Thursday, 01 December 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Mahmood Fiaz

Aik Chaye Ka Qarz

چار جماعتیں پڑھ کر عالم فاضل سمجھنا ایک ایکسپریشن ہے۔ عالم فاضل تو کیا بننا ہے مگر میں نے اپنی زندگی کی پہلی چار جماعتیں ایک ٹاٹ اسکول میں پڑھیں۔ جو ایک مزار کے بغل میں واقع تھا۔ کمروں کی حالت بوسیدہ تھی اس لیے اکثر کلاسیں مزار کے بوڑھ کے درخت کی گھنی چھاؤں تلے ہوا کرتی تھیں۔ گاؤں میں واقع یہ اسکول لاہور شہر کے مضافاتی قصبے سے قریب ترین تھا، جہاں میرا بچپن گذرا۔ بوڑھ کے درخت نیچے بیٹھ کر پڑھتے ہوئے ہمارے چاروں طرف گاؤں کی زندگی چلتی رہتی۔ کوئی گڈ (بیل گاڑی) والا اپنے بیلوں کی جوڑی ہنکاتا گذرتا تو "ماشٹروں " کو سلاماں لیکم کرتے گذر جاتا۔ زرا دور سامنے کھیتوں سے کچھ پہلے ایک چھپڑ (تالاب کا لفظ اس کے لیے ناکافی ہے) ہوا کرتا، جہاں گاؤں کی بھینسیں، انکے چرانے والے لڑکے اور بطخیں سب باہمی اتفاق و سلوک سے تیرتے پھرتے۔

اس اسکول سے "گریجوئشن" کے بعد میں شہر کے اسکول میں داخل ہوا تو چند ماہ بعد نہ جانے کونسا سرکاری کاغذ تھا جو اس اسکول سے لینے کی ضرورت پڑ گئی۔ میرے ماموں جو ان دنوں ہمارے پاس رہتے تھے، مجھے ساتھ لے کر وہ سرٹیفیکیٹ لینے گئے۔ اسکول کے ہیڈ ماسٹر نے جو میرے استاد بھی تھے بتایا کہ اس سرٹیفیکیٹ کو فلاں فلاں ایجوکیشن والے سے مہر لگوا کر بنوانا ہے۔ اور وہ یہ سارا کام کر لیں گے، آپ شام کو گھر سے وہ سرٹیفیکیٹ لے جانا۔

وہ شام آج کی شام سے بھی زیادہ وضاحت کے ساتھ میرے ذہن پر نقش ہے۔ کیسے میں اور ماموں اس استاد صاحب کے گھر پہنچے۔ گلیوں میں سے پوچھ پوچھ کر ایک نیم تاریک گھر میں داخل ہوئے۔ جو اینٹوں سے بنا ایک نامکمل گھر تھا۔ جو بوجوہ مالک مکان نے ایسے ہی کرائے پر اٹھا دیا تھا۔ جس کو استاد صاحب نے کرائے پر لے رکھا تھا۔ جس "ڈرائنگ روم" میں ہمیں بٹھایا گیا وہاں اسکول ہی سے لائی گئی دو تین کرسیاں اور ایک بنچ نما میز تھی۔ کمرے کا فرش اور دیواریں گیلی اور ٹھنڈک بکھیر رہی تھیں۔ دروازہ یا کھڑکی نہ ہونے کی وجہ سے بیرونی ہوا بھی سیدھی لگ رہی تھی۔ اگرچہ کھڑکی پر ایک کھیس کو پردے کی جگہ لگا کر ہوا کی روک تھام کی گئی تھی۔

اس سرٹیفیکیٹ کے "بنوانے" پر کچھ "خرچہ پانی" کا بھی استاد صاحب نے بتایا تھا۔ جو بقول ماموں رشوت تھی۔ جبکہ میرے حساب سے استاد صاحب کا اس "رشوت" سے کچھ زیادہ نہیں بننے والا تھا کہ ایسا کیس اکا دکا ہوتا تھا۔ دوسری جانب کبھی کبھار کا موقع ملنے پر ایک پرائمری استاد اپنی تنخواہ کے علاوہ ملنے والے پیسوں کو "حلال" کرنے کے لیے عام کلرکوں سے کہیں مختلف انداز میں پیش آ رہا تھا۔ ماسٹر صاحب نے بنا ہوا سرٹیفیکیٹ اندر سے لا کر ماموں کے ہاتھ میں دیا اور ماموں نے کچھ دیر دیکھنے کے بعد جیب میں ہاتھ ڈالا اور "کچھ روپے" ماسٹر صاحب کو دے دیے۔ ایک دس سالہ بچے کے لیے یہ "ڈیل" بے معنی تھی، اخلاقی یا سماجی لحاظ سے۔ وہ بچہ کچھ اور ہی دیکھ رہا تھا۔

