Tuesday, 27 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Javed Ayaz Khan
  4. Cigarette Ka Akhri Kash Aur Tanhai Ka Zehar

Cigarette Ka Akhri Kash Aur Tanhai Ka Zehar

سگریٹ کا آخری کش اور تنہائی کا زہر

ہمارا بچپن کا دوست استاد منیر خان بچپن سے ہی بلا کا سگریٹ نوش رہا ہے۔ ایک تو لگاتار سگریٹ نوشی اور پھر سگریٹ بھی تھرڈ کلاس پینا یہ کمال استاد جی کی خوبی ہی تصور کی جاسکتی ہے۔ ایک زمانے میں بگلے والا سگریٹ شاید سب سے سستا ہوتا تھا وہی استاد جی کی جیب میں دکھائی دیتا تھا۔ سگریٹ پینے سے استاد جی کی انگلیاں ٹیڑھی ہوگیں اور ہونٹوں پر سرخی کی بجائے سیاہی جھلکنے لگی۔

ایک مرتبہ ہم تینوں دوست ان سے ملنے گئے تو وہ اپنی سایکل مرمت والی دکان کے ایک نیم اندھیرے کونے میں بیٹھے تھے سامنے آدھی بھری تیز پتی کی چائے کا کپ اور ہاتھ کی انگلیوں میں پھنسی بجھتی ہوئی سگریٹ جو ان کی سگریٹ پی پی کر ٹیڑھی ترچھی انگلیوں کو جلانے جارہی تھی۔ استاد جی نے ایک طویل کش لیا دھواں پھیپھڑوں میں اتار کر دھواں منہ اور ناک سے گولوں کی صورت خارج کرتے ہوئے سگریٹ بغیر بجھائے دور پھینک دی لیکن تب تک سگریٹ کی راکھ کی جلن انگلیوں تک پہنچ چکی تھی۔ لیکن استاد جی کے چہرے پر عجیب سا سکون اور اطمینان دونوں اتر آئے تھے جیسے برسوں کے دکھ ایک ہی سانس میں جل کر دھوئیں کی شکل اختیار کرکے باہر نکلنے کو تڑپ رہے ہوں اور پھر چائے کی نیم ٹھنڈی پیالی سے آخری گھونٹ یوں لیا کہ پیالی کی تہہ میں جمی چائے کی پتی بھی ان کی بے ہنگم مونچھوں سے لپٹ گئی۔

چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ اور لذت کا احساس دکھائی دینے لگا جیسے اچانک ان کے دل کو سکون کی ایک نرم لہر چھو گئی ہو۔ ہم نے کہا استاد جی یہ سگریٹ کا دھواں دوکان میں پھیل رہا ہے۔ ہمارا تو دم سا گھٹ رہا ہے کیوں نہ باہر تازہ ہوا میں چند لمحے بیٹھ کر آپ کی گپ شپ سے لطف اندوز ہوں؟ انہوں نے سایکل کے وہیل کا ٹل نکالتے ہوئے کہا یار پہلے ذرا یہ کام نہ کر لوں؟ کیونکہ سگریٹ کے آخری کش اور چائے کا آخری گھونٹ ہی مجھے کام کرنے کی ہمت دیتا ہے۔

پھر استاد جی کہنے لگے یار یہ زندگی بھی سگریٹ کی طرح ہی ہوتی ہے۔ آہستہ آہستہ جلتی اور سلگتی ہوئی اور آخر میں ایک کڑوے اور بےذائقہ کش کی طرح ختم ہو جاتی ہے۔ سعید چشتی کہنے لگا استاد جی زندگی صرف سگریٹ کے دھوئیں جتنی تلخ یا چائے کی آخری چسکی کی طرح پر لذت نہیں ہوتی اسے اچھے سے جینا سیکھو۔ زندگی کو سگریٹ کے دھوئیں میں جلانا یا چائے کی خوشبو میں جی لینا ہی تو زندگی نہیں ہوتا۔ اگر سگریٹ کا آخری کش فنا کا پیغام ہے تو چائے کی آخری چسکی بقا اور زندگی کی امید بھی تو ہے۔ تو پھر فنا کو چھوڑ کر بقا کا راستہ اختیار کیوں نہ کریں؟

چشتی شاید نصیحت کے موڈ میں تھا کہنے لگا سگریٹ کے آخری کش اور چائے کی آخری چسکی دونوں میں ایک عجیب فلسفہ چھپا ہوا ہے۔ سگریٹ کا آخری کش اکثر تلخی، گھٹن اور تھکن کے ساتھ جڑا ہوتا ہے جیسے کسی شوق کی انتہا میں مایوسی چھپی ہو جبکہ چائے کی آخری چسکی ایک نرم سی راحت، دل کو سکون اور لمحے کو بانٹ لینے کی کیفیت دیتی ہے۔ سعید چشتی کہنے لگا استاد جی! کیوں اپنی زندگی کے دشمن بنے ہو؟ آخر یہ سگریٹ چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟

