Be Zaiqa Lafz Aur Hamare Lehje
بے ذائقہ لفظ اور ہمارے لہجے

لہجہ اور لفظ بظاہر دو الگ چیزیں ہیں مگر اثر کے اعتبار سے ایک دوسرے سے گہرا رشتہ رکھتے ہیں۔ لفظ معنی دیتے ہیں اور سوچ کو بات کی شکل دیتے ہیں کسی بھی پیغام کا ڈھانچہ ترتیب دیتے ہیں۔ جبکہ لہجہ ان الفاظ میں جان ڈالتا ہے، احساس بھرتا ہے اور ہماری نیت ظاہر کرتا ہے۔ ایک ہی لفظ مختلف لہجوں میں مختلف معنی اختیار کر لیتا ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ "لہجے سوچ کا پتہ دیتے ہیں"۔ جب ہم اگر کوئی ایک لفظ بولتے ہیں جیسے "زبردست" یہ اگر تعریف کے لہجہ میں ہو تو حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور اگر طنز میں بولا جائے تو تضحیک اور مذاق اُڑانا اور اگر بےرخی سے بولیں تو محض ایک رسمی سا لفظ ہوتا ہے۔
تحریر میں لفظ زیادہ طاقتور ہوتے ہیں کیونکہ تحریری لہجہ قاری خود محسوس کرتا ہے جبکہ گفتگو میں لہجہ زیادہ فیصلہ کن ہوتا ہے کیونکہ وہ نیت کو بے نقاب کردیتا ہے۔ میرے ایک قاری کو شکایت ہے کہ میری تحریروں میں الفاظ کا لہجہ بہت نرم اور بے ذائقہ ہوتا ہے ذرا بھی سنسنی نہیں ہوتی اور منتخب لفظوں کے چناؤ سے لکھی گئی تنقید بھی تعریف محسوس ہوتی ہے جبکہ اکثر لوگ سخت جملے سننا پسند کرتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ انسان کی گفتگو اور تحریر اس کے کردار کی آئینہ دار ہوتی ہے جب کہ گفتگو اور تحریر کا آئینہ اس میں موجود لب ولہجہ ہوتا ہے۔ ہم جوش خطابت یا فن تحریر کو اپنے لفظوں سے ہی کنٹرول کرتے ہیں۔ ٹھنڈا دماغ، میٹھی زبان اور نرم دل یہ تین خوبیاں الفاظ میں ڈھل کر لہجے کو باکمال بنا دیتی ہیں۔
میٹھے لہجے نے بچا لی کئی بکھری سانسیں
تلخ لفظوں نے تو اپنوں کو بھی بیگانہ کیا
کہتے ہیں کہ الفاظ اکثر بے ذائقہ ہوتے ہیں مگر ادا کرنے والے یا بولنے والے کا لہجہ اُنہیں میٹھا یا کڑوا بنا دیتا ہے۔ الفاظ بذاتِ خود کوئی خاص تاثیر نہیں رکھتے بلکہ اصل اثر تو بولنے والے کے لہجے، نیت اور دل کی کیفیت سے پیدا ہوتا ہے۔ کبھی ایک عام سا یا سخت سا لفظ بھی نرمی، محبت اور شفقت سے ادا ہو تو سننے والے کے دل میں اُتر جاتا ہے اور کبھی بہت خوبصورت الفاظ بھی اگر تلخی، غصے یا اَنا سے ادا کیے جائیں تو وہ تیر کی طرح دلوں میں زخم چھوڑ جاتے ہیں اسی لیے کہتے ہیں کہ لہجہ، الفاظ کی جان ہے۔
