Tuesday, 14 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohammad Din Jauhar
  4. Dakhliyat Aur Hayat e Dakhli

Dakhliyat Aur Hayat e Dakhli

داخلیت اور حیاتِ داخلی

انفس و آفاق نہایت پیچیدہ موضوعات ہیں۔ ہمارے ہاں عرفانی علوم کے انتشار اور ان سے عمومی لاتعلقی کی فضا میں داخلیت اور انسانی انفس کے بارے میں گفتگو کی علمی زمین شور زدہ ہو چکی ہے اور وہاں اب کوئی روئیدگی نہیں ہے۔ جدید نفسیات کے عروج اور نفسیاتی طب / سائیکیٹری کے پیشہ بن جانے سے مسلم انفس کے بارے میں ہمارے روایتی علوم مزید غیرمتعلق ہو گئے۔ عہد حاضر میں انسانی عمل کا مدار قدر سے علم پر منتقل ہو جانے کی وجہ سے ہر طرح کا خلط مبحث علوم میں داخل ہوگیا ہے اور مسلم ذہن ان علوم میں ایک کٹی پتنگ کی طرح "محو پرواز" رہتا ہے۔ لیکن بطور مسلمان ہم درپیش زندگی کو چونکہ ایک بارِ امانت اور اسے بامعنی سمجھتے ہیں اس لیے ایسے موضوعات پر بات کرنا مکلف ہونے کی ذمہ داری کو پورا کرنا ہے اور قطعی ناگزیر ہے۔

دوسری طرف، جدیدیت کی پیدا کردہ جدید سیاسی اور معاشی قوتوں اور ان کے قائم شدہ نظام کے مکمل تسلط اور عین اسی نظام کے پیدا کردہ علوم کے غلبے میں ایک مسلمان کے لیے انسانی آفاق کے بارے میں بات کرنے کے علمی وسائل کا بھی کال پڑا ہے۔ آفاق، ارض اور دنیا کا مجموعہ ہے۔ جدید آفاق کے ارضی پہلو کو سائنسی علوم اور ٹکنالوجی نے گھیر رکھا ہے جبکہ دنیوی پہلو کو جدیدیت کے سیاسی اور معاشی علوم نے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور صورت حال یہ ہے کہ مسلمان کے لیے کھڑے ہونے کی کوئی جگہ بھی شاید باقی نہیں رہی ہے۔ اس باعث انفس و آفاق کی باہم اثراندازی اور اثر پذیری کے بارے میں بھی کچھ کہنے کی دشواریاں دوچند ہوگئی ہیں۔ لیکن انسان کی پیداکردہ کوئی بھی صورت حال اور کوئی بھی تصور چونکہ مطلق نہیں ہوتا، اس لیے گفتگو کے امکانات کو بھی پیش بند (foreclose) نہیں کیا جا سکتا اور ہمیں دستیاب وسائل میں اپنی سی بات کہنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔

گزارش ہے انسانی داخلیت (subjectivity) اپنے اندر ذہنی اور نفسی دونوں پہلو رکھتی ہے، لیکن اس پر گفتگو کرتے ہوئے اس امر کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے کہ داخلیت کے جدید تصورات اور انفس کا عرفانی تصور بالکل بھی ہم معنی نہیں ہیں۔ داخلیت (subjectivity) ایک جدید نفسیاتی اور فلسفیانہ تصور ہے اور جدیدیت کے ہر تصور کی طرح مکمل طور پر اثباتیاتی (positivistic) ہے۔ جدید نفسیات اور فلسفے نے انسانی داخلیت کو طبعی فطرت کی مادی اشیا و مظاہر کی طرح مکمل طور پر مقداری (quantify) بنا دیا ہے۔ جدید نفسیاتی اور فلسفیانہ علوم انسانی داخلیت کو ایک ناپتولی مظہر (quantifiable phenomenon) کے طور پر دیکھتے اور برتتے ہیں۔ اگر داخلیت کے جدید اثباتیاتی تصور کو علماً سمجھنا مشکل ہے تو اسے ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ جدید تعلیم کی اساس میں کارفرما ٹکسانومی (taxonomy) اسی مادی بنیاد پر ہی ممکن ہو سکی ہے۔

اگر انسانی عمل کی بنیاد کسی قدر پر نہ ہو اور اسے کسی "علمی" تصور پر قائم کرنا ہو تو اس کا مکمل طور پر مادی، اثباتیاتی اور تشبیہی ہونا ضروری ہوتا ہے اور اگر انسانی عمل کی بنیاد کسی اثباتیاتی اور تشبیہی علمی تصور پر کھڑی کی جائے تو یہ ناگزیر ہوتا ہے کہ وہ علم و عمل سیاسی طاقت اور سرمائے کے مؤثرات کی عملداری کے دائرے سے باہر کسی موجودیت کا حامل ہی نہ ہو۔ لہٰذا، انسانی داخلیت کی جدید نفسیاتی اور فلسفیانہ تعریفیں اور تعینات اس امر کو ممکن بنا دیتے ہیں کہ آفاق میں قائم، کارفرما اور فعال سیاسی طاقت اور سرمائے کے مؤثرات کو انسانی داخلیت تک نہ صرف توسیع دی جا سکے بلکہ ایسی داخلیت کو ان قوتوں کا پیدائیہ (product) ہی قرار دے دیا جائے۔

جدید مغربی مفکرین انسانی داخلیت کے لیے کسی طرح کی اخلاقی اور روحانی خودمختاری تسلیم نہیں کرتے اور اگر ان کی بات تسلیم کر لی جائے تو تکلیف (existential obligation) اور انسان بطور مکلف مخلوق کا سوال ہی ختم ہو جاتا ہے۔ تکلیف کا سوال ختم ہوتے ہی مذہب کا سوال بھی بے معنی اور غیرمتعلق ہو جاتا ہے۔ مسلمان اہلِ علم کی ذمہ داری ہے کہ وہ جدیدیت کی قائم کردہ انفس و آفاق کی نئی نسبتوں کو ثقہ علوم میں بیان کرنے اور ان کا تریاق لانے کی استعداد کو سامنے لائیں۔

اثباتیاتی ہونے کی وجہ سے جدید داخلیت کا نفسیاتی اور فلسفیانہ تصور اصلاً نامیاتی (organic) اور ساختیاتی (structural) منطقوں تک محدود اور محدد ہے اور اس سے ہر طرح کے اخلاقی اور روحانی پہلو قطعی خارج ہو جاتے ہیں۔ نامیاتی ہونے کی وجہ سے یہ ایک ڈھلائیت (plasticity) رکھتی ہے اور اسے داخلیت سے خارج میں موجود سیاسی، معاشی اور ثقافتی مؤثرات کے مسلسل اطلاق اور اثراندازی سے ایک خاص رخ پر ڈھالا جا سکتا ہے اور یہ ڈھلائی اس قدر جذری نوعیت کی ہے کہ خود انسانی داخلیت کو عین انھیں قوتوں کی پیداوار قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ دورِ حاضر میں سیاسی طاقت، سرمایہ اور ٹکنالوجیائی ثقافت جدید انسانی داخلیت کے بنیادی ترین اور سب سے زیادہ طاقتور صورت گر ہیں۔ اس سے قطعی ظاہر ہے کہ جدید انسانی داخلیت کی تشکیل سے اخلاقی اور روحانی اقدار بنیاد ہی میں بے دخل ہیں۔

ٹکنالوجی، قانون اور گردشِ زر انسانی داخلیت کی ڈھلائی جس سانچے میں سامنے لاتے ہیں وہ بنیادی طور پر دو ہی ہیں: ایک ڈسپلن اور دوسرا لذت۔ اول الذکر انسان کے سماجی رویوں کی اور مؤخر الذکر انسانی آرزو کی تنظیم کاری سے ممکن ہوتا ہے اور یہ دونوں جدید طاقت اور سرمائے کی عملداری میں بروئے کار آتے ہیں۔ ٹکنالوجی، قانون اور گردشِ زر کی بنائی ہوئی عین یہی وہ جدید داخلیت ہے جس میں سے حیات داخلی کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ اب اس داخلیت میں ڈسپلن کی گراریاں تیزی سے گھومتی ہیں اور لذات محض کرنٹ کی طرح بہتی مٹتی ہیں۔ جدید انسان خود اپنی ہی خودی سے مکمل طور پر بے دخل ہو چکا ہے یا درست تر معنوں میں وہ اپنی ہی داخلیت میں اب مدفون ہے۔ جدید داخلیت (subjectivity) اور جدید خودی (self-hood) کے حوالے سے حیاتِ داخلی کا کوئی سوال ہی باقی نہیں رہتا کیونکہ وہ تحلیل ہو کر جدید سیاسی طاقت اور سرمائے کی حرکیات میں پورے طور پر ضم ہو جاتے ہیں۔