سعید چشتی پڑھے لکھے انسان تھے ڈاکٹری کا شوق تھا۔ وہ اسے سمجھانے لگے کہ سگریٹ نوشی پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بنتی ہے۔ سانس کی تکلیف اور دمہ جیسے امراض جنم لیتے ہیں۔ دل اور خون کی نالیوں کے امراض پیدا ہوتے ہیں اور ہارٹ اٹیک، ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ پھیپھڑوں کے علاوہ یہ منہ، گلے، غذائی نالی، معدئے گردے، مثانے اور دیگر اعضاء کے کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ تمباکو میں سات ہزار سے زیادہ کیمکلز ہوتے ہیں جن میں سے کم ازکم انہتر کینسرکا باعث بنتے ہیں۔ ایک انیس گریڈ کا پڑھا لکھا افسر سعید چشتی استاد منیر کو سمجھا رہا تھا کہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہوتی ہے اور ہر سگریٹ کا کش تمہاری زندگی کا ایک ایک لمحہ کم کرتا جارہا ہے۔

تمباکو نوشی مدافعتی نظام اور مردانہ طاقت کو کمزور کرتی ہے جس سے جسم انفیکشن کا زیادہ شکار ہوتا ہے۔ جلد اور دانت اپنی رنگت بدلنے لگتے ہیں اور قبل از وقت بڑھاپا چہرے پر جھریاں ڈال دیتا ہے۔ نظر کمزور اور ہڈیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ سگریٹ کا دھواں ارد گرد اور ساتھ بیٹھے لوگوں اور بیوی بچوں کے لیے بےحد نقصان دہ ہوتا ہے۔ جسے "سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کہا جاتا ہے" پھر استاد جی سے درخواست کی کہ سگریٹ ترک کرنا مشکل نہیں ہوتا اسے چھوڑنے میں دیر نہ کریں تاکہ آپ کی صحت بہتر اور زندگی طویل ہو سکے اور آپ کا خاندان بھی اسکےمضراثر ات سے محفوظ رہ سکے۔

استاد جی نے سعید چشتی کی باتیں سن کر ایک لمبا سانس لیا اور کہنے لگے مجھے پتہ ہے کہ سگریٹ چھوڑنا ذرا بھی مشکل نہیں ہے اس لیے میں ہزاروں بار چھوڑ چکا ہوں۔ پھر اس نے پوچھا سعید بھائی تم سگریٹ پیتے ہو؟ تو جواب ملا نہیں کبھی نہیں تو استادجی ہنسے جس نے سگریٹ کبھی نہ پی ہو اسے سگریٹ کے آخری کش کے لطف اور سرور کا کیسے پتہ ہو سکتا ہے؟ سگریٹ کے آخری کش اور چائے کے آخری گھونٹ کی اہمیت وہی جانتا ہے جو اس کا لطف لینا جانتا ہو۔ سگریٹ میری تنہائی کا ساتھی ہے میری سوچ کو جلا بخشتی ہے اور چائے میری تازگی اور زندہ دلی کی ضمانت ہے۔ میں یہ دونوں کئی کئی بار چھوڑ چکا ہوں۔ جب تم دوست نہیں ہوتے تو یہ تنہائی دور کرنے کو یہ سگریٹ ہی تو ہوتا ہے۔ سگریٹ کا ہر آخری کش مجھے اگلی سگریٹ سلگانے پر مجبور کرتا ہے اور چائے کا آخری گھونٹ مجھے سکون کی وہ گھڑی فراہم کرتا ہے اور کام کرنے کی ہمت کے ساتھ ہی مجھ میں اگلے چائے کے کپ کی طلب پیداکرتا ہے۔

استادجی نے ایک نظر ہم دوستوں پر ڈالی اور کہنے لگے سگریٹ واقعی نقصان دہ اور مضر صحت اور ماحول دشمن ہوتی ہے مگر اس کا ہماری زندگی یا عمر سے کوئی تعلق ہرگز نہیں۔ موت کا فرشتہ سگریٹ پینے والوں اور نہ پینے والوں میں کبھی فرق نہیں کرتا اور چائے تو ویسے بھی زندہ اور ایکٹیو رہنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ انسان میں زندہ رہنے کا جذبہ اور خواہش جوان رکھتی ہے۔ استاد جی کی باتیں سن کر مزید سمجھانا فضول دکھائی دیتا تھا۔ سب چپ ہو گئے لیکن سب یہ جانتے تھے کہ سگریٹ نوشی صحت کے لیےبےحد نقصان دہ ہے بلکہ اس کے کئی سنگین نقصانات ہوتے ہیں جو پورے جسم کو متاثر کرتے ہیں۔ ہر سال لا کھوں لوگ تمباکو نوشی کی نذر ہو جاتے ہیں۔

