Monday, 27 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. MA Tabassum
  4. Khaliq Nagar Ki Roshaniyan, Shukriya Maryam Nawaz

Khaliq Nagar Ki Roshaniyan, Shukriya Maryam Nawaz

خالق نگر کی روشنیاں، شکریہ مریم نواز

دنیا کے مشہور ماہرِ عمرانیات ابنِ خلدون نے صدیوں پہلے ایک سنہرا اصول بیان کیا تھا کہ "ریاست ایک وجود کی مانند ہے اور اس وجود کی صحت کا اندازہ اس کے کمزور ترین حصے سے لگایا جاتا ہے"۔ اگر کسی جسم کا ایک ہاتھ سونے کے زیورات سے لدا ہو لیکن پاؤں زخموں سے چور ہوں، تو آپ اس جسم کو صحت مند نہیں کہہ سکتے۔ یہی حال ہمارے معاشروں کا بھی ہے۔ ہم دہائیوں سے اسلام آباد اور لاہور کے ماڈل ٹاؤن یا گلبرگ جیسے علاقوں کو چمکا کر یہ سمجھتے رہے کہ پاکستان ترقی کر رہا ہے، لیکن ہم بھول گئے کہ اصل پاکستان ان گلیوں اور محلوں میں بستا ہے جہاں سورج ڈھلتے ہی اندھیرا اور خوف دیواروں سے لپٹ جاتا ہے، جہاں سڑکیں نہیں، کیچڑ ہوتا ہے اور جہاں سہولیات نہیں، صرف محرومیاں ہوتی ہیں۔

لاہور کے نقشے پر ایک ایسا ہی علاقہ "خالق نگر" ہے۔ یہ وہ بستی تھی جسے وقت کے حکمرانوں نے شاید اپنی فہرستوں سے خارج کر دیا تھا۔ اس علاقے کی پہچان کیا تھی؟ ایک طویل، بدبودار اور تعفن زدہ "گندی روہی" (نالہ)۔ یہ نالہ صرف پانی کا نکاس نہیں تھا، بلکہ یہ بیماریوں کا گڑھ، کوڑے کا ڈھیر اور علاقے کے مکینوں کے لیے ایک مستقل عذاب تھا۔ یہاں کے لوگ برسوں سے اس بدبو میں سانس لینے کے عادی ہو چکے تھے۔ سیاستدان انتخابات کے دوران آتے، سبز باغ دکھاتے، ووٹ لیتے اور پھر ان تنگ گلیوں کو اندھیروں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اپنے محلات میں واپس چلے جاتے۔ خالق نگر کے بچوں نے کبھی یہ خواب بھی نہیں دیکھا تھا کہ ان کی بستی بھی کبھی کسی بڑے شہر کے پوش علاقے کی طرح چمک سکتی ہے۔

لیکن پھر وقت نے پلٹا کھایا۔ پنجاب کی باگ ڈور ایک ایسی شخصیت کے ہاتھ میں آئی جس نے "تختِ لاہور" کی بجائے "عوام کی دہلیز" کو اپنی سیاست کا محور بنایا۔ وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جب "صاف ستھرا پنجاب" کا نعرہ لگایا، تو بہت سے نقادوں نے اسے محض ایک سیاسی نعرہ سمجھا، لیکن خالق نگر میں جو کچھ ہوا، اس نے ان تمام شکوک و شبہات کو دھو ڈالا۔ آج آپ خالق نگر کا رخ کریں تو آپ کو ایک حیرت انگیز تبدیلی نظر آئے گی۔ وہ گندی روہی، جس کے پاس سے گزرنا محال تھا، آج ایک خوبصورت "گرین بیلٹ" میں تبدیل ہو چکی ہے۔ حکومت نے صرف نالے کی صفائی نہیں کی، بلکہ اس کے کناروں کو پختہ کرکے وہاں درخت اور پودے لگا دیے۔ جہاں کبھی غلاظت کے ڈھیر تھے، وہاں اب سبزہ لہلہاتا ہے۔ یہ اقدام صرف خوبصورتی کے لیے نہیں ہے، بلکہ یہ اس علاقے کے ماحول کو بدلنے کا ایک بڑا منصوبہ ہے۔ درختوں کی اس قطار نے نہ صرف تعفن کو ختم کیا بلکہ مقامی آبادی کو وہ "آکسیجن" فراہم کی جو ان کا بنیادی حق تھا۔

