Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Iqbal Bijar
  4. Naujawan Sahafi Ki Taveel Azmaish

Naujawan Sahafi Ki Taveel Azmaish

نوجوان صحافی کی طویل آزمائش

گلگت بلتستان کے نوجوان صحافی عدنان راوٹ کی گرفتاری اور مسلسل جسمانی ریمانڈ نے صحافتی حلقوں میں بے چینی اور کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایک فرضی فہرست جاری کرنے کے الزام میں گرفتار کیے گئے صحافی کو پہلے ایک ماہ کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا، پھر مزید وقت طلب کیا گیا اور اب دوبارہ گیارہ روزہ ریمانڈ دیے جانے پر تشویش میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

قانون اپنی جگہ اہم ہے اور اگر کسی فرد پر ریاستی اداروں یا عوام میں بے چینی پھیلانے کا الزام ہو تو تحقیقات ہونا بھی ضروری ہیں۔ لیکن کسی بھی مہذب اور آئینی معاشرے میں تحقیقات کے ساتھ ساتھ انسانی وقار، بنیادی حقوق اور شفاف قانونی عمل کو بھی یکساں اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طویل جسمانی ریمانڈز پر سوال اٹھانا کوئی جرم نہیں بلکہ ایک جمہوری اور آئینی حق سمجھا جاتا ہے۔

گلگت بلتستان کے چند باشعور اور سینئر صحافی اس معاملے کو محض ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ آزادیٔ صحافت اور اظہارِ رائے کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر کوئی غلطی ہوئی بھی ہے تو اس کا فیصلہ عدالت اور قانون نے کرنا ہے، مگر ایک نوجوان صحافی کو مسلسل ریمانڈ پر رکھنا اس کے اہل خانہ، دوستوں اور صحافتی برادری کے لیے ذہنی اذیت اور تشویش کا باعث بن رہا ہے۔

اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ حیران کن پہلو گلگت بلتستان کی صحافتی تنظیموں کی خاموشی ہے۔ وہ تنظیمیں جو اکثر چھوٹے چھوٹے معاملات پر بیانات جاری کرتی نظر آتی ہیں، اس حساس معاملے پر غیر معمولی خاموش دکھائی دے رہی ہیں۔ صحافتی حلقوں میں یہ سوال شدت سے گردش کر رہا ہے کہ اگر ایک صحافی مشکل میں ہو تو کیا صحافتی تنظیموں کی ذمہ داری صرف تماشائی بننے تک محدود رہ جاتی ہے؟ کیا ان کا فرض نہیں کہ وہ کم از کم شفاف تحقیقات، فوری قانونی عمل اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی بات کریں؟

یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ آزادیٔ صحافت کا مطلب قانون سے بالاتر ہونا نہیں، لیکن یہ بھی اتنا ہی سچ ہے کہ قانون کا استعمال ایسا ہونا چاہیے جس سے انصاف پر عوام کا اعتماد کمزور نہ ہو۔ ریاستی اداروں کی ذمہ داری صرف گرفتاری تک محدود نہیں بلکہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا بھی ہے۔ اگر تحقیقات مضبوط ہیں تو انہیں جلد منطقی انجام تک پہنچایا جانا چاہیے تاکہ افواہوں اور بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔

گلگت بلتستان ایک حساس خطہ ہے جہاں میڈیا عوام اور ریاست کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے میں صحافیوں، اداروں اور عدلیہ سب پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قانون، احتیاط اور انصاف کے دائرے میں رہ کر اپنا کردار ادا کریں۔ اختلافِ رائے، تنقید اور غلطی ہر معاشرے میں موجود رہتی ہے، مگر کسی بھی مہذب معاشرے کی اصل پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہاں انصاف طاقت سے نہیں بلکہ قانون اور توازن سے قائم رکھا جاتا ہے۔

Check Also

Alvida Atif Mateen

By Rauf Klasra