Gilgit: Wazarat e Aala Ki Jang
گلگت: وزارتِ اعلیٰ کی جنگ

گلگت بلتستان کی سیاست کو اگر چند جملوں میں سمیٹا جائے تو شاید سب سے نمایاں تاثر یہی سامنے آتا ہے کہ یہاں اقتدار کا رخ اکثر اسلام آباد کی سیاسی ہوا کے ساتھ بدلتا رہا ہے۔ ماضی کے انتخابات اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ وفاق میں جس جماعت کی حکومت قائم ہوئی، گلگت بلتستان میں بھی سیاسی طاقت زیادہ تر اسی کے گرد گھومتی رہی۔ اس تاثر نے وقت کے ساتھ ایک سیاسی روایت کی شکل اختیار کر لی، جہاں ووٹر بھی اکثر اسی جماعت کی طرف جھکتا دکھائی دیا جسے وفاقی اقتدار حاصل ہو۔
اس رجحان کے پیچھے صرف انتظامی اثر و رسوخ یا سیاسی مداخلت کو ذمہ دار قرار دینا شاید مکمل تجزیہ نہیں ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان کا ووٹر ہمیشہ اپنے مستقبل، ترقیاتی منصوبوں اور وسائل تک رسائی کو وفاقی حکومت کے ساتھ تعلق سے جوڑ کر دیکھتا آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں انتخابی سیاست میں "اقتدار کے قریب رہنے" کی نفسیات ایک اہم عنصر بن چکی ہے۔
تاہم اس بار کی سیاسی صورتحال ماضی سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ وفاق میں ایک جماعت کی مکمل حکومت کے بجائے مخلوط سیاسی بندوبست موجود ہے، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) دونوں اقتدار کا حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار گلگت بلتستان کے ووٹر کے لیے فیصلہ پہلے کی نسبت کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے۔
اسی پیچیدگی نے گلگت حلقہ ون اور حلقہ دو کو پورے خطے کی سیاست کا مرکز بنا دیا ہے۔ ان دونوں حلقوں کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ یہاں سخت انتخابی مقابلے متوقع ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ انہی حلقوں سے ایسے امیدوار میدان میں ہیں جو خود کو وزارتِ اعلیٰ کی دوڑ میں شامل سمجھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وزارتِ اعلیٰ کا خواب وہی امیدوار دیکھ سکتا ہے جو پہلے اپنی نشست محفوظ بنائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان حلقوں کے انتخابات کو محض چند نشستوں کی جنگ نہیں بلکہ آئندہ حکومت کی سمت کے تعین کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
حلقہ ون اس وقت سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شفیق الرحمن بھرپور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ پارٹی ٹکٹ ملنے کے بعد ان کی سرگرمیوں میں واضح تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ جلسے، کارنر میٹنگز اور عوامی رابطہ مہم اس بات کا اظہار ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اس نشست کو غیر معمولی اہمیت دے رہی ہے۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر امجد ایڈوکیٹ بھی پوری سیاسی قوت کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔ نومل اور گردونواح میں ان کی انتخابی سرگرمیوں سے واضح ہے کہ وہ اس معرکے کو اپنی سیاسی حیثیت اور مستقبل دونوں کے لیے فیصلہ کن سمجھتے ہیں۔
اس حلقے کی سیاست کو مزید دلچسپ سلطان رائیس کی موجودگی نے بنا دیا ہے، جو گزشتہ انتخابات میں امجد ایڈوکیٹ کے مقابلے میں شکست کھا چکے تھے۔ تاہم اس بار سیاسی حالات مختلف ہیں اور وہ ایک بار پھر خود کو مضبوط امیدوار کے طور پر منوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی طرح سابق صوبائی اسمبلی ممبر حمایت اللہ اور آزاد امیدوار آصف عثمانی بھی اگر بھرپور انتخابی مہم چلانے میں کامیاب رہتے ہیں تو ووٹوں کی تقسیم مقابلے کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس حلقے میں جیت کا مارجن بہت محدود رہنے کا امکان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی تک کسی ایک امیدوار کو واضح برتری حاصل نہیں ہو سکی۔ زمینی حقائق تیزی سے بدل رہے ہیں جبکہ ایک بڑی تعداد ایسے ووٹرز کی بھی موجود ہے جو آخری وقت میں اپنا فیصلہ کرنے کی روایت رکھتے ہیں۔
دوسری جانب حلقہ دو میں حافظ حفیظ الرحمن کی انتخابی مہم بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ گزشتہ انتخابات میں تیسرے نمبر پر آنے کے باوجود اس بار ان کی سیاسی پوزیشن پہلے سے کہیں مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی کے امیدوار بھی بھرپور انداز میں میدان میں ہیں، جس کے باعث یہ مقابلہ بھی نہایت سخت اور سنسنی خیز بنتا جا رہا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر موجود ہے کہ اس نشست پر کامیابی کا فیصلہ شاید چند ووٹوں کے فرق سے ہو۔
یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان کے موجودہ انتخابات معمول کی سیاسی سرگرمی سے بڑھ کر ایک بڑے سیاسی امتحان کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ عوامی محفلوں، سوشل میڈیا اور سیاسی نشستوں میں اس وقت سب سے زیادہ بحث اسی سوال پر ہو رہی ہے کہ آیا دونوں بڑی جماعتوں کے اہم رہنما اپنی اپنی نشستیں جیت پائیں گے یا نہیں۔ کیونکہ ان میں سے کسی ایک کی شکست نہ صرف اس کی ذاتی سیاسی ناکامی سمجھی جائے گی بلکہ اس کی جماعت کی مجموعی حکمت عملی پر بھی سوالات کھڑے کرے گی۔
گلگت بلتستان کے یہ انتخابات اس اعتبار سے بھی اہم ہیں کہ اس بار ووٹر صرف جماعتی وابستگی نہیں بلکہ امیدوار کی سیاسی ساکھ، عوامی رابطے، مقامی اثر و رسوخ اور مستقبل کے امکانات کو بھی مدنظر رکھتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہی عنصر اس انتخاب کو غیر معمولی بنا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا گلگت بلتستان کی سیاست ایک بار پھر وفاقی روایت کے مطابق چلتی ہے یا اس بار ووٹر کوئی نیا سیاسی راستہ اختیار کرتا ہے۔

