Kya Simple FA, BA Waqai Be Faida Hain?
کیا سمپل ایف اے، بی اے واقعی بے فائدہ ہیں؟

گزشتہ کچھ عرصے سے ہمارے معاشرے میں ایک خاص سوچ بڑے زور و شور سے فروغ پا رہی ہے کہ سمپل ایف اے یا بی اے کی ڈگری اب کسی کام کی نہیں رہی، ان شعبوں کی مارکیٹ میں کوئی ڈیمانڈ نہیں اور والدین اگر اپنے بچوں کو ایف اے یا بی اے کرواتے ہیں تو وہ دراصل بے روزگاروں کی ایک نئی کھیپ تیار کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی سوچ کے زیرِ اثر یہ مشورہ عام دیا جا رہا ہے کہ میٹرک کے بعد بچوں کو کسی ہنر کی طرف لگا دیا جائے تاکہ کم از کم وہ روزگار کمانے کے قابل تو ہو جائیں۔
یہ بات بظاہر بڑی حقیقت پسندانہ اور عملی محسوس ہوتی ہے، مگر درحقیقت یہ سوچ نہ صرف سطحی بلکہ گمراہ کن بھی ہے۔ میں اس بیانیے سے شدید اختلاف کرتا ہوں۔
سب سے پہلے یہ حقیقت ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کسی بھی شعبے میں ترقی، قیادت اور ٹاپ لیول تک پہنچنے کے لیے آج بھی یونیورسٹی کی ڈگری ایک بنیادی شرط ہے۔ چاہے آپ سرکاری ملازمت کی بات کریں، بین الاقوامی اداروں کی، پالیسی میکنگ کی یا تحقیق و تدریس کی، ہر جگہ اعلیٰ تعلیم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور یونیورسٹی ڈگری کے حصول کے لیے ایف اے، ایف ایس سی یا بی اے کا مرحلہ ناگزیر ہے۔
ہائر ایجوکیشن کے موجودہ قوانین کے مطابق اگر کوئی طالب علم سائنس کے مضامین میں آگے چل کر ماسٹرز یا ریسرچ کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے ایف ایس سی لازمی ہے، جبکہ آرٹس، سماجی علوم، زبانوں اور ہیومینٹیز کے مضامین میں ماسٹرز کے لیے ایف اے یا بی اے ضروری شرط ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سمپل ایف اے یا بی اے آج بھی اعلیٰ تعلیم کی بنیاد ہیں، رکاوٹ نہیں۔
اب رہی یہ بحث کہ کیا آج کی مارکیٹ میں آرٹس، سماجی علوم، معاشیات، صحافت، ابلاغیات یا بین الاقوامی زبانوں کی کوئی مانگ باقی نہیں رہی؟
کوئی بھی معاشرہ صرف ہنر مند افراد کے بل بوتے پر ترقی نہیں کر سکتا۔ ایک متوازن اور مہذب سوسائٹی کو ہنرمند کاریگروں کے ساتھ ساتھ معیشت دان، سماجی علوم کے ماہرین، قانون دان، پالیسی ساز، پولیس اور سول سروس افسران، ڈاکٹرز، آئی ٹی اسپیشلسٹس، صحافی، مترجم، لکھاری، فنکار اور موسیقار بھی درکار ہوتے ہیں۔ یہ تمام شعبے براہِ راست یا بالواسطہ آرٹس اور سماجی علوم سے جڑے ہوتے ہیں۔
یہ کہنا کہ آرٹس یا سماجی علوم کی مارکیٹ ختم ہو چکی ہے، دراصل مارکیٹ کی غلط تشخیص ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر ان شعبوں کی مانگ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے، مگر شرط یہ ہے کہ آپ اس شعبے میں محض ڈگری نہیں بلکہ قابلیت اور مہارت بھی حاصل کریں۔
پاکستان میں آج بھی اعلیٰ سرکاری ملازمتوں اور مقابلے کے امتحانات کے لیے سمپل بی اے یا کسی بھی مضمون میں ماسٹرز لیول کی ڈگری بنیادی اہلیت سمجھی جاتی ہے۔ سی ایس ایس اور پی ایم ایس جیسے امتحانات میں شریک ہونے والے تقریباً 80 فیصد امیدوار سماجی علوم سے متعلقہ مضامین اختیار کرتے ہیں۔ میرے اپنے بی اے اور ایم اے کے سینکڑوں کلاس فیلوز آج گریڈ 16 اور 17 کی سرکاری ملازمتوں میں افسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اسی طرح درجنوں ایسے دوست بھی ہیں جنہوں نے آرٹس اور سماجی علوم میں سمپل بی اے یا ایم اے کرنے کے بعد بیرونِ ملک کی اچھی جامعات میں اسکالرشپس حاصل کیں اور آج امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، سویڈن اور ڈنمارک جیسے ممالک میں ایک باوقار، مستحکم اور معیاری زندگی گزار رہے ہیں۔