اٹھتے ہوئے ماموں نے الوداعی ہاتھ ماسٹر صاحب کی طرف بڑھایا۔ ماسٹر صاحب نے ہاتھ ملاتے ہوئے چائے کا پوچھ لیا۔ اور ماموں نے چائے کی وہ دعوت قبول کر لی۔ دس سال کا ہونے کے باوجود مجھے سمجھ آ رہی تھی کہ وہ دعوت قبول نہیں کرنا چاہیے تھی۔ مگر ماموں واپس بیٹھ چکے تھے اور ماسٹر صاحب چائے کا انتظام کرنے اندر جا چکے تھے۔

اس نامکمل مکان کے پچھلا حصہ رہائش کے لیے مخصوص تھا، جہاں اس وقت ماسٹر صاحب اور انکی بیوی کی دھیمی دھیمی آوازیں ہمیں موصول ہو رہی تھیں۔ الفاظ واضح نہیں تھے، مگر تاثر بےچارگی کا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ماسٹر صاحب ایک ایلومینیم کی چھوٹی بالٹی ہاتھ میں لیکر نکلے اور تیزی سے ہمارے کمرے کے پاس سے یہ کہہ کر گذر گئے کہ میں دو منٹ میں آتا ہوں۔ انہوں نے متوقع سردی کے پیش نظر اپنی چادر کو وجود کے علاوہ منہ اور ناک پر بھی لپیٹ لیا تھا۔

کافی دیر بعد ماسٹر صاحب کی واپسی ہوئی، بالٹی میں شائد دودھ تھا جو وہ اندر پہنچا کر ہمارے پاس آ بیٹھے۔ پھر ماموں اور ماسٹر صاحب وقت کاٹنے کو باتیں کرتے رہے، اور چائے پکتی رہی۔ خاصی دیر بعد ماسٹر صاحب کو اندر بلایا گیا اور پھر وہی دھیمی آوازیں اور بیچارگی۔ تھوڑی دیر بعد ماسٹر صاحب پھر باہر کو نکل گئے۔ پھر واپسی ہوئی اور پھر وہ ہمارے پاس آ بیٹھے۔ چائے پکتی رہی۔

دوستو! میری کہانی اتنی لمبی نہیں ہو سکتی، جتنی وہ شام لمبی ہو چکی تھی۔ جتنا وہ انتظار لمبا تھا جو اس چائے کے لیے میں کر رہا تھا۔ میرے چھوٹے سے ذہن میں جو بھی تھا، کسی بھی لحاظ سے اچھا نہیں تھا۔ غربت میرے لیے نئی چیز نہیں تھی۔ مگر اس قدر بے سروسامانی۔۔ اس قدر فقر و فاقہ۔۔ وہ استاد جن کو میں اسکول کا خدا مانتا تھا۔۔ میرے سامنے ایک بیچارگی کی تصویر میں موجود تھے۔ انکی بیوی جن کو میں دل ہی دل میں استانی جی مان چکا تھا، میرے تصور میں چائے پکاتے نہ جانے کس کس خیال سے گذر رہی تھیں۔ ان طویل لمحوں میں مجھے ماموں پر شدید غصہ آ رہا تھا جو اطمینان سے ماسٹر صاحب سے گپ لگا رہے تھے۔

تھوڑی دیر بعد ماسٹر صاحب کو اندر سے آخری بار بلایا گیا، ماسٹر صاحب کی واپسی چائے کے ساتھ ہوئی۔ ایک ہاتھ میں وہی ایلومینیم کی بالٹی جس میں کچھ دیر پہلے دودھ لایا گیا تھا، اور دوسرے ہاتھ میں چائے کے تین کپ، جن کو بنچ پر رکھ کر ماسٹر صاحب نے احتیاط کے ساتھ بالٹی سے چائے کپوں میں انڈیلی۔ لالٹین کی روشنی میں میں نے دیکھا کہ بالٹی کا پیندا چولہے کی آگ سے سیاہ ہو رہا تھا۔

Check Also

Magarmach Admi

By Azhar Hussain Bhatti