Gilgit Halqa One Ki Pasmandgi Aur Hafeez Ur Rehman Ki Entry
گلگلت حلقہ ون کی پسماندگی اور حفیظ الرحمن کی انٹری

گلگت حلقہ ون اس وقت سیاسی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، مگر اس کی اصل کہانی انتخابی نعروں سے زیادہ عوامی مسائل کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ حلقہ آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے معمولاتِ زندگی کو متاثر کر رکھا ہے، پینے کے صاف پانی کی شدید قلت عوام کے لیے روزمرہ کا چیلنج بنی ہوئی ہے، جبکہ دیگر حلقوں کی نسبت بے روزگاری کی بلند شرح نوجوانوں میں مایوسی کو جنم دے رہی ہے۔ ترقی کے دعوؤں کے باوجود زمینی حقائق ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
اسی پس منظر میں سابق وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن کی حلقہ ون میں انٹری نے سیاسی منظرنامے کو نئی جہت دے دی ہے۔ ان کی آمد کو ایک جانب مسلم لیگ (ن) کی مضبوط واپسی کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تو دوسری جانب اسے ایک بڑے سیاسی امتحان کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ ماضی کے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے اس حلقے کو درپیش دیرینہ مسائل کا حل پیش کر پائیں گے یا یہ انٹری بھی محض انتخابی سیاست تک محدود رہے گی۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے دیگر امیدوار پہلے ہی میدان میں آ چکے ہیں۔ پارٹی کے وائس صدر شفیق الرحمن سمیت کئی رہنماؤں کی جانب سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے جا چکے ہیں، جس کے بعد حفیظ الرحمن کی شمولیت نے اندرونی صف بندی کو ایک نئے امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر فیصلہ نہ کیا گیا تو یہ صورتحال ووٹ بینک کی تقسیم اور سیاسی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے نزدیک اس بار حلقہ ون کے ووٹرز پہلے سے زیادہ باشعور دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ محض وعدوں کے بجائے ٹھوس منصوبہ بندی، قابلِ عمل حکمت عملی اور فوری ریلیف کے خواہاں ہیں۔ بجلی، پانی اور روزگار جیسے بنیادی مسائل اب محض انتخابی نعرے نہیں بلکہ فیصلہ کن عوامل بن چکے ہیں۔
حتمی طور پر، گلگت حلقہ ون کا معرکہ صرف سیاسی برتری کی جنگ نہیں بلکہ عوامی اعتماد کی بحالی کا امتحان بھی ہے۔ آنے والے انتخابات یہ طے کریں گے کہ آیا حفیظ الرحمن اپنی سیاسی ساکھ کو عوامی خدمت میں ڈھال پاتے ہیں یا پارٹی کے اندرونی اختلافات اور حلقے کے دیرینہ مسائل ان کے راستے میں رکاوٹ بنے رہتے ہیں۔

