Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Iqbal Bijar
  4. Ventilator Ki Gu Gu Aur Insan Ki Toota Hua Ghuroor

Ventilator Ki Gu Gu Aur Insan Ki Toota Hua Ghuroor

وینٹی لیٹر کی گو گو اور انسان کا ٹوٹا ہوا غرور

ہسپتال کی خاموش راہداریوں میں جب رات گہری ہونے لگتی ہے تو ایک عجیب سی آواز فضا میں گونجتی رہتی ہے۔ دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک اور وینٹی لیٹر کی مسلسل گو گو۔ یہ آوازیں عام انسان کے لیے شاید معمول ہوں، مگر اس بستر پر پڑے انسان کے لیے یہ زندگی اور موت کے درمیان کھینچی گئی ایک باریک لکیر بن جاتی ہیں۔

انسان واقعی عجیب مخلوق ہے۔ کبھی اپنی طاقت، دولت، اختیار اور علم پر ایسا ناز کرتا ہے جیسے کائنات کا مالک ہو۔ وہ بھول جاتا ہے کہ اس کی سانس بھی اس کی اپنی نہیں۔ کبھی اپنے غرور میں دوسروں کو کمتر سمجھتا ہے، کبھی اپنی انا کے بت تراشتا ہے اور کبھی اپنے آپ کو ناقابلِ شکست سمجھ بیٹھتا ہے۔ لیکن وقت، وقت بڑے بڑے دعوے توڑ دیتا ہے۔

قرآن نے انسان کی عظمت بھی بیان کی اور اس کی حقیقت بھی۔ اسے اشرف المخلوقات کہا گیا، مگر ساتھ ہی یہ بھی یاد دلایا گیا کہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ یہی انسان جب صحت مند ہوتا ہے تو زمین پر اکڑ کر چلتا ہے، لیکن جب بیماری اسے آ گھیرتی ہے تو وہی مضبوط انسان ایک بے بس وجود بن جاتا ہے۔

ہسپتال کے بستر پر پڑا مریض نہ اپنی دولت دیکھتا ہے، نہ عہدہ، نہ شہرت۔ وہاں صرف درد ہوتا ہے، دعائیں ہوتی ہیں اور امید کی ایک دھندلی سی روشنی۔ وینٹی لیٹر پر پڑا انسان نہ دیوار کی گھڑی کی ٹک ٹک سن پاتا ہے، نہ مشین کی آوازیں۔ اس کے اردگرد کھڑے لوگ بے بسی سے اسے دیکھتے رہتے ہیں۔ وہی انسان جو کل تک خود کو بہت طاقتور سمجھتا تھا، آج ایک مشین کے سہارے سانس لے رہا ہوتا ہے۔

زندگی کا سب سے بڑا سبق شاید ہسپتال کے انہی کمروں میں ملتا ہے۔ جہاں انسان سمجھتا ہے کہ اصل طاقت نہ دولت میں ہے، نہ اختیار میں، بلکہ اس ایک سانس میں ہے جو خاموشی سے آتی اور چلی جاتی ہے۔ جب سانس رکنے لگتی ہے تو بڑے بڑے غرور، بڑے بڑے دعوے اور بڑی بڑی انا سب ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔

انسان کی حقیقت یہی ہے کہ وہ مٹی سے بنا ہے اور مٹی میں ہی لوٹ جانا ہے۔ پھر بھی وہ نفرتیں پالتا ہے، تکبر کرتا ہے، دوسروں کو اذیت دیتا ہے اور خود کو سب سے بڑا سمجھتا ہے۔ شاید اگر انسان کبھی ہسپتال کے آئی سی یو میں چند لمحے خاموش کھڑا ہو کر وینٹی لیٹر کی گو گو سن لے، تو اس کے اندر کا غرور ہمیشہ کے لیے مر جائے۔ کیونکہ آخر میں انسان صرف ایک بے بس جسم رہ جاتا ہے اور اس کے درمیان صرف دعا کھڑی ہوتی ہے۔

Check Also

Aik Tareekhi Kirdar: Confucius

By Asif Masood