Inqilab
انقلاب

کوئی بھی تحریک جو انقلابی نظریات کے ساتھ شروع ہوتی ہے جس کی آبیاری مذہبی یا وطنی اور لسانی بنیادوں پر قائم ہو، بہت سے دلفریب نعروں، بہتر مستقبل، شخصی آزادیوں اور معاشی ثمرات کی یقین دہانی سے عوام بالخصوص طبقاتی تقسیم کا شکار افراد کو بھاتی ہے وہی اسی طبقے سے منسلک نظریاتی طور پر جوشیلے نوجوانوں کو اس تحریک کو رواں رکھنے کے لیے افرادی قوت کا حصول کیا جاتا ہے۔
انقلاب چونکہ نظام سے بغاوت، عدم تحفظ اور عدم اطمینان کا اظہار ہوتا ہے۔ اس لیے ایسی تمام تحاریک سیاسی جدوجہد کے بجائے پرتشدد راہ پر یقین رکھتی ہیں۔
ان سب میں بیرونی سٹیٹ ایکٹر اپنے مفادات کے لیے اندرونی نان سٹیٹ ایکٹرز کے پشت بان بھی بن جاتے ہیں۔ بہت سی جانی، مالی نقصانات اور قربانیوں کے بعد جو اکثر نچلے درجے اور طبقے کے نوجوانوں سے اس کھیل میں لی جاتی ہے۔ بہت سے عوام کے باعث کامیاب بھی ٹہر جاتی ہیں یہ اسی وقت ممکن ہو پاتا ہے جب ریاستی ڈھانچہ اخلاقی اور مالی کمزوریوں پر کھڑا ہو۔
لیکن ایسی بیشتر انقلابی تحاریک کی کامیابیوں کے حصول کے بعد بدلنے والی رجیم ان تمام خوشنما نعروں، وعدوں اور اپنے بیان کردہ مستقبل کے فلاحی لائحہ عمل کے ثمرات کو عوام تک پہنچانے کے بجائے ناکام ہی ٹہرتی دکھائی دیتی ہے۔
ایک ایسے انقلاب کو کامیاب کرنے والے گروہ جو بالخصوص مذہبی بنیادوں پر اور بالعموم لسانی یا وطنی بنیادوں پر برپا کیا گیا ہوں ناکام کیوں ٹہرتے ہیں توجہ طلب بات ہے۔
اس سے بھی خطرناک ایسے انقلابات سے اس علاقے کے لوگوں پر پڑنے والے اثرات تو ہے ہیں جن کا ان کی نجی، مذہبی اور معاشی زندگی پر ہوتا ہے وہی اس خطے کے اردگرد بسنے والے افراد اور ریاستوں پر بھی گہرے نقوش چھوڑتا ہے۔
ایسے نقوش بالخصوص مخصوص مذہبی نظریات سے برپا انقلاب سے ہوں کچھ اچھی فضا قائم نہیں کرتے۔
جس کا اندازہ پچھلی صدی میں انقلاب ایران کے بعد بدلتی صورت حال سے پورے خطے کو رہا ہے۔ وہیں آج افغانستان میں بدلنے والی رجیم کی بدولت علاقائی طور پر بالخصوص پاکستان کو سامنا ہے۔
انقلاب ایران کے ثمرات کو وقت کے ساتھ ساتھ اب ان کی اپنی عوام اٹھانے سے قاصر ہے جہاں وقتا فوقتاً اس انقلاب سے بیزاری کی لہر کبھی سیاسی اور کبھی متشدد انداز میں دیکھنے کو ملتی ہے۔
حالانکہ انقلاب برپا کرنا اور پھر نظام کو قائم رکھنا جس سے عوام مطمئن، خوش اور آسودہ ہو دو الگ باتیں ہیں۔ انقلاب ایران جو مخصوص مذہبی نظریات سے برپا ہوا، اپنی عوام کی فلاح و بہبود، ان کی تعلیمی، طبی، سماجی اور معاشی بہتری کے بجائے بہترین دستیابی وسائل، افرادی قوت کو مختلف شعبہ جات میں کارآمد بنانے کے ریاستی ڈھانچے کو ایک آئیڈیل نمونہ کے پیش کرنے ان تمام امور کے لیے موجود بیان کردہ وسائل کو خطے میں اپنی پراکسیز کو مضبوط کرنے اور علاقائی امن و امان کو سبوتاژ کرنے اپنے نظریات کے فروغ اور ان خطوں میں اپنے مذہبی پیروکاروں کے ذریعے دیگر ریاستوں میں بدامنی پھیلانے میں مصروف رہے تو اس سب کی قیمت اس ملک کی عوام کو بھی شخصی قدغنوں، معاشی تنگدستی اور ریاستی ڈھانچوں کی کمزوریوں سے پیدا شدہ انتظامی مسائل کی صورت بھی ادا کرنی پڑی۔ جس کا سامنا ایرانی عوام کو رہا ہے۔ ان کی شکایات نظام اور انقلاب پر عدم اعتماد کی صورت اب بدامنی اور متشددانہ طور پر احتجاج کی صورت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ جسے کچھ نان سٹیٹ ایکٹرز، بیرونی سٹیٹ ایکٹرز کی صورت میں ہوا بھی دے رہے ہیں۔
وہی اس سارے تناظر اور بدلتی ایرانی صورتحال میں مستقبل کے افغانستان کی بھی جھلک ہے اور موجودہ طالبان رجیم اگر اس سے سبق سیکھتے ہوئے بجائے اپنے انقلاب کو جو کسی سٹیٹ ایکٹرز کی ہی بدولت کامیابی سے ہمکنار ہوا دوسرے خطوں میں متشددانہ انداز میں پرموٹ کرنے، اپنی عوام کی فلاح، وقت کے بدلتے تقاضوں کے مطابق سماجی ڈھانچوں میں موجودہ دور سے ہم آہنگ تعلیمی، طبی اور معاشی منصبوں پر توجہ دیں تو آنے والے وقتوں میں وہ کسی بھی ایسی ممکنہ عوامی ردعمل کا سامنا کرنے سے بچ سکتے ہیں۔
وہی انقلاب ایران اور سقوط کابل سے بھی عالمی سیاسی امور میں ایک ایسے نئے باب پر بھی تحقیق کا موقع ملتا ہے۔
جو اس پہلو کی نشاندہی کرتا ہے کہ کیا ایسی تحاریک کی کامیابی جن کی بنیاد مذہبی یا فرقہ ورانہ متشدد نظریات پر ہوں معاشرے میں اچھے ثمرات لا سکتی ہے؟
اور ایسی کسی بھی تحریک جو سیاسی سے زیادہ انقلابی جدوجہد پر مبنی ہو ان کے قائدانہ سٹرکچر کو زیر بحث لانا جس میں انقلابی راہنماؤں اور اس کی کامیابی کے بعد آنے والی تبدیلی سے لوگوں کو مستفید کرنے کے لیے سیاسی و انتظامی راہنماؤں کی الگ سے اہمیت اور ضرورت پر روشنی ڈال سکیں؟

