Izzat Ka Mayar Dolat
عزت کا معیار دولت

عزت کا معیار دولت ہمیشہ سے رہا ہے اور اس وقت تک رہے گا جب تک اللہ کا نظام غالب نہیں آ جاتا اور وہ ایک دن غالب آنا ہے۔ ایک دفعہ پہلے بھی غالب آچکا ہے جب حضرت عمر گیارہ لاکھ مربع میل پر پھیلی مملکت کے خلیفہ نے اپنے بیٹے کی شادی ایک دودھ بیچنے والی عورت کی بیٹی سے کی تھی کیونکہ وہ بچی اس قابل تھی کہ عمر رظہ کے فیصلے کی لاج رکھ سکے۔
اسلام نے شروع سے جب سے انبیاء کرام کا سلسلہ شروع ہوا یہ ہی دوہرایا کہ "و لقد کرمنا بنی ادم" کہ ہم نے بنی نوع انسان کو واجب التکریم پیدا کیا اور یہ بات تمام غریب، امیر ہر انسان کے لئے یکساں تھی۔
اس وقت اور آج بھی عزت کا معیار دولت تھی اور ہے۔ سلسلہ رشد و ہدایت کی ابتداء حضرت نوحؑ سے کرتا ہے اور اس وقت کشمکش ہی یہ تھی کہ قوم کے بڑے بڑے مترفین، سردار جو ان غریبوں کی محنت کے اوپر عیاشیاں کرنے والے تھے، انہوں نے محالفت کی تھی، ان کا مطالبہ یہ تھا کہ تمھاری دولت پر لبیک کہنے والے جو لوگ ہیں یہ چھوٹے چھوٹے کام کرنے والے زلیل لوگ ہیں، کمینے لوگ ہیں، ان میں کوئی کنجڑا، کوئی مزدور ہے ان سب کو آپ اپنے برابر کیوں بیٹھاتے ہیں۔ آج کل بھی گاؤں میں ایک لفظ "کمی کمین" استعمال ہوتا ہے۔
لیکن جب خدا کا نظام قائم ہوا تو انسانوں کی آنکھ کیا دیکھتی ہے کہ گیارہ لاکھ مربع میل پر پھیلی سلطنت کا خلیفہ ایک غلام حضرت بلالؓ کو سیدنا بلالؓ کہہ کر پکارتے تھے۔
حضرت عمر کی نماز جنازہ ایک غلام حضرت صہیبؓ نے پڑھائی۔ یہ تھا اسلام کا نظام جو دنیا دیکھ چکی ہے اور ایک بار دوبارہ دیکھے گئی لیکن شاید ہماری زندگیوں کے بعد، لیکن قائم تو ہوناہے۔
میں ساری زندگی اس نظام کے متعلق لکھتی رہی اور میں نے اپنی زندگی میں بھی کبھی رشتے بناتے ہوئے یہ نہیں یہ نہیں سوچا کہ عزت کا معیار دولت ہونا چاہیے، لیکن شاید دنیا اس کو بہت سادہ جانتی ہے اور نتیجے کے طور پر لوگوں نے سمجھا کہ شاید میں بہت سادہ ہوں اور مجھے عزت دینے کی ضرورت نہیں۔