استاد جی بولے یار یہ سگریٹ انسانی زندگی کے لیے اتنی ہی نقصان دہ ہے تو حکومت اس پر پابندی کیوں نہیں لگا دیتی؟ نہ ملے گی نہ پی جائے گی۔ پھر کہنے لگے سگریٹ سے زیادہ زندگی کے لیے تنہائی خطرناک ہوتی ہے۔ یہ سگریٹ اور چائے تو تنہائی دور کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ بندہ سگریٹ یا چائے پینے سے نہیں مرتا اسے تو تنہائیاں مارر دیتی ہیں۔ سگریٹ اور چائے میرے تنہائی کے دوست ہیں اور دوستوں اور یاروں کے ہوتے ہوئے انسان کبھی نہیں مرتا۔ وہ شاید اپنی ذہنی تنہائی کی بات کر رہے تھے؟

ہم نےان کی یہ بات پھر مذاق میں اڑا دی۔ مگر ماشا اللہ آج ستر سالہ استاد جی ماشاللہ ناصرف زندہ ہیں اور سگریٹ کے آخری کش اور چائے کے آخری گھونٹ سے لطف اندوز ہو کر اپنی تنہائی دور کر رہے ہیں۔ مگر سگریٹ اور چائے سے دوری کے باوجود سعید چشتی دنیا میں نہیں رہے اور میں اور عامر ایاز دل کے امراض میں مبتلا سماجی رابطوں سے دور زندگی گزار رہے ہیں عامر بائی پاس کر چکا ہے اور میں اسٹنٹ ڈلواچکا ہوں۔ استاد جی کو سگریٹ اور چاےنے تنہا نہیں ہونے دیا مگر سعید چشتی کا دل ان دونوں اشیاء سے دوری کے باوجود ذہنی تنہائی اور حساس طبیعت کی باعث سلامت نہ رہ سکا۔ سگریٹ مضر صحت ضرور ہے مگر تنہائی کا زہر پینا بھی ہر کسی کا کام نہیں ہوتا۔

گذشتہ دنوں ایک حالیہ جدید تحقیق نے چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا تو مجھے استاد جی کی بات پھر یاد آگئی کہ انسان کو تنہائی مار دیتی ہے۔ تحقیق کے مطابق اکیلا پن صحت کے لیے اتنا ہی خطرناک ہو سکتا ہے جتنا روزانہ 15 سگریٹ پینا! سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تنہائی صرف دل یا دماغ پر اثر نہیں ڈالتی بلکہ پوری زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ امریکی ہیلتھ سروسز کی ایک رپورٹ کے مطابق، جو لوگ سماجی طور پر الگ تھلگ رہتے ہیں، ان میں قبل از وقت موت کا خطرہ اُن لوگوں کے برابر ہوتا ہے جو روزانہ پندرہ سگریٹ پیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مسلسل اکیلے رہنے والے کے لیے موت کاخطرہ بتیس فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

برطانوی اخبار میں اسٹروک کے ماہرین کے مطابق لمبے عرصے تک ذہنی تنہائی دل کی بیماریوں کے امکانات تقریباََ انتیس فیصد بڑھا دیتی ہے۔ جبکہ فالج کا خطرہ چھپن فیصد زیادہ دیکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تنہائی دماغی امراض جیسے الزائمر اور یادداشت کی کمزوری کو بھی تیز کرسکتی ہے۔ کووڈ-19 کے بعد، دنیا بھر میں لوگوں کی زندگیوں میں جو خاموشی اور فاصلہ آیا، اس نے اس مسئلے کو مزید بڑھا دیا۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ہم نے سماجی رابطے بحال نہ کیے تو یہ خاموش وبا ہمارے جسم اور ذہن دونوں کو تباہ کر سکتی ہے۔ کاش دنیا یہ جان سکے کہ تنہائی کا زہر سگریٹ سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ خدارا! لوگوں کو تنہامت چھوڑو۔ تنہائی ہی دراصل موت کا دوسرا نام ہے۔ تنہائی یقیناََ سگریٹ کے آخری کش سے بھی زیادہ مضر ہوتی ہے۔

Check Also

Moscow Se Makka (18)

By Mojahid Mirza