Jab Mithas He Zehr Ban Jaye
جب مٹھاس ہی زہر بن جائے

اپنے علاقے یا وسیب کی کوئی بھی اچھی یا بری خبر میرئے لیے ہمیشہ ہی اہم ہوتی ہے اور اگر کوئی دردناک خبر سامنے آجائے تو دل لرز اٹھتا ہے۔ میں پہلے بھی اوچ شریف اور یہاں کے باسیوں سے اپنی وابستگی اور محبت کا اظہار اپنے کالمز میں کرتا رہتا ہوں کیونکہ اوچ شریف کی مٹی صدیوں سے روحانیت کی خوشبو سے مہکتی چلی آئی ہے۔ یہاں کے در و دیوار، یہاں کی فضائیں اور یہاں کے لوگ ایک عجیب سی طمانیت اور سادگی کے امین رہے ہیں۔ مگر کبھی کبھی یہی سادہ اور خاموش بستیاں ایسے سانحات کو جنم دیتی ہیں کہ دل دہل جاتا ہے اور روح کانپ اٹھتی ہے۔
گزشتہ دنوں اوچ شریف میں پیش آنے والا واقعہ بھی خبر کے مطابق کچھ ایسا ہی دردناک تھا ایک ہی گھر کے تین افراد، ایک ہی دسترخوان، ایک ہی پھل، ایک ہی دودھ اور پھر اچانک موت کا سایہ منڈلا جانا اور ایک محبت کرنے والے باپ کا بچوں سمیت زندگی کی بازی ہار جانا کچھ عجیب اور المناک سا ہی نہیں حیرت انگیز بھی ہے۔ کہتے ہیں کہ تربوز ایک موسمی اور بےضرر سا پھل اور اللہ کی نعمت ہوتا ہے جس میں ننانوئے فیصد تو پانی ہی ہوتا ہے جو گرمیوں میں بےشمار امراض کے لیے شفا اور صحت قرار دیا جاتا ہے۔ گرمی کی شدت میں راحت، پیاس کا مداوا اور ذائقے اور مٹھاس کا استعارہ۔ مگر خبر کے مطابق گذشتہ دنوں اسی تربوز نے جب زہر کا روپ دھارا تو خوشیوں کا گھر ماتم کدہ بن گیا اور ایک ہی خاندان کے تیں چراغ گل ہوگئے اور ابھی چوتھا بچہ موت وزندگی کی کشمکش میں ہسپتال میں موجود ہے جو صرف ایک سال کی عمر کا ہے۔ وہ لوگ شاید یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ جو موسمی پھل وہ سکون اور ذائقے کے لیے کھا رہے ہیں، وہی ان کی زندگی کا آخری ذائقہ بن جائے گا۔
قصور وار کون ہے؟ میٹھا تربوز یا دودھ یا پھر تربوز کھا کر دودھ پی لینا؟ یا پھر ملاوٹ اور غفلت؟ مختلف لوگوں کی مختلف اراء سامنے آرہی ہیں۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ جو پھل وہ سکون کے لیے کھا رہے ہیں وہی ان کی زندگی کا آخری ذائقہ بن کر زندگی کی بازی ہارنے کا سبب بن جائے گا؟ ایک ہی گھر سے تین جنازئے اٹھنا کسی شہر میں کہرام سے کم نہیں ہوتا ہے۔ آج اوچ شریف شہر کی ہر آنکھ نم ہے اور ہر دل اداس اور رنجیدہ ہے۔
یہ محض ایک حادثہ نہیں یہ ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں لالچ اور منافع، انسانیت پر غالب آ چکا ہے۔ جہاں مٹھاس بھی مصنوعی ہے اور خلوص بھی۔ کھیتوں میں اگنے والے پھل اب صرف قدرت کی دین نہیں رہے، بلکہ ان میں انسانی لالچ کی آمیزش بھی شامل ہو چکی ہے۔ کیمیکلز، انجکشن اور غیر فطری طریقے، یہ سب اس دوڑ کا حصہ ہیں جس میں انسان پیچھے رہ گیا ہے اور پیسہ آگے نکل گیا ہے۔ جبکہ کیمکل سے بنا دودھ تو اکثر پکڑا بھی جاتا ہے اور میڈیا پر دکھایا بھی جاتا ہے اور ضائع بھی کیا جاتا ہے۔
یہ سوال صرف اوچ شریف کا نہیں، یہ سوال پورے معاشرے کا ہے کیا ہم واقعی زندہ ہیں، یا صرف سانس لے رہے ہیں؟ ایک ماں کا کلیجہ، ایک باپ کا سہارا، یا ایک بہن کا بھائی، جب یوں ایک لمحے میں چھن جائے تو صرف آنکھیں نہیں روتیں، پورا معاشرہ نوحہ کناں ہوتا ہے۔ مگر افسوس ہمارے ہاں سانحات بھی وقتی ہوتے ہیں۔ چند دن شور، پھر خاموشی اور پھر سب کچھ ویسا ہی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جاگیں۔ اپنے کھانوں، اپنی منڈیوں اور اپنے نظام پر سوال اٹھائیں۔ کیونکہ اگر آج ہم نے سوال نہ کیا، تو کل شاید سوال کرنے والا بھی نہ رہے۔ یہ واقعہ ہمیں ایک پیغام دے رہا ہے کہ زندگی اب اتنی محفوظ نہیں جتنی ہم سمجھتے ہیں۔ شاید ہم خود ہی ملاوٹ اور غفلت سے ایک دوسرے کے لیے موت بانٹنے میں مصروف ہیں۔
اوچ شریف جیسے پرسکون اور روحانی علاقے میں اس نوعیت کا واقعہ یقیناََ دل دہلا دینے والا ہے جہاں ایک ہی گھر تیں افراد فوڈ پوائزنگ کی نذر ہوچکے ہیں۔ راؤ انوار ایک پڑھا لکھا، ہر دلعزیز، ہنس مکھ اور بااخلاق شخص اور ایک بڑے عرصے سے موبائل کمپنی کے ادارے کا منیجر تھا۔ جس کا بچوں سمیت جاں بحق ہو جانا کوئی معمولی خبر نہیں بلکہ کئی سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔ سب سے پہلے خدشہ یہی ہوتا ہے کہ یہ واقعہ محض حادثہ یا اتفاق تھا یا پھر اس کے پیچھے کچھ خطرناک وجوہات بھی تھیں جیسے زہریلہ یا کیمکل ملا تربوز، کیمکل سے بنا دودھ، انجکشن لگا کر مٹھاس بڑھانے کی کوشش، کسی سانپ کا چھپکلی کا تربوز یا دودھ کو چکھنا یا کھانا، کسی زہریلی زرعی دوائی کا استعمال، فوڈ پوائزننگ یا پھر پہلے سے موجود کوئی الرجی یا طبی وجہ؟ یہ سب لوگوں کے خدشات ضرور ہیں لیکن درست تفصیل تو مکمل تحقیقات کے بعد ہی سامنے آسکے گی؟ اور اگر واقعہ میں ملاوٹ یا غفلت ثابت ہوئی تو ذمہداران کے خلاف یقینا" بلاامتیاز سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اطلاع کے مطابق مرحومین کا جنازہ اہوں اور سسکیوں میں ان کے آبائی گاوں خرم پور میں ادا کردیا گیا ہے۔
یہ واقعہ صرف خبر نہیں بلکہ ہمارئے خوارکی نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ جہاں ہم انسانی جانوں کی پرواہ کئے بغیر اپنے منافع کو بڑھانے میں مصروف ہیں۔ بچوں کے لیے خالص دودھ کا حصول ناممکن ہوتا چلا جارہا ہے۔ رنگ شدہ اور کیمیکلز زدہ فروٹ اور سبزیاں ہماری خوراک کا حصہ بن چکے ہیں۔ شاید ہم خود ہی ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن گئے ہیں۔ لالچ، ملاوٹ اور منافع خوری کا بڑھتا ہوا طوفان پورئے معاشرئے کو بڑی تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔
آخر میں بس ایک دعا اللہ پاک مرحومین کو اپنی رحمت میں جگہ دے اور ہمیں وہ شعور عطا کرے کہ ہم صرف جینے کے لیے نہ کھائیں اور منافع کے لیے ملاوٹ جسے ناسور سے پرہیز کریں، بلکہ ایسی ملاوٹ زدہ اشیاء خوردونوش سے محفوظ رہنے کے لیے بھی سوچیں اور احتیاط کا دامن پکڑ ئے رکھیں۔ کیونکہ کبھی کبھی مٹھاس بھی موت کا پیغام لے آتی ہے۔
پھولوں سے کبھی ہوتی ہاتھوں میں چبھن بھی
سانسوں سے کبھی ہوتی ہے سینے میں جلن بھی
احساس کے انداز بدل جاتے ہیں ورنہ
آنچل بھی اسی تار سے بنتا ہے کفن بھی

