Monday, 02 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Imran Ismail
  4. Iran Mein Regime Change Ki Tareekh Aur Sabaq

Iran Mein Regime Change Ki Tareekh Aur Sabaq

ایران میں رجیم چینج کی تاریخ اور سبق

ایران میں جاری احتجاجات کو محض وقتی عوامی ردِعمل سمجھنا ایک سادہ تجزیہ ہوگا۔ یہ مظاہرے بظاہر مہنگائی، بے روزگاری، سماجی پابندیوں اور سیاسی جمود کے خلاف ہیں، مگر ان کے پس منظر میں طاقت، اقتدار اور عالمی سیاست کے پیچیدہ دھاگے جڑے ہوئے ہیں، جو ایران کی جدید تاریخ میں بار بار سامنے آتے رہے ہیں۔ خاص طور پر جب امریکی قیادت کی جانب سے یہ بیانات آتے ہیں کہ "ہم ایران میں مظاہرین کو بچانے کے لیے جائیں گے"، تو یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ کیا یہ واقعی انسانی ہمدردی ہے یا ایک بار پھر رجیم چینج (Regime Change) کا پرانا نسخہ آزمایا جا رہا ہے؟

ایران کے موجودہ احتجاجات کی جڑیں کئی سطحوں پر ہیں۔ سب سے پہلی وجہ معاشی مشکلات ہیں۔ امریکی پابندیوں کے سبب ایران کی معیشت دباؤ میں ہے، مہنگائی نے عوام کی زندگیوں کو مشکل کر دیا ہے اور نوجوانوں میں بے روزگاری بڑھ گئی ہے۔ اس کے علاوہ سماجی آزادیوں کی کمی، خواتین اور نوجوانوں کے حقوق کی خلاف ورزیاں اور سیاسی عمل میں شمولیت کی محدودیت نے عوام کو ایک جذباتی اور سماجی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ یہی عوامل مظاہرین کو سڑکوں پر لے آئے ہیں، جہاں وہ بہتر روزگار، شفاف حکمرانی، عزت اور آزادی کے مطالبات کر رہے ہیں۔

مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں بیرونی طاقتیں ان احتجاجات کو اپنے سیاسی اور اقتصادی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ حالیہ امریکی بیانات، جن میں ایران میں "مظاہرین کی حفاظت" کا ذکر کیا گیا ہے، تاریخ کی روشنی میں بہت حساس ہیں۔ ایرانی قوم کے لیے یہ بیانات کسی بھی مقامی احتجاج کو غیر ملکی مداخلت کا آلہ بنا سکتے ہیں۔ یہاں تاریخی سبق یاد رکھنا ضروری ہے، خاص طور پر 1950 کی دہائی کے ایران کا واقعہ۔

1951 میں منتخب وزیرِ اعظم ڈاکٹر محمد مصدق نے ایک جرات مندانہ فیصلہ کیا اور ایران کے تیل کو قومی تحویل میں لے لیا۔ اس اقدام کے ذریعے ایران نے اپنی زمین میں موجود تیل پر خود مختاری حاصل کی، جو اس وقت برطانوی کمپنیوں کے زیرِ کنٹرول تھا، خصوصاً اینگلو-ایرانی آئل کمپنی۔ یہ اقدام عوام میں نہایت مقبول ہوا، کیونکہ یہ ایرانی قومی وقار اور خودمختاری کی علامت تھا۔ مگر برطانیہ کے لیے یہ ناقابلِ قبول تھا۔

برطانوی حکومت نے ابتدا میں معاشی پابندیاں لگائیں، سفارتی دباؤ ڈالا اور ایران کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کی۔ جب یہ حربے ناکام ہوئے تو برطانیہ نے امریکہ سے مدد طلب کی۔ سرد جنگ کے ماحول میں امریکہ کو بتایا گیا کہ اگر مصدق کی حکومت برقرار رہی تو ایران کمیونزم یا روسی اثر و رسوخ کی جانب جا سکتا ہے۔ نتیجتاً 1953 میں امریکہ اور برطانیہ کی مشترکہ سازش کے تحت مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور شاہِ ایران کو دوبارہ مکمل اختیارات دے دیے گئے۔

یہ ایک چھوٹا سا سیاسی واقعہ ایران کی تاریخ میں زبردست اثرات چھوڑ گیا۔ ایک جمہوری طور پر منتخب حکومت کو ہٹا کر آمرانہ نظام کو مضبوط کیا گیا، جس نے ایرانی عوام کے دلوں میں مغرب، خصوصاً امریکہ اور برطانیہ، کے خلاف شدید بداعتمادی پیدا کر دی۔ یہی بداعتمادی بالآخر 1979 کے اسلامی انقلاب میں ڈھل گئی، جس نے شاہی نظام کا خاتمہ کرکے ایران کو ایک نظریاتی ریاست میں تبدیل کر دیا۔

