقل کی کارفرمائی سے حاصل ہوتا ہے، توسیطی (mediated) ہوتا ہے، representational ہوتا ہے اور تصوراتی (conceptual) ہوتا ہے۔ جبکہ تخیل دنیا میں انسانی تجربے کی توسیط کرتا ہے جس کا سب سے بڑا مظہر آرٹ اور شاعری ہے۔ شاعری اور آرٹ کی کائنات معنی کا مدرِک تخیل ہے اور اس میں معنی اعتبارات سے تشکیل پاتا ہے اور یہ اعتبارات قائم کرنا ہرمینیاتی عقل کا وظیفہ ہے۔ شہود میں اشیا کی مدرِک حس ہے جبکہ انفس میں معنی کا مدرِک تخیل ہے۔ نظری عقل مدرکاتِ حس کو معنی کے مدلولات کے ذریعے علم میں ڈھالتی ہے جو مکمل طور پر تصوراتی (conceptual) ہوتا ہے۔ یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ انسانی تجربہ جو آرٹ اور شاعری میں ڈھلتا ہے وہ شہود کا خمیر لیے ہوئے ہوتا ہے۔ آرٹ اور شاعری میں قائم ہونے والے اعتبارات پیکری نوعیت کے ہوتے ہیں اس لیے کبھی تنزیہی نہیں ہو سکتے۔ لیکن مذہبی آرٹ اور عرفانی شاعری میں پیکر بطور علامت تنزیہ کا بار اٹھانے کے قابل ہوتا ہے اور علامت ہمیشہ انسان کے belief structure سے متعلق ہوتی ہے۔

اصول فقہ میں منطق محض ایک تنظیمی اور علمیاتی (epitemological) اصول کے طور پر کام کرتی ہے۔ اصول فقہ میں تصوراتی علم (conceptual knowledge) کا دائرہ بہت محدود اور تحتانی ہے۔ اس میں چار ادلہ سے حاصل ہونے والا علم ہرگز تصوراتی (conceptual) نہیں ہوتا اور اس میں کارفرما ہرمینیاتی عقل کے تمام مدلولات استنادی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ اصول فقہ میں اصل چیز نص اور امر ہیں، متن اور معنی نہیں ہیں اور احکام کا علم تصوراتی (conceptual) نہیں ہے کیونکہ اقدار کے علم کی طرح وہ غیرتوسیطی (immediate) ہوتا ہے، توسیطی (mediated) اور تصوراتی (conceptual) نہیں ہوتا۔ تصوراتی علم (conceptual knowledge) انسان کی becoming میں غیرمطلوب اور لاحاصل ہے۔ صرف غیر تصوراتی علم ہی انسان کی becoming میں کھپ سکتا ہے۔ اصول فقہ اور فقہ فرد، معاشرہ اور ریاست کی سطح پر انسان کی شرعی مرادات پر becoming کو ممکن بناتا ہے اور علم الکلام ایک ایسا علم ہے جو مکمل طور پر تصوراتی ہے اور اپنے مقاصد میں سلبی ہے۔ علم الکلام مسلمان کی علمیاتی "نہیں" کی تفصیل ہے جبکہ اصول فقہ اور شریعت مسلمان کی وجودی "ہاں" کو ظاہر کرتا ہے۔

تخیل کی تطہیر ہو جائے، یعنی اگر یہ ارتسامات شہود سے معریٰ ہو جائے تو یہ خیال بن جاتا ہے۔ خیال ارتساماتِ شہود کے حامل انسانی تجربے سے منقطع ہو کر ایمانیات سے متعلق ہو جاتا ہے۔ ایمانیات سے متعلق خیال انقیادی اور فتوحی ہے، کیونکہ انسان کے شہودی تجربے میں کارفرما تخیل کی طرح یہ فعال نہیں رہ سکتا۔ خیال کی معنوی کائنات میں ہرمینیاتی عقل جو معنوی اعتبارات قائم کرتی ہے وہ تمام تر اشاری ہوتے ہیں، مدلولاتی اور پیکری ہرگز نہیں ہوتے۔ انسانی تجربہ شہودی ہے، علی الاطلاق ہے اور آرٹ، ادب اور شاعری میں اپنے اظہارات سے ابلاغ کا حامل ہے۔

انسانی تجربہ تخیل کی کارفرمائی کی وجہ سے فعالی نوعیت کا ہوتا ہے۔ ایمانیات سے متعلق ہونے کی وجہ سے خیال انقیادی اور انفعالی ہوتا ہے۔ اسی باعث ایمانیات اور خیال کی قلمرو میں واقع ہونے والا تجربہ "روحانی" کہلاتا ہے اور جو اپنی ہر ہر جہت میں انفعالی اور وصولی ہے اور اپنی کسی جہت میں بھی فعالی نہیں ہے۔ مغرب میں اہل روایت کی جعلی pure metaphysics میں ایک اصطلاح متعارف کی گئی ہے creative imagination جو اصل میں تخیل کا ایک نہایت گھٹیا سا ترجمہ ہے کیونکہ تخیل تو ہوتا ہی creative ہے۔ عرفان میں اصل چیز خیال ہے اور اس کا کوئی ترجمہ ممکن نہیں ہے۔

Check Also

Taveel Umri, Burhapa Aur Khurak Ka Naya Scienci Zavia

By Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi