Toba Ki Dehleez Par Khara Gunehgar
توبہ کی دہلیز پر کھڑا گناہگار

ہم کتنے نادان ہیں نا؟ صبح کی پہلی کرن سے لے کر رات کی آخری انگڑائی تک، زندگی کی بساط پر مہرے بدلتے رہتے ہیں، سجدوں کا سودا کرتے ہیں، خواہشوں کے بت تراشتے ہیں اور پھر ایک دن تھک ہار کر آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر پوچھتے ہیں کہ ہماری زندگی اتنی بے رنگ اور دل اتنے بے سکون کیوں ہیں؟
ہم بھول جاتے ہیں کہ رنگ تو اس کے ہاتھ میں ہے جو تصویر بنانے سے پہلے مصور کے ذہن میں خیال کو جنم دیتا ہے۔ کبھی تنہائی میں بیٹھ کر اپنے دل کی دھڑکن پر ہاتھ رکھ کر سوچا ہے کہ یہ جو دھک دھک کا ایک تسلسل ہے، یہ کس کا حکم ہے؟
یہ کوئی مشین نہیں جس میں کوئی بیٹری لگی ہو۔ یہ اللہ کی شان ہے، یہ اس کا نظام ہے کہ جب تک وہ چاہتا ہے، یہ مٹی کا پُتلا سانسوں کی ڈوری سے بندھا اچھلتا کودتا پھرتا ہے اور جس دن وہ حکم دیتا ہے، لمحوں میں بڑے بڑے سورما اور بادشاہ بھی خاک کا ڈھیر بن جاتے ہیں۔
ہم گناہوں کی دلدل میں گردن تک دھنسے ہوتے ہیں، اندھیری راتوں کے بند کمروں میں جب ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں کوئی نہیں دیکھ رہا، تب بھی وہ دیکھ رہا ہوتا ہے۔ لیکن اس کی شانِ کریمی تو دیکھیے کہ وہ ہمارے گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے، ہمیں لوگوں کی نظروں میں ذلیل نہیں کرتا اور صبح پھر ہمارے رزق کا انتظام ویسے ہی کرتا ہے جیسے اپنے کسی مقرب بندے کا کر رہا ہو۔ اگر اللہ ہمیں ہمارے گناہوں پر فوراً پکڑنے لگتا، تو زمین پر ایک جاندار بھی باقی نہ بچتا۔ ہم رزق کے پیچھے بھاگتے ہیں، نوکریوں کے پاؤں پڑتے ہیں، افسران کی خوشامد کرتے ہیں، مگر کبھی اس پرندے کو دیکھا ہے جو صبح خالی پیٹ گھونسلے سے نکلتا ہے اور شام کو اڑتا ہوا جب واپس آتا ہے تو اس کا پوٹا بھرا ہوتا ہے؟ وہ کس فیکٹری میں کام کرتا ہے، اس کا کون سا بینک اکاؤنٹ ہے؟ کوئی نہیں، اسے صرف اپنے رب کی رزقِ رزاقی پر یقین ہوتا ہے اور ایک ہم اشرف المخلوقات ہیں، جو تجوریوں کے منہ بند کرکے بھی رات کو سکون کی نیند نہیں سو پاتے۔
ہم اکثر معجزے تلاش کرتے ہیں، کوئی کہتا ہے مجھے سمندر کی لہروں میں اللہ لکھا دکھا دو، کوئی کہتا ہے بادلوں کی گرج میں اس کا نام سنا دو۔ ارے نادان دل! ذرا اپنے وجود کی طرف تو دیکھ، ہماری آنکھ کا یہ پُتلا جو بغیر کسی بجلی اور کیمیکل کے لاکھوں رنگوں کو سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں پہچان لیتا ہے، ہمارے جگر کا وہ کارخانہ جو خاموشی سے زہر کو امِرت میں بدلتا رہتا ہے، وہ کائنات کی وسعتیں جہاں اربوں کہکشائیں بغیر کسی ستون کے تیر رہی ہیں، جہاں نہ کوئی حادثہ ہوتا ہے اور نہ کوئی ستارہ اپنے مدار سے انچ بھر ادھر ادھر ہوتا ہے۔ یہ سب کیا ہے؟ یہ اس کی قدرت کا شاہکار نہیں تو اور کیا ہے؟ وہ جو پتے کے گرنے سے لے کر سیاہ رات میں سیاہ پتھر پر چلنے والی چیونٹی کے پاؤں کی آہٹ تک سے واقف ہے۔
کب تک بھاگیں گے ہم اس دنیا کے پیچھے؟ یہ دنیا ایک سراب ہے، ایک دھوکا ہے۔ ہم جس عہدے، جس دولت، جس حسن اور جس جوانی پر ناز کرتے ہیں، وہ ایک دن مٹی میں ملنے والی ہے۔ قبر کی اندھیری کوٹھڑی میں نہ ہمارا بینک بیلنس کام آئے گا اور نہ ہمارا سماجی اثر و رسوخ۔ وہاں صرف ایک چیز کام آئے گی اور وہ ہے ہمارا اپنے رب سے تعلق۔ کتنی عجیب بات ہے کہ جب دنیا کا کوئی شخص ہمیں دھتکارتا ہے، تو ہم روتے ہیں، گڑگڑاتے ہیں، لیکن جب ہمارا رب ہمیں روز پانچ مرتبہ "حی علی الفلاح" یعنی آؤ کامیابی کی طرف کہہ کر اپنے در پر پکارتا ہے، تو ہم اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں۔ وہ تو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے، وہ تو ہم جیسے گناہ گار بندوں کی توبہ کا ایسے انتظار کرتا ہے جیسے کوئی ماں اپنے بچھڑے ہوئے اکلوتے بچے کا کرتی ہے۔
ہم گناہوں کے پہاڑ بھی لے کر جائیں گے نا، تو اس کی رحمت کے سمندر کے سامنے وہ پہاڑ ریت کے ذرے کی طرح غائب ہو جائیں گے، شرط صرف ایک ہے کہ سچے دل سے اس کی طرف پلٹنا سیکھیں۔ آج وقت ہے، ابھی سانسیں چل رہی ہیں، ابھی مہلت باقی ہے اور توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ آئیں اکیلے میں بیٹھیں، سر سجدے میں رکھیں اور اپنی آنکھوں سے دو قطرے ندامت کے بہا کر دیکھیں۔ واللہ! روح کو وہ سکون ملے گا جو کائنات کی کسی دولت سے نہیں خریدا جا سکتا۔ اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں، اس سے پہلے کہ ہمیں اس کی طرف لوٹا دیا جائے، جہاں توبہ کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہوگا۔ فیصلہ اب ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے کہ سرکشی کی یہ چند روزہ عارضی زندگی چننی ہے، یا سجدے کی وہ دائمی لزت جو روح کو لازوال کر دیتی ہے۔

