Wednesday, 28 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Iqbal Bijar
  4. Dard Se Pehle Khuda

Dard Se Pehle Khuda

درد سے پہلے خدا

انسان کی فطرت میں ایک عجیب سا تضاد پایا جاتا ہے۔ وہ نعمتوں کی فراوانی میں غافل اور آزمائش کے لمحے میں بیدار ہو جاتا ہے۔ جب زندگی رواں دواں ہو، جسم تندرست ہو، دل مطمئن ہو اور حالات سازگار ہوں تو انسان اپنے آپ کو خود کفیل سمجھنے لگتا ہے۔ اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سب کچھ اس کا حق ہے، جیسے یہ سب ہمیشہ قائم رہے گا۔ مگر یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں انسان شکرکے بجائے غفلت کا شکار ہو جاتا ہے۔

صوفیا کرام نے کہا ہے کہ غفلت سب سے بڑی بیماری ہے، ایسی بیماری جو درد کے بغیر لاحق ہوتی ہے، مگر انجام کار انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ صحت، جوانی، سکون اور آسائش جب ایک ساتھ میسر ہوں تو انسان ان کی قدر نہیں کرتا۔ وہ خدا کو یاد تو کرتا ہے، مگر محض الفاظ میں، دل اس یاد میں شامل نہیں ہوتا۔ عبادت عادت بن جاتی ہے، دعا رسمی ہو جاتی ہے اور شکر ایک لفظ سے آگے نہیں بڑھتا۔

پھر ایک دن قدرت انسان کو اس کی اصل حیثیت یاد دلاتی ہے۔ کبھی ایک اچانک بیماری کی صورت میں، کبھی کسی قریبی رشتے کے بچھڑنے میں اور کبھی کسی ایسی آزمائش میں جس کی اس نے کبھی توقع نہیں کی ہوتی۔ وہی انسان جو کل تک زندگی کی رفتار سے لطف اندوز ہو رہا تھا، آج درد سے پیلا پڑ جاتا ہے۔ اس کا جسم کمزور، آنکھیں نم اور دل سوالوں سے بھرا ہوتا ہے۔ اس لمحے اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ کتنا بے بس ہے۔

درد انسان کو جھکا دیتا ہے۔ وہ عیش و آرام جو کبھی زندگی کا مقصد تھا، اب بے معنی لگنے لگتا ہے۔ قیمتی چیزیں، منصب، تعریفیں، سب کچھ پیچھے رہ جاتا ہے۔ بستر پر پڑا انسان صرف ایک چیز کا طلبگار ہوتا ہے: راحت اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان حقیقی معنوں میں خدا کو یاد کرتا ہے۔ وہ ذات جسے وہ خوشی میں بھول گیا تھا، اب درد میں اسی کو پکار رہا ہوتا ہے۔

صوفیاء کہتے ہیں کہ درد بھی ایک نعمت ہے، کیونکہ یہ انسان کو اس کے رب سے جوڑ دیتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا خدا تک پہنچنے کے لیے درد ضروری ہے؟ کیا شکر اور بندگی کے لیے آزمائش کا آنا لازم ہے؟ اگر انسان نعمتوں کے دنوں میں ہی عاجزی اختیار کر لے، اگر وہ صحت کے عالم میں ہی اپنے رب کو دل سے یاد کرے تو شاید درد کی شدت کم ہو جائے اور آزمائش بھی رحمت بن جائے۔

درد سے پہلے خدا کو یاد کرنا دراصل دل کو زندہ رکھنا ہے۔ یہ مان لینا ہے کہ طاقت، صحت اور سکون مستقل نہیں بلکہ عارضی امانتیں ہیں۔ صوفیانہ فکر ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ انسان ہر لمحہ محتاج ہے، چاہے وہ ہنستا ہوا ہو یا روتا ہوا۔ جو انسان اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے، وہ آزمائش میں شکوہ نہیں کرتا بلکہ صبر اختیار کرتا ہے۔

ایک صوفی بزرگ کا قول ہے کہ "جو سجدہ شکر میں کیا جائے، وہ سجدہ درد میں کیے گئے ہزار سجدوں سے بہتر ہوتا ہے"۔ کیونکہ شکر میں کیا گیا سجدہ انسان کے شعور کی علامت ہوتا ہے، جبکہ درد میں کیا گیا سجدہ اکثر مجبوری کا اظہار بن جاتا ہے۔

ہمیں بحیثیت معاشرہ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم خدا کو صرف مشکل گھڑی میں کیوں یاد کرتے ہیں۔ کیوں نہ خوشی میں بھی اسی کے سامنے سر جھکایا جائے؟ کیوں نہ صحت کے دنوں میں ہی اپنے دل کو اس کے ذکر سے آباد رکھا جائے؟ کیونکہ جو دل ذکر سے جڑا ہو، وہ ٹوٹتا نہیں، چاہے حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ درد انسان کو خدا کے قریب تو لے آتا ہے، مگر دانائی اس میں ہے کہ انسان درد آنے سے پہلے ہی خدا کو پہچان لے۔ کیونکہ جو انسان شکرکے ساتھ جیتا ہے، وہ صبر کے ساتھ سہہ بھی لیتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان محض ایک جسم نہیں رہتا، بلکہ ایک باخبر روح بن جاتا ہے۔

Check Also

Molana Fazal Ur Rehman Ki Riyasti Nizam Se Bad Dili

By Nusrat Javed