مذہبی معنوں میں یہ غفلت کے احوال ہیں جن میں انسان طاقت اور سرمائے کے نظام میں محض ایک پیداواری فیکٹر کے طور پر باقی رہتا ہے۔ غفلت خود فراموشی اور خدا فراموشی ہے، جبکہ خود شناسی اور خدا شناسی ہی بیداری ہے جس کا مطلب اپنے آپ سے بطور انسان متعارف و آگاہ ہونا اور رہنا ہے۔ جدید داخلیت کے لیے انسان اور خدا دونوں ایک ہی طرح کی اجنبی چیزیں ہیں۔ آج کل ہمارے صوفی کے لیے جدید داخلیت اسی طرح کی اجنبی چیز ہے جیسے جدید طاقت اور سرمائے کا نظام ہمارے سیاسی علما کے لیے ایک بالکل ہی اجنبی چیز ہے۔ جدید داخلیت کے سامنے ہمارا صوفی سلوک و عرفان کے روایتی وسائل سے دامن جھاڑ کر اٹھتا ہے اور اگر کچھ نصیب والا اور سمجھدار ہو تو اسراری مٹھی کو بند رکھتے ہوئے کچھ گرم بھی کر لیتا ہے اور ہمارے سیاسی ملا جدید آفاق میں قائم طاقت اور سرمائے کے نظام میں اپنا بستہ گروی رکھوا کے آتے ہیں اور اگر نصیب والے اور سمجھدار ہوں تو کھیسے میں کھنک سننے لگتے ہیں۔

گزارش ہے کہ تصوف اور عرفان کا تعلق انسانی انفس سے ہے، محض داخلیت سے نہیں ہے۔ داخلیت، انفس انسانی کا محض ایک تھوڑا سا حصہ اور جز ہے۔ داخلیت، انفس کا وہ حصہ ہے جس سے انسان انعکاسی طور پر آگاہ (reflexively conscious) ہے۔ جیسے ہر انسان جانتا ہے کہ یہ دنیا اور کائنات افق در افق اور افق تا افق پھیلی ہوئی ہے لیکن حس کے دائرے میں جتنی ہے وہ اس کا محض ایک جز ہی ہے اور انسان اسی سے آگاہ بھی ہے۔ انسان بخوبی جانتا ہے کہ دنیا صرف وہی نہیں ہے جو اس کے حس و مشاہدے میں ہے۔ اسی طرح ہر انسان اپنے انفس کے محض ایک چھوٹے سے منطقے سے ہی آگاہ (aware) ہے اور اس سے آگے تہہ در تہہ اور تہہ بر تہہ پھیلے ہوئے انفس کو جانتا ضرور ہے لیکن اس سے آگاہ نہیں ہے۔ جدید نفسیات نے تحت الشعور اور لاشعور کے تصورات سے "نامعلوم" انفس کے بارے میں ہی کچھ سخن آرائی کی کوشش کی ہے۔ جدید نفسیات اور جدید فلسفے نے انفس کی قیمت پر داخلیت خرید کی ہے اور یہ سخت گھاٹے کا سودا ہے۔ جدید داخلیت ایک پنجرے کی طرح ہے اور وہ انسان کی حیاتِ داخلی کا گھر نہیں بن سکتی اور جو صرف انفس ہی میں ممکن ہے۔

کافر و مسلم کا آفاق ایک ہے اور یکساں و مساوی ہے جبکہ انفس میں نہ کوئی یکسانیت ہے اور نہ کوئی تساوی۔ لہٰذا، ہم جائز طور پر مسلم انفس کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ مسلم انفس کی اصل معنویت یہ ہے کہ حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام کی ذات پاک ہر مومن کی اپنی جان یعنی انفس سے "اولیٰ" ہے۔ مسلم انفس کی کوئی وجودیات اور معنویت ممکن ہی نہیں ہے اگر اس میں ایک کھڑکی مستقل ذاتِ پاک علیہ الصلٰوۃ و السلام کی طرف کھلی ہوئی نہیں ہے اور آقا ہمارے حضور اسی وجہ سے ہیں۔ انفس، حیات ہے جو جسم میں بھی نزول کیے ہوئے ہے اور مسلم انفس بدن سے حی تک پھیلا ہوا ہے۔ روح کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ امر ربی ہے جو سِرّ ہے۔ انفس آگاہ حیات بدنی سے سرّ تک ہے، جو ایک جہان کی طرح ہے کیونکہ روح سڑی ہوئی مٹی سے نفخ الوہی تک ہے۔ حضرت مجدد رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ ارشاد فرمایا ہے کہ انسان خلاصۂ موجودات ہے۔ موجودات عالم ناسوت سے عالم جبروت تک ہیں اور وہ سب خلاصہ بن کر روح انسانی میں سمٹ آئی ہیں اور عالم روح ہی عالم انفس ہے۔ انسان صرف اپنی داخلیت سے آگاہ ہوتا ہے لیکن سلوکی ذرائع اور عرفانی وسائل سے سالک اپنی آگہی کو پورے انفس تک توسیع دینے کا ارادہ کر سکتا ہے۔ مرید اپنی آگہی کو داخلیت سے پورے انفس تک توسیع دینے والے صاحبِ عزم کا نام ہے۔

