Sunday, 21 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Imtiaz Ahmad
  4. Waldain Ke Saamne Aulad Ki Tareef Karna

Waldain Ke Saamne Aulad Ki Tareef Karna

‎والدین کے سامنے اولاد کی تعریف کرنا

ان دو میں سے ایک واقعے نے تو مجھ پر، میری یادوں اور میرے رویے پر بہت گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

میں آپ سب سے معذرت خواہ بھی ہوں اور مجھے کبھی کبھار خود بھی اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ جب پاکستان اور دنیا کو اتنے اہم مسائل کا سامنا ہے، لوگ ادب پر لکھ رہے ہیں، انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف کھڑے ہیں تو میں کیوں چھوٹی چھوٹی باتوں اور رویوں کو موضوع بناتا ہوں۔

لیکن پھر یہ خیال بھی آتا ہے، جو چھوٹی سی بات میرے اندر تبدیلی کا باعث بنی ہے، یا جس سے مجھے خوشی پہنچی ہے، شاید اس سے کسی دوسرے شخص کو بھی خوشی پہنچے یا کسی دوسرے شخص کو بھی پسند آ جائے؟ تو ان دو واقعات کا بھی میری خوشی اور ایک رویے میں تبدیلی سے بہت گہرا تعلق ہے۔

یہ کوئی پندرہ برس پہلے کی بات ہے۔ ابو جی کی کمر میں درد کا مسئلہ کافی شدید ہو چکا تھا۔ ابو جی نے کہا کہ لاہور میں کسی ڈاکٹر سے چیک آپ کروانا چاہیے۔ اب لاہور میں ہم نہ کسی ڈاکٹر کو جانتے تھے اور نہ ہی کوئی قریبی رشتہ دار ہے۔

میرے ذہن میں جو سب سے پہلا خیال آیا وہ تنویر شہزاد صاحب کا تھا۔ بہت ہی اچھے صحافی دوست ہیں، سدا مسکراتے رہتے ہیں اور شاندار اخلاق کے مالک ہیں۔ شدید بخار میں بھی آپ ان کے چہرے پر صرف مسکراہٹ ہی دیکھیں گے۔

میں نے ان سے گزارش کی کہ والد صاحب کو کمر کی درد کا شدید مسئلہ درپیش ہے، وہ ساری ساری رات چار پائی پر بیٹھے بیٹھے، صحن میں ٹہل کر اور ہائے ہائے کرتے گزار دیتے ہیں، آپ براہ مہربانی ان کا کسی اچھے سے ڈاکٹر سے چیک آپ کروا دیں، میں آپ کا احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔

جس دن ابو جی لاہور سے واپس آئے تو میں نے جرمنی سے فون کیا تاکہ طبیعت کا دریافت کر سکوں۔ ابو جی اس دن شدید تکلیف کے باوجود بھی بہت خوش تھے۔ میں ان کی طبیعت کا پوچھا لیکن وہ کہنے لگے کہ تمہارے دوست نے تمہاری بہت زیادہ تعریف کی ہے۔ ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ تمہیں جرمنی میں اتنا اچھا دفتر ملا ہوا ہے اور تمہاری لوگ اتنی عزت کرتے ہیں اور جرمنی میں کسی کسی کو ایسی نوکری ملتی ہے وغیرہ وغیرہ۔۔

یقین جانیے تنویر صاحب نے جو انہیں باتیں بتائی تھیں اور جو میری تعریف کی تھی، شاید ہی اس میں کوئی پچاس فیصد سچائی ہو لیکن یہ جھوٹ سچ سن کر اس دن میرے والد صاحب بہت ہی خوش تھے۔

اس واقعے کے کچھ دیر بعد ہی ابو جی کی وفات ہوگئی لیکن ان کی وہ اس دن کی خوشی، وہ مسکراہٹ، آنکھوں کی وہ چمک، ایک انجانا سا فخر، آج تک میرے خیالات اور روح سے چپکا ہوا ہے۔

