Venezuela Ka Sadar Agwa Aur Amereci Samraj
وینزویلا کا صدر اغوا اور امریکی سامراج

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی ملک نے اپنے قدرتی وسائل پر خود اختیار کا اعلان کیا، تو سامراجی طاقتوں نے اسے کسی نہ کسی بہانے نشانہ بنایا۔ وینزویلا کے صدر کا اغوا اسی سامراجی تسلسل کی ایک تازہ اور واضح کڑی ہے۔ یہ واقعہ محض ایک فرد کے اغوا تک محدود نہیں بلکہ ایک خودمختار ریاست کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی منظم کوشش ہے۔ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں تیل ہمیشہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور وینزویلا جیسے ممالک اس پالیسی کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
وینزویلا دنیا کے اُن خوش قسمت مگر بدقسمت ممالک میں شامل ہے جن کے پاس تیل کے سب سے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ یہ تیل وینزویلا کے لیے ترقی، خوشحالی اور خودداری کا ذریعہ بن سکتا تھا، مگر امریکی سامراج نے اسے اس ملک کے لیے عذاب بنا دیا۔ امریکہ یہ کبھی برداشت نہیں کرتا کہ کوئی ریاست، خاص طور پر لاطینی امریکہ میں، اس کے معاشی اور سیاسی کنٹرول سے آزاد ہو کر فیصلے کرے۔ یہی وجہ ہے کہ وینزویلا کئی دہائیوں سے امریکی دباؤ، سازشوں اور پابندیوں کا شکار ہے۔
صدر نکولس مادورو کا سب سے بڑا جرم یہی تھا کہ انہوں نے کھلے الفاظ میں کہا کہ وینزویلا کا تیل وینزویلا کے عوام کی ملکیت ہے۔ انہوں نے امریکی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ترجیح دینے سے انکار کیا اور قومی مفاد کو فوقیت دی۔ یہی اعلان واشنگٹن کے ایوانوں میں خطرے کی گھنٹی بن گیا۔ امریکہ کے لیے یہ ناقابلِ قبول تھا کہ ایک نسبتاً کمزور ملک اس کی مرضی کے خلاف کھڑا ہو اور روس، چین اور ایران جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کرے۔
امریکہ کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک واضح پیٹرن سامنے آتا ہے۔ جہاں کہیں تیل، گیس یا دیگر قیمتی وسائل ہوں، وہاں امریکی مداخلت ضرور ملتی ہے۔ عراق، لیبیا، شام اور افغانستان اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ ہر جگہ پہلے جمہوریت کا نعرہ لگایا گیا، پھر پابندیاں عائد کی گئیں، اس کے بعد داخلی انتشار پیدا کیا گیا اور آخرکار فوجی یا نیم فوجی کارروائی کے ذریعے ریاستی ڈھانچہ تباہ کر دیا گیا۔ وینزویلا کے صدر کا اغوا اسی منصوبہ بند حکمتِ عملی کا تسلسل ہے۔
وینزویلا پر عائد کی گئی معاشی پابندیاں دراصل ایک خاموش جنگ تھیں۔ ان پابندیوں کا مقصد حکومت کو نہیں بلکہ عوام کو سزا دینا تھا۔ خوراک کی قلت، ادویات کی کمی، مہنگائی اور بے روزگاری، یہ سب امریکی پالیسی کے براہِ راست نتائج تھے۔ امریکہ چاہتا تھا کہ عوام بھوک اور مایوسی کے عالم میں اپنی ہی حکومت کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔ جب یہ حربہ کامیاب نہ ہو سکا تو اگلا قدم صدر کا اغوا تھا۔
صدر کے اغوا میں ملوث عناصر کے بارے میں سامنے آنے والی اطلاعات اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہیں کہ یہ کوئی مقامی کارروائی نہیں تھی۔ نجی امریکی فوجی کمپنیاں، سابق امریکی فوجی اور خفیہ نیٹ ورکس، یہ سب امریکہ کے وہ سائے ہیں جو براہِ راست سامنے آئے بغیر کام کرتے ہیں۔ امریکہ کی یہ پرانی عادت رہی ہے کہ وہ اپنے "گندے کام" دوسروں کے ہاتھوں کرواتا ہے، تاکہ بعد میں ذمہ داری سے انکار کیا جا سکے۔
اس سارے معاملے میں عالمی میڈیا اور نام نہاد انسانی حقوق کے اداروں کی خاموشی سب سے زیادہ شرمناک ہے۔ اگر یہی اغوا کسی امریکہ نواز ملک میں ہوتا تو دنیا بھر میں شور مچ جاتا۔ مگر وینزویلا کے معاملے میں سب خاموش ہیں، کیونکہ یہاں مظلوم امریکہ کے مفادات کے خلاف کھڑا ہے۔ یہ خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی انصاف بھی طاقتور کے تابع ہو چکا ہے۔
امریکہ دراصل وینزویلا میں ایسی حکومت چاہتا ہے جو اس کے مفادات کی محافظ ہو۔ ایک ایسی حکومت جو تیل کے کنویں امریکی کمپنیوں کے حوالے کر دے، جو روس اور چین سے تعلقات ختم کر دے اور جو واشنگٹن کے اشاروں پر فیصلے کرے۔ صدر کا اغوا اسی مقصد کے لیے کیا گیا تاکہ ملک میں سیاسی خلا پیدا ہو، انتشار بڑھے اور پھر بین الاقوامی مداخلت کو "مدد" کے نام پر جائز قرار دیا جا سکے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جہاں کہیں امریکہ نے اس قسم کی مداخلت کی، وہاں جمہوریت کبھی مضبوط نہیں ہوئی۔ عراق آج بھی عدم استحکام کا شکار ہے، لیبیا ایک ناکام ریاست بن چکا ہے اور افغانستان دہائیوں پیچھے چلا گیا۔ وینزویلا کو بھی اسی راستے پر دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ اسے ایک مضبوط، خودمختار ریاست کے بجائے ایک محتاج اور کمزور ملک میں تبدیل کیا جا سکے۔
وینزویلا کے صدر کا اغوا دراصل تیسری دنیا کے تمام ممالک کے لیے ایک وارننگ ہے۔ یہ پیغام ہے کہ اگر تم نے اپنے وسائل پر حق مانگا، اگر تم نے سامراجی نظام کو چیلنج کیا، تو تمہاری قیادت بھی محفوظ نہیں رہے گی۔ یہ پیغام صرف لاطینی امریکہ کے لیے نہیں بلکہ ایشیا، افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے بھی ہے۔
آخر میں یہ کہنا ناگزیر ہے کہ تیل آج بھی عالمی سیاست کی شہ رگ ہے اور امریکہ اس شہ رگ پر اپنی گرفت مضبوط رکھنا چاہتا ہے۔ وینزویلا کے صدر کا اغوا اسی گرفت کو مضبوط کرنے کی ایک کوشش ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ عمل درست تھا یا غلط، سوال یہ ہے کہ دنیا کب تک اس سامراجی کھیل کو خاموشی سے دیکھتی رہے گی؟
کیونکہ جب تیل بولتا ہے، تو انسانیت خاموش ہو جاتی ہے۔

