Multan International Airport
ملتان انٹرنیشنل ائر پورٹ

کہتے ہیں کہ کوئی بھی انٹرنیشنل ائیر پورٹ کسی شہر کا ہی نہیں بلکہ ملک یا خطے کا بھی پہلا تعارف ہوتا ہے۔ وہاں کی خوبصورتی، سہولتیں اور انتظامات پورے خطے کی نمائندگی کرتے ہیں ایک جانب وہاں کی خوبیاں یاد رکھی جاتی ہیں تو دوسری جانب وہاں پیش آنے والی تنگی اور تکلیف پورے خطے کے تاثر کو متاثر کرتی ہے۔ جنوبی پنجاب کے رحیم یار خان، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور کے ائیرپورٹس پر پروازوں کی معطلی سے جنوبی پنجاب کا پورا علاقہ ملتان ائیرپورٹ کا رخ کر رہا ہے۔ ملتان شہر کی مشہور چیزوں میں گرمی اور گرد کو تاریخی شہرت حاصل ہے۔
گو اس جغرافیہ میں اس ائیرپورٹ کو ایک بڑی سہولت اور نعمت شمار کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جب ملتان کی سوا نیزئے والی سورج کی تپش سے بچنے کو سایہ میسر نہ ہو اور انتظار گاہیں اور پارکنگ ایریا ز گرمی سے دہکتی محسوس ہوتی ہوں اور اشیا، خوردونوش اور پانی کے نرخ ایسا لگیں جیسے جہاز کے ساتھ ساتھ آسمان پر پہنچ گئے ہوں تو عوام کی مشکلات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ یہ عجیب تضاد ہے کہ ایک طرف جدید سفری سہولتوں کے دعوےاور دوسری جانب مسافر بنیادی آسائشوں، ٹھنڈے پانی، مناسب بیٹھک اور مناسب نرخوں پر اشیاء کے لیے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں ائیرپورٹ جو ایک تفریح اور خوشی کی جگہ ہے ایک آزمائش گاہ بن جاتا ہے۔
گذشتہ روز مجھے اپنے بیٹے کو آئر لینڈ کے لیے اور بچیوں کو حج پر جدہ جانے کے لیے رخصت کرنے کے لیے ملتان انٹرنیشنل ائیر پورٹ جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ جنوبی پنجاب کا واحد انٹرنیشنل ائیر پورٹ ہے جہاں سے صرف حج فلائٹ آپریشن ہی نہیں ہوتا بلکہ دنیا بھر کے لیے پروازیں بھی یہاں سے ہی جاتی ہیں۔ حج کے دوران حجاج اور ان کو خدا حافظ اور خوش آمدید کہنے والوں کا بے پناہ علاقائی اور روائتی رش دیکھنے میں آتا ہے تو دوسری جانب گلف اور دیگر انٹرنیشنل روٹس بھی یہیں سے پرواز بھرتے ہیں۔
گلف کے لیے اورسیز محنت کشوں اور مزدوروں کی ایک کثیر تعداد کا تعلق جنوبی پنجاب اور اس کے اردگرد کے بیشتر علاقوں سے ہے۔ جو ایک جانب اپنے خاندانوں کی کفالت کی ذمہداری سنبھالے ہیں تو دوسری جانب ملک کے لیے زرمبادلہ بھجوانے کا بڑا ذریعہ بھی ہیں۔ ان کو اپنے اپنے علاقوں سے یہاں تک آنے کے لیے ایک طویل اور تکلیف دہ سفر کرنا پڑتا ہے کیونکہ انٹرنیشنل پرواز کے لیے کم از کم چار سے پانچ گھنٹے پہلے پہنچنا ہوتا ہے اور لاونج میں جانے کی اجازت اس وقت دی جاتی ہے جب جہاز کی بورڈنگ شروع ہوجائے اور اگر جہاز لیٹ ہوجائے تو یہ دورانیہ بڑھ بھی سکتا ہے۔ ان مسافروں کو خدا حافظ کہنے والے ان کی کلیرنس تک وہیں ٹھہر کر انتظار کرتے ہیں اور خوش آمدید کرنے والے بھی گھنٹوں پہلے جہاز کی آمد سے قبل ہی پہنچ جاتے ہیں۔ ملتان کی اس شدید گرمی کو صرف مسافر اور ان کے عزیزواقارب ہی برداشت نہیں کرتے بلکہ وہاں پر موجود انتظامی اسٹاف بھی اس شدید گرمی سے متاثر ہوتا ہے۔
یہ ائیر پورٹ صرف ایک عمارت یا رن وئے ہی نہیں ہے بلکہ پورئے جنوبی پنجاب اور گردونواح کے لاکھوں لوگوں کی امیدوں اور سفری ضروریات اور سہولیات کا مرکز بھی ہے۔ یہاں سے حج سیزن میں حج پروازیں چلتی ہیں۔ یاد رہے کہ جنوبی پنجاب سے جانے والے حجاج کرام کی تعداد ہمیشہ سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ حج پروازوں کے ساتھ ساتھ گلف ممالک اور دنیا کے دیگر حصوں کے لیے بھی پروازیں ہر روز روانہ ہوتی ہیں۔ بہاولپور ڈویژن، ڈی جی خان، ملتان، سرگودھا بلکہ بلوچستان کے کئی علاقوں سے آنے والے مسافر بھی اسی ائرپورٹ کا رخ کرتے ہیں۔
