Aman Ka Tasalsul Aur Aik Siasi Bayania
امن کا تسلسل اور ایک سیاسی بیانیہ

گلگت بلتستان میں 7 جون کو ہونے والے انتخابات کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔ مختلف جماعتیں عوامی حمایت کے حصول کے لیے متحرک ہیں، مگر اس تمام انتخابی گہماگہمی میں ایک پہلو ایسا ہے جو محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ اس خطے کی بنیادی ضرورت ہے اور وہ ہے پائیدار امن۔
گلگت بلتستان ماضی میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے تلخ تجربات سے گزر چکا ہے۔ ایک ایسا دور بھی دیکھا گیا جب علاقہ عملاً تقسیم کا شکار تھا اور معمولاتِ زندگی شدید متاثر تھے۔ ان حالات میں امن کے قیام کے لیے کئی افراد نے کردار ادا کیا، جن میں ایک نمایاں نام شہید سیف الرحمن کا ہے، جنہوں نے اس مقصد کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
یہ قربانی محض ایک واقعہ نہیں تھی بلکہ ایک سوچ اور مشن کی بنیاد تھی، جسے بعد ازاں ان کے بھائی حافظ حفیظ الرحمن نے عملی سیاست کے ذریعے آگے بڑھایا۔ حافظ حفیظ الرحمن کی سیاسی جدوجہد میں امن کا بیانیہ ہمیشہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جو انہیں دیگر سیاسی رہنماؤں سے ممتاز کرتا ہے۔
بطور وزیر اعلیٰ، ان کے دور حکومت کو عمومی طور پر امن و امان کے حوالے سے نسبتاً مستحکم قرار دیا جاتا ہے۔ یہ استحکام کسی ایک اقدام کا نتیجہ نہیں بلکہ مختلف طبقات کو ساتھ لے کر چلنے، مفاہمت کی فضا قائم کرنے اور حساس معاملات میں محتاط حکمت عملی اپنانے کا حاصل تھا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان کے دور میں ترقیاتی کاموں کی رفتار پر تنقید کی جاتی رہی ہے، تاہم یہ امر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ کسی بھی خطے میں ترقی کی بنیاد امن ہی ہوتا ہے۔ گلگت بلتستان جیسے حساس علاقے میں جہاں ماضی قریب میں بدامنی کے اثرات نمایاں رہے ہوں، وہاں سب سے پہلے استحکام کو یقینی بنانا ایک ناگزیر ضرورت ہوتی ہے۔
موجودہ انتخابی ماحول میں جہاں ترقیاتی وعدے اور سیاسی دعوے نمایاں ہیں، وہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کون سی قیادت امن کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ حافظ حفیظ الرحمن کا بیانیہ اسی تسلسل کی عکاسی کرتا ہے، جس میں امن کو محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
نوجوان نسل کے لیے بھی یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے بیانیے کو تقویت دے جو برداشت، ہم آہنگی اور اجتماعی مفاد پر مبنی ہو۔ کیونکہ پائیدار امن صرف حکومتی اقدامات سے نہیں بلکہ سماجی رویوں اور عوامی شعور سے بھی جڑا ہوتا ہے۔
گلگت بلتستان کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ یہاں امن کے قیام کے لیے دی گئی قربانیوں کو کس حد تک سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور کیا انہیں محض یاد رکھا جاتا ہے یا ان کے مشن کو عملی طور پر آگے بڑھایا جاتا ہے۔

