Monday, 09 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Malik Asad Jootah
  4. Helmet Ya Muashi Khud Kashi?

Helmet Ya Muashi Khud Kashi?

ہیلمٹ یا معاشی خودکشی؟

​ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے لوگوں کی جان بھی بچائے اور ان کا روزگار بھی۔ لیکن جب جان بچانے کے نام پر ایسے فیصلے کیے جائیں جن سے غریب کی روٹی خطرے میں پڑ جائے، تو عوام میں پریشانی پھیلنا لازمی ہے۔ آج کل لیہ میں ہیلمٹ کی پابندی کے حوالے سے جو سختی ہو رہی ہے، اس میں قانون پر عمل تو کروایا جا رہا ہے مگر اس کی قیمت شہر کے کاروبار کی تباہی کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے۔

​قانون کی پابندی اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہت ضروری ہے کیونکہ انسانی زندگی سے قیمتی کچھ بھی نہیں، لیکن قانون کا نفاذ کرتے وقت زمینی حقائق اور عوام کی جیب کو دیکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اگر قانون عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائے تو وہ بہتری کے بجائے مصیبت بن جاتا ہے۔

​ٹریفک پولیس کے بھاری جرمانوں نے سرکاری خزانہ تو بھر دیا، لیکن ایک غریب آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ مثال کے طور پر، ایک مزدور جو کنسٹرکشن سائیڈ پر کام کرکے مہینے کے بمشکل 30 ہزار روپے کماتا ہے، اگر اسے 18 ہزار روپے کا چالان تھما دیا جائے تو وہ کیا کرے گا؟ وہ شخص جو تپتی دھوپ میں خون پسینہ ایک کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے، وہ اپنی آدھی سے زیادہ کمائی صرف ایک چالان کی مد میں کیسے دے سکتا ہے؟ ایک دیہاڑی دار جو روزانہ ایک ہزار روپے کماتا ہے، چالان ہونے کے بعد وہ گھر خوشی لے جانے کے بجائے الٹا قرض دار بن کر لوٹتا ہے۔

​چالان کا اصل مقصد لوگوں کی اصلاح ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں فاقوں اور قرضوں کے دلدل میں دھکیلنا۔ جب جرمانوں کے ڈر سے گاہک بازاروں میں آنا چھوڑ دیں اور کاروباری سرگرمیاں آدھی رہ جائیں، تو سمجھ لیں کہ پورا معاشی نظام بیٹھ رہا ہے۔ ہوٹلوں اور بازاروں کی ویرانی اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اب قانون سے زیادہ اس کے نتیجے میں ہونے والے مالی نقصان سے ڈرنے لگے ہیں۔

​ہماری انتظامیہ سے گزارش ہے کہ قانون کی بالادستی ضرور قائم رکھیں، لیکن جرمانوں کی رقم غریب کی دیہاڑی اور عام آدمی کی بساط کے مطابق رکھی جائے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ شہریوں کی جان کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ان کے چولہے کا بھی خیال رکھے، تاکہ قانون عوام کے لیے سہولت بنے، نہ کہ کوئی آفت۔

Check Also

Muhammad Arif Jan Ke Sunehri Huroof

By Javed Ayaz Khan