لیکن اس کہانی کا اصل ہیرو وہ "سولر اسٹریٹ لائٹس" ہیں جنہوں نے خالق نگر کی راتوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ماضی میں اس علاقے میں رات کے وقت نکلنا اپنی جان اور مال کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف تھا۔ اسٹریٹ کرائمز کی شرح زیادہ تھی اور خواتین و بچوں کے لیے اندھیری سڑکیں کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھیں۔ لیکن مریم نواز کے وژن کے تحت یہاں جدید سولر لائٹس نصب کی گئیں۔ یہ لائٹس بجلی کے بریک ڈاؤن یا لوڈ شیڈنگ کی محتاج نہیں ہیں۔ یہ دن بھر سورج کی توانائی جذب کرتی ہیں اور جیسے ہی اندھیرا چھاتا ہے، خالق نگرکی سڑکیں "جگمگ جگمگ" کرنے لگتی ہیں۔ میں نے خود وہاں کے بزرگوں سے بات کی، ان کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو برسوں کی محرومی کے بعد کسی نعمت کے ملنے پر آتی ہے۔ ایک بزرگ نے مجھے بتایا کہ بیٹا! ہم نے زندگی اندھیروں میں گزاری، ہمیں لگتا تھا کہ ہم اس شہر کے شہری ہی نہیں ہیں، لیکن اب جب رات کو یہ روشنیاں جلتی ہیں، تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کو ہمارا بھی خیال ہے۔ یہ وہ "وقار" ہے جو ریاست نے ایک عام شہری کو لوٹایا ہے۔ جب ایک پسماندہ علاقے کا بچہ روشن سڑک پر کھیلتا ہے، تو اس کے اندر سے وہ احساسِ کمتری ختم ہو جاتا ہے جو اسے معاشرے سے دور رکھتا تھا۔

یہ صرف ایک بستی کی کہانی نہیں ہے، یہ ایک نئے گورننس ماڈل کی مثال ہے۔ مریم نواز نے ثابت کر دیا کہ ترقی وہ نہیں جو صرف بڑے اشتہاروں میں نظر آئے، بلکہ ترقی وہ ہے جو غریب کی گلی میں روشنی بن کر چمکے۔ خالق نگر میں سولر انرجی کا استعمال اس بات کی بھی دلیل ہے کہ حکومت پائیدار توانائی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس سے نہ صرف بجلی کے بلوں کی مد میں سرکاری بچت ہو رہی ہے، بلکہ ماحول پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ حکومتِ پنجاب کے دیگر منصوبے، جیسے کہ "کلینک آن ویلز" یا "نواز شریف آئی ٹی سٹی"، اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن خالق نگر جیسے چھوٹے اور مقامی منصوبے براہِ راست عوامی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ وہ چھوٹے چھوٹے اقدامات ہیں جو مل کر ایک بڑے انقلاب کی بنیاد بنتے ہیں۔ جب نالوں کے کنارے پارکس بنتے ہیں اور اندھیری سڑکیں سولر لائٹس سے منور ہوتی ہیں، تو عوام اور ریاست کے درمیان ٹوٹا ہوا رشتہ دوبارہ جڑنے لگتا ہے۔

آج خالق نگر کی بدلتی صورتحال دیکھ کر ہر منصف مزاج شخص یہ کہنے پر مجبور ہے کہ پنجاب اب صحیح معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ وہ لوگ جو تنقید برائے تنقید کے عادی ہیں، انہیں ایک بار خالق نگر کی ان روشن سڑکوں کا چکر ضرور لگانا چاہیے تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ "خدمت" کسے کہتے ہیں۔ میں خالق نگر کے مکینوں کی طرف سے صرف اتنا کہوں گا کہ مریم نواز صاحبہ! آپ نے اس پسماندہ علاقے کو جو نئی زندگی دی ہے، اس پر یہاں کا ہر شہری آپ کا مشکور ہے۔ آپ نے ثابت کر دیا کہ آپ صرف لاہور کی نہیں، بلکہ پورے پنجاب کی بیٹی ہیں اور آپ کے دل میں ہر مظلوم اور پسماندہ طبقے کے لیے درد موجود ہے۔ خالق نگر کا یہ "جگمگانا" دراصل آپ کے عزم کی روشنی ہے۔ اس شاندار تبدیلی پر پورے علاقے کی زبان پر ایک ہی صدا ہے، "شکریہ مریم نواز"۔ آپ کی محنت اور وژن نے خالق نگر کو اندھیروں سے نکال کر روشنیوں کے سفر پر ڈال دیا ہے۔ دعا ہے کہ ترقی کا یہ سفر اسی طرح جاری رہے اور پنجاب کی ہر بستی اسی طرح جگمگاتی رہے۔

Check Also

Kis Se Faryad Karen?

By Rao Manzar Hayat