Zafar, Olga, Gabriel Aur Sezar
ظفر، اولگا، گیبرئیل اور سیزر

ظفراقبال وٹو میرے بچپن کے دوست اور استاد ہیں، استاد اس طرح کہ وہ جماعت میں مسلسل اول آتے تھے اور میں اوسط درجے کا طالب علم، سو ان کے علم سے کسبِ فیض حاصل کرتا تھا۔ ہم ایک دوسرے کے گھر کے افراد بن چکے تھے۔ میرے والدین ان کو ہمارا حقیقی بھائی ہی سمجھتے ہیں۔ مجھے بھی ان کے کندیاں کے آبائی گھر جا کر قیام کرنے کا موقع ملا۔ بعدازاں روزگار کا جبر ہمیں دور لے گیا، ملاقاتوں میں طویل تعطل آنے لگا، البتہ محبت کہنہ سال ارغوانی مشروب کی طرح دو آتشہ ہے۔ میری کتاب " آدمی" کے کئی کرداروں سے وہ تب ہی سے خوب واقف ہیں، پہریدار اقبال، ترکی میں ملنے والی جرمن اولگا اورسوئس گیبرئیل، دست شناس مطیع الرحمان ہو یا اوائل جوانی میں دیوانہ کر دینے والی ایک گُل بدن غُنچہ دہن نازنین(وہ قتالۂ خرد پردہِ اخفا میں رہے گی)، ظفر میرے محرمِ راز، ہم دم ہر دم ٹھہرے۔
آج انہوں نے اس خاک سار، خاک بسر، مُشتِ خاک کا خاص محبت سے تذکرہ کیا ہے:
ظفر اقبال وٹو
اگر آپ نے آج کے دور کی کلاسک نثر پڑھنی ہے تو عرفان جاوید کی کتاب" آدمی" کا مطالعہ ضرور کریں۔ رواں اور خوب صورت طرزِ تحریر اور عمدہ تحقیق سے مرصع یہ کتاب خود کہتی ہے کہ مجھے ایک نشست میں پڑھا جائے۔
کہنے کو تو یہ کتاب چھ لوگوں کے خاکوں پر مشتمل ہے مگر دراصل یہ عرفان جاوید کے اپنے ہی 6 مختلف روپ ہیں۔
آصف اسلم فرخی صاحب کی علمیت ہویا اسحاق نور کی ستارہ شناسی و علم نجوم ہو، گبرائیل کی جہاں گردی ہو یا مطیع الرحمن کا علمِ دست شناسی، بڈی ماموں کی پُررونق زندگی ہو یا بانسری بابا کی درویشی، ہر رنگ میں عرفان کی جھلک نظر آئے گی۔
آصف اسلم فرخی صاحب کا خاکہ آپ کو لاہور اور کراچی کے ادیبوں اور ادبی زندگی کے ماحول سے نہ صرف آشنا کرتا ہے بلکہ کسی بھی نامور انسان کی پیچیدہ معاشرتی اور ذاتی زندگی کے پیچ وخم بھی دکھاتا ہے۔
اسحاق نور کا خاکہ بہت حیران کن ہے جو کہ بازارِ حسن کے شب و روز سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک رسائی پاجانے والے ایک عام مگر غیر معمولی انسان کی زندگی کی داستان ہے جس نے زندگی اپنی مرضی کی شرائط پر بسر کی۔
گبرائیل کا خاکہ استنبول کا پورا سفرنامہ ہے جو کہ ہپی تحریک کے بیک گراونڈ میں جنم لینے والے ایک جہاں گرد کی داستان ہے۔ یہ سفر عرفان کے اولین دور کے افسانے "اولگا" کی تحریر کا بھی محرک بنا تھا جسے میں نے بہ زبانِ مصنف اشاعت سے کئی برس پہلے سنا تھا۔ اس خاکے میں آپ کو سول انجنئیر عرفان جاوید بھی نظر آئے گا جو کہ خالص ادبی انداز میں آپ کو استنبول کے مرکز کا نقشہ سمجھا رہا ہوتا ہے۔
مطیع الرحمن کا خاکہ عرفان کے دورِ شباب کے لا ابالی پن میں مطیع کے ساتھ کزارے گئے لمحوں کی یاداشتیں ہیں۔ تحریر کا دلچسپ حصہ وہ ہے جب عرفان کی گاڑی میں رات گئے مدد کے لیے اپنے محبوب پر جادو کروانے، اپنے گھر کی دیوار پھلانگ کر آنے والی لڑکی کو یہ کئی بار ایک عامل کے پاس لے جاتا ہے۔
بڈی ماموں کا خاکہ سب سے منفرد اور دلچسپ نظر آتا ہے۔ یہ ایک شوقین مزاج نوجوان کے قیامِ یورپ و امریکہ کی کہانی ہے جو ہمیشہ اپنے وقت سے آگے جیتا رہا۔ تمام عمر زندگی کی حسین یادیں ذخیرہ کرنے والا آخرِ عمر میں یاداشت کھو بیٹھا۔ اس خاکے کا انجام بہت جذباتی ہے جب اسے اپنا متروک یورپئین بیٹا مالدیپ میں جا ڈھونڈتا ہے۔
اقبال المعروف بانسری بابا کو میں خود کئی مرتبہ عرفان کے گھر مل چکا ہوں اور اس کے کتے سیزر سے بھی۔ یہ خاکہ میرے لئے بابا اقبال سے شناسائی ہونے کے سبب زیادہ دلچسپ رہا۔ یہ اللہ کی مخلوق سے محبت کرنے والے ایک عام سے نظر آنے والے خاص درویش کی داستان ہے جس سے چرند پرند اور حیوانوں کے دکھ بھی برداشت نہ ہوتے تھے۔
کتاب کی ہر سطر لاجواب اور ہر لفظ انتہائی محنت سے لکھا گیا ہے۔