جدید داخلیت صرف psychic ہے جبکہ انفس اخلاقی اور روحانی ہے کیونکہ psychic احوال پر مشتمل جدید داخلیت اللہ تعالیٰ کی انفسی نشانیوں کا محل نہیں ہو سکتی۔ psychic نفس اور ذہن کی ادغامی حرکیات کا مظہر ہے۔ اگر ذہن حس عامہ (common sense) یا عقلی شرائط کے بجائے نفسی شرائط پر کام کرنے لگے تو نتیجہ psychic احوال کی صورت میں سامنے آتا ہے اور جدید داخلیت صرف یہیں تک محدود ہے۔ psychic احوال میں تصور اور قدر اپنی آزادانہ ثقاہت برقرار نہیں رکھ سکتے اور انسان کا اپنے آپ سے اور اپنے سے باہر کی دنیا سے تعلق اختلال کا شکار ہو جاتا ہے اور یہ وجودی اختلال سرمایہ داری نظام کے ساتھ خاص ہے۔ psychic احوال میں عقل اپنا وظیفہ سرانجام نہیں دے سکتی اور علم کی موت واقع ہو جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف مزاج اور مفاد انسانی اخلاقیات کی جگہ لے لیتے ہیں۔ انسانی نفس خیر و شر کا مستقر ہے۔ ارض شر سے خالی جبکہ دنیا شر (سیأت اعمالنا) سے معمور ہے جو نفس انسانی (شرور انفسنا) سے عمل کے ذریعے دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔ psychic احوال میں نفس انسانی کی خیر و شر پر تشکیل اور ذہن انسانی کی حق و باطل پر تشکیل ممکن نہیں رہتی۔ نفس انسانی میں شہوت اور غضب کی طاقتور جبلتیں ہر وقت فعال رہتی ہیں اور جدید سیاسی طاقت اور سرمائے کا نظام انھی قوتوں کی تنظیم کاری سے جدید داخلیت کی تشکیل کو مکمل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

اس وقت تصوف میں جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ جدید داخلیت سے انفس کی طرف ارادی ہجرت کی ہے۔ جدید آفاق سے امر (nomos) کے بے دخل ہو جانے اور انفس سے کلمۂ ذکر (logos) کے محو ہو جانے سے یہ کام ازحد مشکل ہوگیا ہے۔ مسلم معاشروں میں فرد کی داخلی تشکیل اغلباً psychic احوال پر قائم ہے جس کی وجہ سے ذہن کی عقلی فعلیت اور نفس کی اخلاقی فعلیت کا ایک ہمہ گیر بحران پیدا ہوگیا ہے اور یہ احوال فطرت انسانی کی بھی نفی ہیں۔ اسلام ہدایت کا علمبردار اور فطرت کا پاسبان ہے۔ فی زمانہ صوفی شیخ کی اولین اور بنیادی ترین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ مسلم ذہن کی تعقلاتی صحت کو بحال کرے کیونکہ آج کی دنیا میں مشعلِ عقل کے بغیر انفس و آفاق میں سیر و سفر ممکن ہی نہیں ہے۔ تعقلاتی صحت کی بحالی کے سارے نسخے امام عالی مقام غزالی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ہاں موجود ہیں۔ عہدِ جدیدیت میں بے عقل تقویٰ کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی اور غزالیائی عقلیت کی بازیافت ہی اس وقت ہمیں فرد سے تہذیب تک پھیلے ہوئے بحران سے نکال سکتی ہے۔

Check Also

Jhoot, Hafza Aur Kamyabi Ki Kahani

By Mujahid Khan Taseer