اس کے برعکس، میں نے ایسے کئی افراد بھی اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں جنہوں نے ملک کے بہترین میڈیکل کالجز سے ایم بی بی ایس کیا، مگر عملی زندگی میں ناکامی کے بعد پرائیویٹ اسپتالوں میں چند ہزار روپے کی نوکریاں کرنے پر مجبور ہیں۔ یہی صورتحال زراعت، بائیو ٹیکنالوجی، ویٹرنری سائنسز، آئی ٹی، ڈیٹا سائنس، انجینئرنگ، میتھ، کیمسٹری اور اپلائیڈ فزکس جیسے جدید ترین شعبوں میں ایم فل اور پی ایچ ڈی ہولڈرز کے ساتھ بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ہماری جامعات کا سلیبس اور تدریسی معیار عالمی مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق نہیں، اسی لیے ہم ہر سال لاکھوں پڑھے لکھے بے روزگار پیدا کر رہے ہیں۔ میرے نزدیک یہ دلیل بھی مکمل سچ پر مبنی نہیں۔ دنیا کی بڑی جامعات کے سلیبس سے موازنہ کر لیا جائے تو پاکستان کی سرکاری جامعات کا نصاب، فیکلٹی اور تحقیقی ڈھانچہ کسی طور اتنا کمزور نہیں کہ ہمارے طلبہ مقابلے کی دوڑ سے باہر ہو جائیں۔
اصل مسئلہ سلیبس نہیں بلکہ ہماری تعلیمی اپروچ، وژن اور گائیڈنس کا فقدان ہے۔ آج بھی میٹرک کے بعد والدین کا خواب یہی ہوتا ہے کہ بچہ ڈاکٹر یا انجینئر بنے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو ایسے شعبے تلاش کیے جاتے ہیں جہاں سے جلدی نوکری مل جائے۔ یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہی طالب علم کا مقصد علم حاصل کرنا نہیں بلکہ کسی نہ کسی طرح ڈگری اور اچھا جی پی اے حاصل کرنا بن جاتا ہے۔
مطالعے کی حالت یہ ہے کہ کتابیں پڑھنا، حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا تو دور کی بات، سلیبس کی ریڈنگز کو بھی ہاتھ لگانا وقت کا ضیاع سمجھا جاتا ہے۔ تحقیق کے نام پر اسائنمنٹس یا تو پیسے دے کر لکھوائی جاتی ہیں یا انٹرنیٹ سے کاپی پیسٹ کرکے رسمی تقاضے پورے کیے جاتے ہیں، کیونکہ طلبہ کو معلوم ہے کہ سرکاری نوکری اور ہائیر اسٹڈیز میں معیار سے زیادہ نمبروں کو دیکھا جاتا ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ آج بین الاقوامی اسکالرشپس کے میدان میں پاکستانی طلبہ بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال جیسے ممالک سے بھی پیچھے ہیں۔ 24 کروڑ آبادی کے باوجود پاکستان میں معیشت پر سنجیدہ اور معیاری لکھنے والے معاشی ماہرین انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ بین الاقوامی قانون کے ماہرین، عالمی معیار کے صحافی، اچھے مترجم، موسیقار اور تخلیقی لکھاری نایاب ہوتے جا رہے ہیں۔
مارکیٹ کا ایک اٹل اصول ہے: ڈگری نہیں، قابلیت بکتی ہے۔ مگر یہ قابلیت آسمان سے نازل نہیں ہوتی، اسے علم، مطالعے، تحقیق اور وژن سے تراشا جاتا ہے۔ اگر کوئی طالب علم 16 یا 18 سال کی تعلیم کے بعد بھی یہ نہیں جانتا کہ بیرونِ ملک اسکالرشپ کے لیے ایک مؤثر لیٹر آف انٹینٹ کیسے لکھا جاتا ہے، عالمی مسائل پر مدلل گفتگو کیسے کی جاتی ہے، یا اپنے مضمون میں تخلیقی اور تنقیدی سوچ کیسے پیدا کی جاتی ہے تو ایسی ڈگری واقعی محض کاغذ کا ایک ٹکڑا بن کر رہ جاتی ہے۔
مسئلہ سمپل ایف اے یا بی اے کا نہیں، مسئلہ سمپل سوچ، کمزور رہنمائی اور علم سے بے رغبتی کا ہے۔ جب ہم ڈگری کو مقصد کے بجائے ذریعہ بنا لیں گے، تبھی تعلیم روزگار ہی نہیں بلکہ قیادت، وقار اور عالمی شناخت کا راستہ بنے گی۔