آج اتنے برس بعد بھی جب میں والد صاحب کے بارے میں سوچتا ہوں تو تنویر صاحب کے لیے میرے دل سے دعا نکلتی ہے۔ خیال آتا ہے کہ وہ آخری شخص تھے جنہوں نے میری ذات کے حوالے سے میرے والد کو خوشی فراہم کی تھی اور وہ اس دن اپنی شدید تکلیف بھول گئے تھے۔

اس کے برعکس مجھے والد صاحب کا وہ متفکر اور جھریوں بھرا چہرہ بھی یاد ہے، جب ہمارے ایک جاننے والے نے ابو جی کو آ کر کہا کہ تمہارا بیٹا جب دیکھو گھومتا رہتا ہے، مجھے نہیں لگتا کہ یہ زندگی میں کبھی کامیاب ہوگا۔

یہ فقرہ ان صاحب نے اس وقت کہا تھا، جب میں پیسے نہ ہونے کی وجہ سے فرسٹ کے بعد پڑھائی چھوڑ چکا تھا اور زیادہ تر وقت ابو جی کی شٹرنگ والی دکان پر ان کے ساتھ بیٹھتا تھا۔

ابو جی کے دل میں کہیں نہ کہیں ایک امید کی کرن یا کوئی دیا روشن تھا کہ میرا بچہ کچھ کر لے گا، پڑھ لے گا، کوئی نوکری مل جائے گی لیکن وہ شخص ایک ڈگمگاتے ہوئے شخص کو مزید ایک دھکا دے کر جا چکا تھا، دیے کی ہلکی ہلکی لو کو بھی پھونک مار کر بجھا چکا تھا۔

ابو جی نے یہ بات ماں جی کو بھی بتائی اور وہ پہلے سے مزید پریشان ہوگئیں۔

یقین کیجیے والد صاحب مجھے دیکھتے تھے اور ان کی آنکھیں نم ہو جاتی تھیں، ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ کسی بااختیار شخص کے پاؤں پکڑیں اور رو رو کر کہیں کہ میرے بیٹے کو کوئی نوکری دلوا دو، کسی طریقے سے اسے روزگار دلوا دو، اس پر کامیابی کی مہر لگوا دو، کوئی مجھے یہ آ کر نہ کہے کہ اس نے کامیاب نہیں ہونا۔

اس طرح میرے ایک بہت ہی اچھے ساتھی اور مہربان نے چند برس پہلے امی جی سے کہہ دیا کہ آپ کا لڑکا لائق ہے لیکن کام سے بھاگتا ہے۔ یقین کیجیے یہ بات سو فیصد سچ ہے، یہ خرابی مجھ میں ہے۔ امی جی کو بھی اس کا علم ہے لیکن ان کی یہ بات امی جی کی رائے پر مہر ثابت ہوئی ہے۔

امی جی آج تک کہتی ہیں کہ یہ ڈھیلا ہے، نکمہ ہے، کام چور بھی ہے۔ اس کے اُس ساتھی نے بھی کہا تھا۔

یہ دو، تین واقعات شاید آپ کو معمولی سے لگیں لیکن میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔

ایک یہ کہ والدین کے سامنے اس کی اولاد کی ہمیشہ تعریف کریں، چاہے وہ آدھی جھوٹ پر ہی مبنی کیوں نہ ہو۔

دوسرا والدین کو اپنی اولاد کا علم ہوتا ہے، انہیں علم ہوتا ہے کہ ان کے بیٹے یا بیٹی میں کونسی کمی، کوتاہی یا خامی ہے لیکن آپ کی منفی رائے والدین کی رائے کو مزید پختہ کر دیتی ہے، اس پر مُہر ثابت ہوتی ہے۔

منفی رائے دینے سے والدین میں ایک ردعمل پیدا ہوتا ہے، جو اولاد اور والدین میں محبت کی بجائے غصے کو جنم دیتا ہے۔

