Kuch Baatein Phoolon Ki, Chand Yaadein Kaliyon Ki
کُچھ باتیں پھولوں کی، چند یادیں کلیوں کی

ہمارا ادب، بلکہ دنیا بھر کا ادب پھولوں کی خوشبوؤں سے مہکتا ہے۔ قرات العین حیدر کے ہاں رات کی رانی کا ذکر ہو، اے حمید امبرسر کے کمپنی باغ کے دیسی قلمی گلابوں کو یاد کرتے ہوں یا (بُھلا دی گئی) حجاب امتیاز علی کے ہاں موتیے کی کلیوں کی بات ہو، ہمارا ادب، ہماری مصوری، ہماری پشمینے کی شالوں پر بھینی مہک سے مہکتے پُھول کڑھے نظر آتے ہیں۔ ہمارے بڑوں بزرگوں کے ہاں بیٹیوں کے نام پھولوں پر رکھنے کا چلن عام تھا۔ کیا اچھی حسِ لطیف تھی ان کی۔ سوسن، نرگس، یاسمین، کس کس پھول کو یاد کیجیے، کس کس نام کو پُکاریے گا۔
حال میں شائع ہونے والی ایک انگریزی کتاب میں پڑھا کہ ہماری چھوٹی سی دُنیا کے پھول (تمام نہیں، بیشتر) آہستہ آہستہ اپنی خوشبوئیں کھو رہے ہیں۔ دل پر ہاتھ پڑا، بے طرح کی اداسی نے آ لیا۔
اس منفرد، البتہ اداس کر دینے والے موضوع پر تحریر میں رقم ہے کہ ہمارے پھول، جو اپنی خوشبو سے فضا کو معطر رکھتے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ اپنی خوش بو کھو رہے ہیں۔ صنعتی انقلاب سے پہلے کے پھولوں میں جو مہک تھی آج وہ نہیں، یعنی ہمارے بزرگ جو خوشبوئیں سونگھتے تھے ہم ان سے محروم ہیں۔ ہم جو باقی ماندہ مہک سونگھتے ہیں ہماری آنے والی نسلیں ان سے خاصی حد تک محروم ہو جائیں گی۔ بڑھتی ہوئی گرمی سے آہستہ آہستہ پھول بے مہک ہونے لگے ہیں۔ سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ زیادہ درجۂ حرارت میں بعض پھول وہ مہک پوری شدت سے پیدا نہیں کر پاتے جو کبھی ان کی شناخت تھی۔ فضا میں بڑھتی آلودگی اس خوشبو کو دور تک پہنچنے سے پہلے ہی بکھیر دیتی ہے۔ یوں پھول تو کِھلا ہوتا ہے، رنگ بھی باقی ہوتا ہے ہے، مگر اس کے اردگرد وہ پرانی میٹھی خوشبو باقی نہیں رہتی جو کبھی قدموں کو تھام لیتی تھی۔
شہد کی مکھیاں اور دوسرے چھوٹے پرندے، کیڑے ان ہی خوشبوؤں کے سہارے پھولوں تک پہنچتے ہیں، مگر شدید گرمی ان کی سونگھنے کی حِس کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔ نتیجتاً پھول اور شہد کی مکھی ایک ہی جگہ موجود ہوتے ہوئے بھی ایک جگہ موجود نہیں ہوتے۔ یہ پودوں کی افزائش میں بھی رکاوٹ بن جاتا ہے کیونکہ یہ تتلیاں، شہد کی مکھیاں اور ننھے کیڑے پولن لے جاکر پھولوں، پودوں کی افزائش کا باعث بنتے ہیں۔ یوں موسمی مدو جزر، حدت میں اضافہ، آلودگی کی بڑھوتری ہمارے کرہِ ارض کے توازن کو برہم کر رہی ہے۔
آج کا آدم تن تنہا اس زمین (جس کے مالک چرند پرند نباتات و عقولِ مفارقہ بھی ہیں) کو کھانے اور اسے تصرف میں لانے کی اپنی بے محابا ہوس کے باعث اپنی آئندہ نسلوں کو فقط ایک تحفہ دے رہا ہے "محرومی"۔

