Saturday, 28 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Malik Ajab Awan
  4. Pakistan Cricket Ki Bulandi Aur Pasti

Pakistan Cricket Ki Bulandi Aur Pasti

پاکستان کرکٹ کی بلندی اور پستی

پاکستان میں کرکٹ ایک کھیل ہی نہیں بلکہ ایک جزبہ اور جنون ہے جو کی ملک کے ہر شخص میں کوٹ کر بھرا ہوا ہے چاہے وہ بچہ ہو بوڑھا ہو یا جوان۔ پاکستان کے ہر گلی محلے میں کھیلنے والے ہر نوجوان کا یہ خواب ہوتا ہے کہ وہ بھی پاکستان کے لیے کرکٹ کھیلے۔ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں مگر بدقسمتی سے وہ سفارشی کلچر کی نظر ہو جاتا ہے۔

اگر ہم پاکستان کرکٹ کی موجودہ صورت حال پر نظر ڈالیں تو مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ ایک زمانہ تھا جب پاکستان کرکٹ اپنے عروج پر تھی انضمام الحق ہو محمد یوسف یا پھر وسیم اکرم اور عمران خان۔ یہ سب وہ نام ہیں جنھوں نے پاکستان کا نام پوری دنیا میں فخر سے بلند کیا۔

اس دوران ہم 1992 کا ورلڈ کپ کیسے بھول سکتے ہیں جب پاکستان ٹیم نے عمران خان کی کپتانی میں پہلا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا اور اس کے بعد پھر 2017 میں سرفراز احمد کی کپتانی میں چیمپین ٹرافی اپنے نام کی۔

اس کے بعد پاکستان 2021 کے ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچا مگر شکست ہوہی اور اس کے بعد سے پاکستان کرکٹ کے حالات بہت خراب ہیں۔ 2025 کی چیمپین ٹرافی کی بات کریں تواس میں پاکستان ٹیم کے کارکردگی نہایت ہی ناقص اور مایوس کن رہی۔ پھر یہی سب ہوگا جب میرٹ کی بجائے ایک سفارشی اور من پسند کھلاڑیوں پر مبنی ٹیم کی سلیکشن ہوگی۔

تو پھر ہم کیسے اچھی کارکردگی کی امید رکھ سکتے ہیں۔ ہماری کرکٹ ٹیم کا ہر 6 ماہ بعد کوچ تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی لوکل کوچ لائیں تو کھلاڑیوں کے تنازعات ہی ختم نہیں ہوتے اور اس کی بہترین مثال احمد شہزاد اور وقار یونس ہیں آئے دن ان کے تنازعات جنم لیتے تھے۔

اس کے برعکس اگر کوئی غیر ملکی کوچ لایا جاتا تو کچھ کھلاڑیوں کو انگریزی زبان سمجھنے میں دشواری پیش آتی تھی۔ جب عمران خان کی حکومت آہی تو انہوں نے دربارہ ریجنل کرکٹ کو بحال کیا جو کی ایک اچھا فیصلہ تھا مگر اس میں بھی ابھی بہت مسائل ہیں۔

ہماری کرکٹ ٹیم میں سلیکشن کا معیار پی ایس ایل پر کیا جاتا ہے اور ٹیسٹ کرکٹ کی سلیکشن بھی پی ایس ایل کی پرفارمینس پر کی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ چیرمین محسن نقوی نے مکمل چمپئن ٹرافی پاکستان میں کامیابی سے کروائی سوائے بھارت کے تمام ٹیموں نے پاکستان کا دورہ کیا اور اپنے میچز کھیلے۔ اگر اپنی ٹیم کی کارکردگی کی بات کریں تو بہت کی ناقص کارکردگی رہی۔ یہی ہوگا جب میرٹ کی بجائے سفارش پر ٹیم بنے گی۔ بدقسمتی سے جو کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں انکو نظر انداز کرکے اپنے من پسند کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کیا جاتا ہے اور میرٹ کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔

مستقبل میں ہم یہی امید کرتے ہیں کے پاکستان کرکٹ کے حالات بہتری کی طرف جائیں گے اور اگر پاکستان کرکٹ ٹیم اسی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی رہی جیسے چمپئن ٹرافی میں کی تو پھر پاکستان کرکٹ کا اللہ ہی حافظ ہے۔

ابھی 07 فروری سے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ شروع ہو رہا ہے جو کی سری لنکا اور بھارت میں ہوگا جبکہ پاکستان بھارت کھیلنے کے لیے نہیں جاہے گا اور اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا اور اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان ٹیم کیسی پرفارمینس کرتی ہے خاص طور پر بڑے کھلاڑی بابر اعظم، شاہین آفریدی، نسیم شاہ اور فخر زمان ان سب پر پاکستانی شائقین کی نظریں ہوں گی۔

Check Also

Dindim

By Rao Manzar Hayat