ائر پورٹ پر موجود لاونج سے باہر چند ایک خوبصورت کیفے ہیں جن میں سے دو کیفوں نے نے چند کرسی میزوں کے ساتھ ایک چھوٹا سا بیٹھنے کا اے سی ایریا بنایا ہوا ہے جہاں بیٹھ کر چائے اور ٹھنڈا پینے کا ارادہ کیا تو فوراََ ائرکنڈیشنڈ چلا دیا گیا اور آرڈر کے لیے ویٹر آیا جب اسے پتہ چلا کہ ہم نے صرف چائے اور کولڈ ڈرنک پینے ہیں تو فوری ائرکنڈیشن بند کردیا اور کہا کہ یہ سہولت صرف انہیں میسر کی جاتی ہے جو کھانا کھائیں۔ وہاں پہلے سے موجود ایک رحیم یار خان کے اپنی بیگم کے ہمراہ بیٹھے حاجی صاحب نے کہا کہ بھائی کھانا منگوانے کی غلطی نہ کرنا۔ آپ اگر اس چائے اور کولڈ ڈرنک کا بل ہی اداکر لیں تو یہ بھی غنیمت سمجھیں۔ واقعی جب بل آیا تو وہ کسی فائیو اسٹار ہوٹل کے بل جیسا تھا۔
مگر افسوس یہ ہے کہ اتنے وسیع خطے کی نمائندگی کرنے والے اس واحد اور اہم انٹرنیشنل ائر پورٹ پر مسافروں کو شدید گرمی، سایہ نہ ہونے، محدود سہولیات اور مہنگی اشیائے خوردونوش جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رحیم یارخان، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور کے ائرپورٹ بند ہونے سے اندرون ملک پروازوں پر بھی علاقے بھر کا رش دیکھنے میں آرہا ہے۔ دوردراز علاقوں سے آنے والے خاندان، بزرگ، خواتین اور بچے یہاں کی شدید گرمی جب درجہ حرارت پچاس سینٹی گریڈ کو چھو رہا ہوتا ہے اور گرم ہوائیں چل رہی ہوتی ہیں۔
یہ لوگ ایک نان ائرکنڈیشنڈ شیڈ کے تلے یا پھر کھلے آسمان تلے جھلس رہے ہوتے ہیں اور گاڑیاں کھلے آسمان تلے قائم پارکنگ میں تپ کر تندور ہو جاتی ہیں تو یہ صورتحال صرف انتظامی غفلت ہی نہیں بلکہ مسافروں کی عزت نفس کا مسئلہ بھی بن جاتی ہے۔ جنوبی پنجاب ہمیشہ وسائل سے زیادہ محرومیوں کے ذکر میں سامنے آتا رہا ہے اور اگر اس خطے کے واحد انٹرنیشنل ائرپورٹ پر بھی بنیادی سہولتیں میسر نہ ہوں تو ترقی کے دعوےادھورے محسوس ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں سایہ دار مقامات، بہتر ویٹنگ ایریاز، مناسب نرخوں پر اشیا خوردونوش اور عالمی معیار کی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ یہ ائرپورٹ واقعی پورے خطتے کی نمائندگی کر سکے۔ ورنہ کم ازکم درخت لگا کر پارکنگ ایریا تو ٹھنڈا رکھا جاسکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ائیرپورٹ کو صرف "بین الاقوامی" نام تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ سہولیات بھی عالمی معیار کی دی جائیں تاکہ جنوبی پنجاب، سرائیکی وسیب اور ملحقہ علاقوں کے لوگ خود کو واقعی قومی ترقی کا حصہ محسوس کرسکیں۔ چند تجاویز پیش ہیں جن پر عملدرآمد عوامی سہولتوں میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
ائیرپورٹ کے داخلی و بیرونی حصوں میں فوری طور پر سایہ دار شیڈز اور آرام دہ انتظار گاہیں قائم کی جائیں اور سایہ دار درخت لگائے جائیں۔ پینے کے ٹھنڈے پانی اور صاف واش رومز کی مستقل اور معیاری سہولت یقینی بنائی جائے۔ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کے لیے باقاعدہ سرکاری نرخ نامہ آویزاں کیا جائے اور اس پر سختی سے عمل کروایا جائے۔ بزرگوں، خواتین، بچوں اور خصوصی افراد کے لیے الگ سہولیات اور آرام دہ نشستوں کا انتظام کیا جائے۔ مسافروں کی تعداد کے مطابق پارکنگ، ٹرانسپورٹ اور ایئرکنڈیشنڈ ویٹنگ ایریاز کو وسعت دی جائے۔ سول ایوی ایشن اور مقامی انتظامیہ باقاعدہ مانیٹرنگ کا نظام قائم کرے تاکہ سہولیات صرف کاغذی دعووں تک محدود نہ رہیں۔ اگر جنوبی پنجاب کے اس دروازے کو حقیقی معنوں میں سہولت، عزت اور معیار کا نمونہ بنا دیا جائے تو یہ صرف ایک ائیرپورٹ نہیں بلکہ پورے خطے کے احساسِ محرومی کے خاتمے کی علامت بھی بن سکتا ہے۔

