Maryam Nawaz Ke Bete Ki Shadi
مریم نواز کے بیٹے کی شادی

مریم نواز کے بیٹے کی شادی کا آج کل بہت چرچا ہو رہا ہے۔ یہ شادی بہت دھوم دھام سے منائی گئی، شادی کے کھانے، شادی کے لباس، یہ سب چیزیں زیر بحث ہیں اور خوش ہونے اور خوشیاں منانے کا حق ہر کسی کو ہے اور خوشیاں منانے پر کوئی پابندی نہیں ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ان سب چیزوں کو ہم اپنے دین کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو ہمارے پاس ہر چیز کا جواب موجود ہے لیکن دین کو مذہب میں بدل دیا گیا ہے اور پھر شادی کی تقریب کا آغاز محفل میلاد سے ہوتا ہے جس میں نعتیں پڑھی جاتی ہیں۔ قرآن پاک بھی پڑھا جاتا ہے اور اللہ کے بابرکت نام کے بعد شادی کی تقریبات کا آغاز ہو جاتا ہے اور ہم دل کو تسلی دے لیتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے نام کے ساتھ شادی کی تقریبات کا آغاز کیا ہے۔
حضور ﷺ کی شان میں نعتیں پڑھی جاتی ہیں لیکن کروڑوں روپے خرچ کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ جس نبی کی زندگی ہمارے لئے نمونہ ہے ان کے متعلق حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ کا کوئی کپڑا آج تک طے کرکے نہیں رکھا گیا، اس لئے کہ ایک دھویا جاتا تھا اور دوسرا پہنا ہو ا ہوتا تھا۔
جب ہم کروڑوں روپے کے لباس پہنتے ہیں تو اس وقت ہماری زندگی کے سامنے حضور ﷺ کی زندگی کہاں ہوتی ہے۔
خوشیاں منانا اور اچھے لباس پہننا، یہ سب کچھ دین میں ہر گز منع نہیں ہے کیونکہ جنت کی زندگی میں اطلس کے ملبوسات، سونے چاندی کے زیورات کا زکر ہے۔
یہ باریک فرق ہے جو دین کی بناد ہے ہم اس کو سمجھ نہیں پائے، یہی بات جب حضرت شعیبؑ نے جب اپنی قوم سے کہی کہ مجھے صرف نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے تو ان کی قوم نے انھیں اس کی اجازت دے دی، لیکن جب بات معاشی نظام تک جا پہنچی تو وہ چلا اٹھے کہ یہ کونسی نماز ہے جو ہمیں اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتی کہ ہم اپنے مال کو اپنی مرضی سے خرچ کر سکیں۔
یہ فرق ہے مز ہب اور دین میں۔ جب دین کا نظام قائم ہوتا ہے، دین دراصل ایک نظام زندگی ہے وہ سب نظاموں پر غالب آکر رہتا ہے۔ اس نظام میں تمام انسان برابر اور یکساں احترام کے قابل ہوتے ہیں اور ہر کوئی صرف اپنی ضرورت کا رکھ کر باقی دوسروں کو دے دیتا ہے اور پھر معاشرہ جنت کا نمونہ بن جاتا ہے اور ہر شخص کو ہریر و اطلس کے لباس اور سونے چاندی کے زیورات میسر آ سکتے ہیں۔
یہ بات کوئی بھی سمجھ نہیں پاتا۔ دین کا نظام قائم کرنے کے بعد ہر کسی کو اس کی خواہشات سے بھی بہت زیادہ مل سکے گا۔ لیکن مریم نواز جس کرسی پر بیٹھی ہیں اس کی ذمہ داریاں اور تقاضے اس قدر ہیں کہ وہ ان کو یہ سب کچھ کرنے سے روکتے ہیں۔
جن کے رتبے ہیں سوا ان کی سوا مشکل ہے۔