آج جب ایران میں احتجاجات ہو رہے ہیں اور بعض امریکی رہنما "مظاہرین کی حفاظت" کی بات کر رہے ہیں، تو بہت سے ایرانی 1953 کے واقعے کو یاد کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ مداخلت کے نام پر کبھی بھی اندرونی سیاسی عمل کو نہ صرف نقصان پہنچایا جا سکتا ہے بلکہ اسے غیر ملکی ایجنڈے کے تحت توڑا بھی جا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ موجودہ نظام کے ناقد بھی اس مداخلت کو خطرناک تصور کرتے ہیں۔

رجیم چینج کا تصور، خاص طور پر بیرونی طاقتوں کے ذریعے، ہمیشہ تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ عراق، لیبیا اور افغانستان کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جہاں "جمہوریت" اور "انسانی حقوق" کے نعروں کے تحت کی گئی مداخلت نے ریاستی ڈھانچوں کو تباہ کر دیا۔ ایران کے معاملے میں بھی یہی خطرہ موجود ہے۔ بیرونی دباؤ اکثر اندرونی سخت گیر عناصر کو مضبوط کرتا ہے، جو ہر اختلافی آواز کو غیر ملکی ایجنڈا قرار دے کر کچلنے کا جواز حاصل کر لیتے ہیں۔

یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ ایران کے عوام کے مسائل حقیقی ہیں اور ان کا حل بھی درکار ہے۔ مگر تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پائیدار تبدیلی باہر سے نہیں، اندر سے آتی ہے۔ اگر ایرانی معاشرے میں اصلاحات آنی ہیں تو وہ مقامی سیاسی عمل، سماجی شعور اور عوامی دباؤ کے ذریعے ہی ممکن ہیں۔ بیرونی طاقتوں کی "مدد" اکثر مدد کم اور نقصان زیادہ ثابت ہوتی ہے۔

مزید برآں، موجودہ احتجاجات میں ایران کے نوجوانوں کی بھرپور شمولیت ایک اہم عنصر ہے۔ یہ نسل پہلے سے زیادہ تعلیم یافتہ، عالمی معلومات سے واقف اور سماجی انصاف کے مطالبات کے لیے حساس ہے۔ وہ نہ صرف اقتصادی بہتری چاہتے ہیں بلکہ سماجی آزادی، خواتین کے حقوق اور سیاسی شفافیت کے خواہاں بھی ہیں۔ اس وقت ان کے مطالبات کی حمایت ضروری ہے، لیکن اس حمایت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ خود اپنے مسائل کا حل تلاش کریں، نہ کہ بیرونی طاقتوں کی سرپرستی میں۔

مصدق سے لے کر آج کے مظاہرین تک ایک ہی سبق بار بار دہرایا گیا ہے: جب بھی ایران نے اپنی خودمختاری کا اظہار کیا، بیرونی طاقتوں نے اسے اپنے مفادات کے خلاف سمجھا اور جب بھی بیرونی مداخلت ہوئی، اس نے ایرانی عوام کے زخموں میں اضافہ ہی کیا۔ آج کے احتجاجات کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس تاریخی تسلسل کو نظر میں رکھنا ہوگا۔

تاریخ خود کو لفظ بہ لفظ نہیں دہراتی، مگر اس کے نقش ضرور باقی رہتے ہیں۔ ایران کی گلیوں میں آج جو نعرے گونج رہے ہیں، ان کے پیچھے کل کی کہانیاں بھی سانس لے رہی ہیں۔ اگر واقعی انسانی حقوق اور عوامی آزادی مقصود ہیں تو سب سے پہلا اصول یہ ہونا چاہیے کہ ایران کے مستقبل کا فیصلہ ایرانی عوام خود کریں، نہ کہ کوئی اور ان کے نام پر۔ بیرونی طاقتوں کا کردار صرف مشاہدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کے ذریعے اخلاقی دباؤ تک محدود ہونا چاہیے، نہ کہ مداخلت یا حکومتی تبدیلی کے لیے دھکیلنا۔

مصدق کی کہانی اور موجودہ احتجاجات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ آزاد اور خودمختار فیصلے بیرونی دباؤ سے تباہ ہو سکتے ہیں، لیکن داخلی شعور، سماجی جدوجہد اور مقامی اصلاحات ہی حقیقی تبدیلی کا ضامن ہیں۔ ایران کی عوام کی جدوجہد اسی اصول پر کھڑی ہے اور اگر یہ اپنی شناخت اور آزادی کے لیے خود فیصلے کریں تو یہ حقیقی انقلاب کی طرف لے جائے گی۔

ایران کے مستقبل کے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ترقی، جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے اندرونی کوششیں زیادہ پائیدار اور قابلِ بھروسہ ہیں اور تاریخ بار بار یہ بتا چکی ہے کہ بیرونی مداخلت اکثر نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

Check Also

Kya Tareekh Sadiq o Amin Ke Baghair Badal Sakti Thi?

By Saleem Zaman