تنویر صاحب والے واقعے کے بعد سے میں ہمیشہ کسی کی والدہ ہو یا والد ان کے سامنے ان کی اولاد کی تعریف ہی کرتا ہوں اور یقین کیجیے ان کے چہرے کِھل اٹھتے ہیں، والدین کو فخر ہوتا ہے کہ ان کی اولاد میں خوبیاں ہیں، دوسرے ان کی عزت کرتے ہیں، انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

وہ اپنی اولاد کی تعریف کے پیچھے اپنی تعریف سن رہے ہوتے ہیں۔ یقین کیجیے کہ اگر آپ کسی کی اولاد کی تعریف کر دیں گے تو ہمیشہ اچھے رویے اور اچھے مزاج ہی سامنے آئیں گے۔

والدین کو اپنی اولاد کی کمیوں، کوتاہیوں کا کہیں نہ کہیں سے علم ہو ہی جاتا ہے لیکن کوشش کریں کہ منفی خبر دینے یا ان کی نالائقی کی خبر دینے والے آپ نہ ہوں۔

ہر بچے کی قسمت، عقل، رویہ، طریقہ کار، سلوک، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ ہر بچہ کلاس میں اول نہیں آ سکتا، ہر بچہ ذہانت کے اعلی درجے پر فائز نہیں ہو سکتا، ہر بچہ ایک ہی مرتبہ سبق پڑھ کر اسے یاد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

بلکہ جب والدین اپنے بچے کی کم عقلی کی بات کریں بھی تو انہیں سمجھائیں کہ سب ایک جیسی ذہانت لے کر پیدا نہیں ہوتے، یہ فطرت کا قانون ہے، یہ عب سوہنے کی تقسیم ہے، خیر اس طرح بات ماحول اور تربیت کی طرف نکل جائے گی۔

کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ والدین کے سامنے ان کے بچوں کی تعریف کیا کریں۔

بلکہ آپ سے کوئی شخص کسی دوسرے انجان شخص کے بارے میں بھی پوچھے یا رائے طلب کرے تو اپنی دشمنی اور چپقلش کے باوجود بھی اس غیر موجود شخص کی خوبیاں ہی بیان کریں۔

اگر خوبیاں نہیں بھی بیان کر سکتے تو کہہ دیں کہ آپ اس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔ منفی رائے دے کر ایک تعلق کو بننے سے پہلے ہی خراب یا سپائل نہ کریں۔

اس طرح میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی کسی شوہر یا بیوی کی سامنے اس کے پارٹنر کی برائی کی جاتی ہے تو اس کے بہت ہی منفی اثرات سامنے آتے ہیں، لڑائیاں ہوتی ہیں، جھگڑے ہوتے ہیں۔

براہ مہربانی برائیاں ڈھونڈنے کا کام صرف صحافیوں پر چھوڑ دیجیے۔ وہ بیچارے بھی کسی حد تک مجبور ہیں اور اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ان کے لیے خاصا مشکل ہے۔ صحافیوں کو تنخوا ہی معاشرے کی برائیوں پر نظر رکھنے کی ملتی ہے اور پھر دفتر میں ایڈیٹر کو خاص ٹاسک ملتا ہے کہ تحریر میں سے صرف غلطیاں نکالنی ہیں۔ نتیجتا ہمارے صحافی بھائیوں کی نظر کا زاویہ ہی تبدیل ہو جاتا ہے۔ انہیں آہستہ آہستہ باہر سے لے کر گھر تک صرف غلطیاں اور برائیاں ڈھونڈنے کی عادت سی ہو جاتی ہیں۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ صحافی بیچارہ ہمیشہ پریشان ہی گھومتا ہے، اسے ہر چیز الٹی ہی نظر آتی ہے، اسے جگہ جگہ غلطیاں ہی ملتی ہیں۔ ان کے منہ سے بہت کم ہی کسی کے لیے تعریفی کلمات نکلتے ہیں، تو براہ مہربانی آپ میری طرح کے صحافیوں جیسے نہ بنیں اپنے ساتھیوں اور اردگرد گھومتے لوگوں میں خوبیاں تلاش کیجیے اور انہیں بیان بھی کیجیے!

Check Also

Ajeeb Log

By Irfan Javed