Saturday, 24 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Malik Asad Jootah
  4. Taleem, Siasat Aur Shaoor Ka Sangam Aik Fikri Mutala

Taleem, Siasat Aur Shaoor Ka Sangam Aik Fikri Mutala

تعلیم، سیاست اور شعور کا سنگم ایک فکری مطالعہ

​تعلیمی ادارے کی فضائیں جب تک کتابوں کی خوشبو اور علمی مکالمے کی تپش سے مہکتی رہتی ہیں، قوم کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں تصور کیا جاتا ہے۔ یہ وہ مقدس ایوان ہیں جہاں انسانیت کی معراج کا سفر شروع ہوتا ہے، مگر جیسے ہی ان ایوانوں میں سیاست کا لفظ گونجتا ہے، ذہنوں میں خدشات اور سوالات کے طوفان اٹھنے لگتے ہیں۔ ایک لکھاری کی حیثیت سے جب میں اس منظرنامے کا گہرا مشاہدہ کرتا ہوں تو مجھے سیاست اور طالب علم کا رشتہ ایک ایسی دو دھاری تلوار کی مانند نظر آتا ہے جو شعور کی جلا بھی کر سکتی ہے اور زندگی کی امنگوں کا لہو بھی۔

ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ سیاست محض اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کی دوڑ نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے عہد کے سماجی، معاشی اور نظریاتی مسائل کو سمجھنے کا دوسرا نام ہے۔ اگر ایک طالب علم خود کو محض نصابی کتابوں تک محدود کر لے اور اپنے گرد و پیش کی بدلتی ہوئی سیاسی رتوں سے بے خبر رہے، تو وہ ایک ڈگری یافتہ فرد تو بن سکتا ہے مگر ایک حساس اور بیدار مغز شہری کہلانے کا حقدار نہیں ٹھہرتا۔ علم وہی ہے جو انسان کو گرد و پیش سے باخبر رکھے اور اسے حق کے لیے آواز اٹھانے کا حوصلہ عطا کرے۔

​تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی کسی قوم کی جڑوں میں آمریت کا زہر اترا یا ناانصافی نے ڈیرے ڈالے، تو یہ طلبہ ہی تھے جنہوں نے اپنے لہو سے چراغِ سحر روشن کیا۔ تحریکِ پاکستان کے ہراول دستے سے لے کر دنیا کی عظیم انقلابی تحریکوں تک، نوجوانوں کا سیاسی شعور ہی وہ ایندھن ثابت ہوا جس نے تبدیلی کی مشعل کو جلائے رکھا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے بھی طلبہ کی طاقت کو پہچانا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نوجوانوں کا جذبہ اگر درست سمت میں مڑ جائے تو بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے۔ لیکن یہاں ایک نہایت باریک اور نازک لکیر کھینچنا لازم ہے۔ سیاست اگر فکر کی آبیاری کرے، اگر یہ نوجوانوں کو دلیل سے بات کرنا، اختلافِ رائے کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا اور ایک دوسرے کے نظریات کا احترام کرنا سکھائے، تو یہ ان کے کردار کی تعمیر کرتی ہے۔ سیاست کا اصل مقصد تو انسان کے اندر وہ ملکہ پیدا کرنا ہے جس سے وہ خیر اور شر کے درمیان تمیز کر سکے اور معاشرے کی فلاح کے لیے اپنا حصہ ڈال سکے۔

​المیہ تب جنم لیتا ہے جب سیاست کے نام پر ان معصوم ذہنوں کو نفرت کی بھٹی میں جھونک دیا جاتا ہے۔ جب تعلیمی ادارے سیاسی جماعتوں کی تجربہ گاہیں بن جاتے ہیں اور قلم کی جگہ جذباتیت اور تشدد لے لیتی ہے، تو علم کا سفر وہیں رک جاتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ سیاسی لیڈر اپنے مفادات کی خاطر طلبہ کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کا تعلیمی حرج ہوتا ہے بلکہ وہ معاشرے میں تقسیم اور تعصب کا بیج بھی بو دیتے ہیں۔ ایک طالب علم کے لیے سب سے بڑی سیاست یہ ہے کہ وہ پہلے خود کو علم کے زیور سے آراستہ کرے، کیونکہ وہ علم ہی ہے جو اسے حق اور باطل کے درمیان تمیز سکھاتا ہے۔ اسے ملکی حالات پر گہری نظر رکھنی چاہیے، اسے پارلیمان کے فیصلوں پر تعمیری بحث کرنی چاہیے اور اسے ایک فعال شہری کے طور پر اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہیے، مگر اس کا اصل میدان اور اس کی پہلی ترجیح لائبریری اور تجربہ گاہ ہی ہونی چاہیے۔

​حقیقت تو یہ ہے کہ جب سیاست تعلیم کے تابع ہوتی ہے تو معاشرے کو بلند پایہ مدبر، دوراندیش سیاستدان اور عظیم دانشور میسر آتے ہیں، لیکن جب تعلیم سیاست کے تابع ہو جائے تو پھر تعصب اور جہالت کے اندھیرے ہمارا مقدر بن جاتے ہیں۔ ہمیں آج ایک ایسے توازن کی ضرورت ہے جہاں طالب علم کے ایک ہاتھ میں کتاب ہو اور دوسرے ہاتھ میں شعور کا پرچم۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اسے کل جب عملی زندگی کے میدان میں قدم رکھنا ہے، تو اسے کس سمت میں چلنا ہے اور اپنی قوم کی کشتی کو کن بھنوروں سے نکالنا ہے۔ اگر طالب علم اپنی جوانی کے ولولوں کو علم کی روشنی میں ڈھال لے، تو وہ نہ صرف اپنا مستقبل روشن کرے گا بلکہ پوری قوم کے لیے ایک مینارِ نور ثابت ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جہاں قلم کی حرمت بھی سلامت رہے اور شعور کی تپش بھی ماند نہ پڑے۔

Check Also

Board For Peace: Aik Tanqeedi Jaiza

By Altaf Kumail