تلخ لہجہ بہترین لفظ کو بھی بُرا بنا دیتا ہے اور نرم لہجہ سخت بات کو بھی قابلِ برداشت بنا دیتا ہے۔ اسی لیے اصل کمال نہ صرف اچھے الفاظ کے چناو میں ہوتا ہے بلکہ انہیں درست لہجے میں ادا کرنے یا لکھنے میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ ایک کالم نگار یا لکھاری کے لیے یہ نکتہ اور بھی اہم ہوتا ہے کہ اس کے لفظ قاری کو کچھ سوچنے پر مجبور کریں اور لکھنے کا لہجہ دل تک پہنچ کر اثر پیدا کر سکے۔ لیکن آج کل لفظوں اور لہجوں کا کیا دھرا یہ ہے کہ کبھی خاموشی کا لہجہ بھی صدا بن جاتا ہے اور کبھی چیخ بھی دل تک نہیں پہنچ پاتی ہے۔
وہی بات ہوتی ہے، وہی لفظ ہوتے ہیں اور وہی مفہوم ومطلب ہوتا ہے البتہ فرق شفقت، محبت، ہمدردی، یا پھر مخالفت، نفرت اور غصے بھرے لہجے کا ہوتا ہے۔ ہم لاکھ بولنے اور لکھنے میں لفظوں کو سنوار لیں اگر لہجے نہ سنبھل پائیں تو سب کچھ بکھر جاتا ہے۔ لفظ تو سب ہی ایک سے ہوتے ہیں لیکن ان کا ندازبیان مختلف ہوتا ہے جسے لہجہ کہا جاتا ہے۔ کسی ایک ہی لفظ کو لہجہ پھول یا آگ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
لہجہ ہی بتا دیتا ہے نیت دلوں کی
لفظوں سے کہاں کھلتے ہیں سب راز نہاں
سوال یہ ہے کہ ہماری ذاتی اور معاشرتی زندگی میں بولنے اور لکھنے کے لہجے آج کیوں تلخ ہوتے جارہے ہیں؟ ہمارے معاشرے میں لہجہ اکثر برتری کا اظہار کیوں بنتا جارہا ہے؟ کیوں تنقید کے لیے سخت لفظ اور تعریف کے لیے نرم اور خوشامدآنہ لفظ ہمارے لہجے اور رویے کو یکسر بدل دیتے ہیں؟ اس کی وجہ ہمارے الفاظ کا چناو ہے یا پھر سوچ کی تلخی کیونکہ لفظ تو صرف آخری اظہار اور بیان کی علامت ہوتے ہیں۔ اصل کہانی تو ذہن کے اندر لکھی جاتی ہے۔ بات تو ہمارے خیالات اور سوچ سے جنم لیتی ہے مگر اس کابیان اور اظہار ہماری زبان یا تحریر کے الفاظ کے ذریعے کرتی ہےاور یہ وہی الفاظ ہوتے ہیں جو ہمارے خیالات کی گرمی کو نرمی اور نرمی کو گرمی میں بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ پھر جب سوچ میں غصہ، عدم برداشت، کینہ اور مایوسی ہو، احساس محرومی اور مسلسل عدم تحفظ کے ساتھ ساتھ انصاف کی عدم دستیابی ہو تو لفظ تو وہی ہوتے ہیں مگر لہجہ خود بخود سخت اور ترش ہو جاتا ہے۔
ایسے میں انسانی زبان یا تحریر میں نرم لفط بھی لکھا یا بولا جائے تو ایک عجیب کاٹ سی محسوس ہوتی ہے۔ دل کے اندر کی کڑواہٹ کبھی انسانی لفظوں میں مٹھاس پیدا نہیں کر پاتی۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ تلخی زبان میں نہیں ہمارے ذہن میں ہوتی ہے البتہ لفظوں کا انتخاب یا غلط اور صیح چناو ٔ اسے بہتر یا بدتر بنا دیتا ہے۔ الفاظ تو صرف ذریعہ ہیں لیکن ان الفاظ کو کس طرح ادا کیا گیا ہے وہ یہ بتاتا ہے کہ بولنے یا لکھنے والے کے ذہن میں کیا چل رہا ہے۔ تحریر میں سوچ کی جھلک بھی ایک لہجہ ہوتا ہے ایک سلجھی ہوئی سوچ کا مالک ہمیشہ نرم لفظوں کے استعمال سے تحریر میں توازن اور شائستگی برقرار رکھتا ہے۔
