Sunday, 21 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Malik Asad Jootah
  4. Screen Ki Qaid Ya Shaoor Ka Zawal?

Screen Ki Qaid Ya Shaoor Ka Zawal?

اسکرین کی قید یا شعور کا زوال؟

تاریخ کا کارواں گواہ ہے کہ انسانی تہذیب نے جب بھی مادیت کی اندھی دوڑ میں اپنے داخلی وجود اور روحانی اقدار کا سودا کیا، وہ ترقی کے اوجِ ثریا پر پہنچ کر بھی زوال کے گہرے گڑھوں میں جا گری۔ آج ہم جس اکیسویں صدی کے سائنسی انقلاب اور ڈیجیٹل دور کا جشن منا رہے ہیں، وہ دراصل انسانی شعور کی آزادی پر ایک ایسا خاموش پہرہ ہے جس نے انسان کو اپنے ہی ہاتھوں تراشے ہوئے مٹیاروں (روڈز) اور اسکرینوں کا قید باجگزار بنا دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) اور الیکٹرانک ایجادات کے اس ہنگامہ خیز دور میں، سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ مشینیں انسانوں کی طرح سوچنے لگی ہیں، بلکہ لرزہ خیز حقیقت یہ ہے کہ انسان مشینوں کی طرح بے حس، مشینی اور جذبات سے عاری ہوتا جا رہا ہے۔

ٹیکنالوجی کی اس بظاہر چمکتی دمکتی دنیا نے انسان کو پوری کائنات سے جوڑنے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن اس کا انجام یہ ہوا کہ انسان اپنے مصلے، اپنے آنگن اور اپنے وجود سے ہی اجنبی ہوگیا۔ سوشل میڈیا کے نام نہاد رابطوں نے دلوں کے حقیقی فاصلوں کو سکیڑنے کے بجائے خاندانی رشتوں کے تقدس اور برادری کے سانجھے پن کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے۔ آج ایک ہی چھت کے نیچے بیٹھے ہوئے وجود ایک دوسرے کی دھڑکن اور آواز سننے کے بجائے اپنے اپنے ہاتھ میں تھمے ہوئے شیشے کے ٹکڑوں (موبائل) میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ مصلحت اور مصروفیت کا یہ وہ کوڑا کرکٹ ہے جس نے ہماری روایتی ہمدردی، اخلاص اور باہمی مروت کے تانے بانے کو بکھیر کر رکھ دیا ہے اور ہم ایک ایسے ہجوم میں بدل چکے ہیں جہاں ہر شخص تنہا ہے۔

اس ڈیجیٹل غلامی کا سب سے ہولناک پہلو نئی نسل کے فکری شعور کا اغوا ہے۔ وہ کتابیں جو ذہنوں کو جلا بخشتی تھیں اور وہ قلم جو انقلاب کی نوید بنتے تھے، آج الگورتھم کی بچھائی ہوئی بساط پر ڈھیر ہو چکے ہیں۔ ہماری سوچنے، سمجھنے اور تخلیق کرنے کی صلاحیت اب چند سیکنڈز کی ویڈیوز اور کلک کی محتاج ہو کر رہ گئی ہے۔ جب کوئی قوم اپنی سوچ کا محور اور فیصلے کی قوت مشینوں کے حوالے کر دیتی ہے، تو اس کی خودداری اور ایمانی فراست دم توڑ دیتی ہے۔ علم اب حکمت نہیں رہا بلکہ معلومات کا ایک بے ہنگم سیلاب بن چکا ہے، جو انسان کو سچائی کی گہرائی تک پہنچنے سے روکتا ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ترقی کے اس سحر سے باہر نکلیں اور اپنے گمشدہ شعور کو دوبارہ تلاش کریں۔ یہ تکنیکی ترقی اس وقت تک ایک سراب ہے جب تک یہ انسان کو انسان سے اور بندے کو اس کے رب سے دور رکھے۔ ہمیں اسکرینوں کی اس مصنوعی دنیا سے نکل کر حقیقی زندگی کی مٹی کی خوشبو کو محسوس کرنا ہوگا، رشتوں کی حرارت کو زندہ کرنا ہوگا اور اپنے فکری سرمائے کی حفاظت کرنی ہوگی۔ تاریخ جب اپنا حتمی فیصلہ سنائے گی، تو سرخرو وہی قومیں ہوں گی جنہوں نے مادی ترقی کے طوفان میں بھی اپنے اخلاقی اقدار، ضمیر کی روشنی اور انسانیت کے وقار کو سربلند رکھا۔

Check Also

Sadqa e Jaria Ki Aik Aur Surat

By Aftab Alam