اباجی کہتے تھے کہ طاقت اگر تربیت سے خالی ہو تو لہجہ تلخ اور تحقیر آمیز ہو جاتا ہے۔ ایسے میں چیخ کر بات کرنے کو جرات سمجھا جاتا ہے۔ طاقت بلند آواز یا غصہ دکھانے میں نہیں بلکہ اپنے نفس اور الفاظ پر قابو پانے کا نام ہے۔ ٹی وی مباحثوں سے لیکر سوشل میڈیا کے ہر پلیٹ فارم تک تلخ اور ترش لہجے نمائیاں دکھائی دیتے ہیں۔ تنقید کے لیے بھی تربیت اور تہذیب کا دامن نہیں چھوڑانا چاہیے۔ لیکن آج ہم لاشعوری طور پر اسے اپنا معمول بنا چکے ہیں۔ جب سوچ میں ہی زخم ہوں تو زبان اور قلم مرہم نہیں خنجر بن جاتے ہیں۔ اصل دانائی یہ نہیں کہ ہم کیا کہتے ہیں؟ بلکہ یہ ہے کہ کیسے اور کن الفاظ میں کہتے ہیں کیونکہ الفظ اور کہنے کا رویہ ہی ہمارے لہجے بناتا ہے۔ یاد رہے کہ دنیا میں ہمیشہ رشتے اور تعلق لفظوں کی بجائے زیادہ تر تلخ لہجے سے ٹوٹتے دیکھے ہیں کیونکہ بے ذائقہ لفظ تو وقت کے ساتھ ساتھ مدہم پڑ سکتے ہیں لیکن لہجے کی کاٹ اور کڑوا ذائقہ ہمیشہ یاد رہ جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس لہجوں کے رویے اور لفظوں کے چناو کو درست کیسے کیا جائے؟ سوچ میں ٹھہراو، اختلاف میں شائستگی، تنقید میں الفاظ کا محتاط استعمال تاکہ دوسروں کی ناراضگی سے بچا جاسکے، طاقت کے ساتھ ساتھ ذمہداری کا احساس اور لفظوں سے پہلے مثبت سوچ اور نیت کی درستی ضروری ہوتی ہے۔ آج پرنٹ میڈیا یا سوشل میڈیا پر لہجوں کو دیکھ کر نیتوں اور سوچ کا اندازہ کرنا ذرا بھی مشکل نہیں ہوتا۔ جبکہ ایک اچھے اینکر یا قلمکار کی خوبی یہ ہے کہ اس کے الفاظ غیر جانبدادرانہ اور شائستہ ہوں اور کسی بھی فرد یا طبقہ کی دل آزاری نہ ہونے پائے۔ کسی اینکر یا قلمکار پر یہ چھاپ نہ ہو کہ وہ کسی مخصوص سوچ یا نظریے کا حامل ہے۔ لوگ اسے تب ہی پڑھتے یا سنتے ہیں جب وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں کچھ نیا سننے یا پڑھنے کو ملے گا۔
میرے قاری کو میرے الفاظ اور لہجہ اس لیے اچھا لگتا ہے کہ ہر تحریر میں کچھ نیا ضرور ہوتا ہے گو میرے لہجے کی نرمی میرے مضمون کو جذباتی نہیں بنا پاتی مگر اپنا ایک خاص اثر ضرور رکھتی ہے۔ الفاظ میں نرمی کمزوری نہیں بلکہ سمجھداری ہے اور غصہ جیت نہیں بلکہ نقصان ہے اور محبت کنٹرول نہیں بلکہ احترام ہے۔ اپنے تلخ سے تلخ اور سخت سے سخت الفاظ کو ہمارا نرم لہجہ اگر زیادہ اچھا نہیں تو بے ذائقہ ضرور کردیتا ہے۔
اپنی آواز کی لرزش پہ تو قابو پاو
پیار کے بول تو ہونٹوں سے نکل جاتے ہیں
اپنے تیور بھی سنبھالو کہ کوئی یہ نہ کہے
دل بدلتا ہے تو چہرے بھی بدل جاتے ہیں

