Bangladesh Ke Intikhabat
بنگلہ دیش کے انتخابات

بنگلہ دیش کے حالیہ انتخابات نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو نمایاں کر دیا ہے کہ عالمی سیاسی نظام اُس جمہوریت کو تو قبول کرتا ہے جو اس کے مفادات سے ہم آہنگ ہو، مگر وہ جمہوریت جس کے نتیجے میں اسلام کو بطور مکمل نظامِ حیات پیش کرنے والی قوتیں اقتدار تک پہنچ جائیں، اسے برداشت نہیں کیا جاتا۔ بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ محض ایک قومی سیاسی کشمکش نہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی رجحان کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔
جماعتِ اسلامی کو پہلے عدالتی فیصلوں، قانونی پیچیدگیوں اور رجسٹریشن کے معاملات میں الجھایا گیا۔ اس کی قیادت کو سزائیں سنائی گئیں، سیاسی سرگرمیوں کو محدود کیا گیا اور انتخابی میدان اس طرح ترتیب دیا گیا کہ وہ مؤثر طور پر اقتدار کی دوڑ سے باہر رہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی جماعت کو عوامی حمایت حاصل نہیں، تو اسے میدان میں رہنے دیا جائے، عوام خود فیصلہ کر لیں گے۔ مگر جب میدان ہی محدود کر دیا جائے تو پھر انتخابی نتائج کی اخلاقی حیثیت مشکوک ہو جاتی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب اسلامی سیاسی قوتوں کے ساتھ ایسا ہوا ہو۔ مصر میں عرب بہار کے بعد جب پہلی بار نسبتاً آزاد انتخابات ہوئے تو الإخوان المسلمون (اخوان المسلمون) کو اکثریت ملی اور ان کے امیدوار محمد مرسی صدر منتخب ہوئے۔ یہ ایک تاریخی پیش رفت تھی۔ ایک ایسی جماعت جسے دہائیوں تک دبایا گیا، عوامی ووٹ سے اقتدار میں آئی۔ مگر صرف ایک سال کے اندر فوجی مداخلت نے اس جمہوری مینڈیٹ کو ختم کر دیا۔ عالمی طاقتوں نے رسمی طور پر جمہوریت کی حمایت کی بات کی، مگر عملی طور پر نئی فوجی قیادت کو تسلیم کر لیا۔ اگر یہی اقدام کسی مغرب نواز حکومت کے خلاف ہوتا تو کیا ردِعمل اتنا ہی خاموش رہتا؟
تیونس میں بھی کم و بیش یہی منظر سامنے آیا۔ Ennahda Movement نے جمہوری عمل کے ذریعے اقتدار میں حصہ لیا اور ایک توازن کی سیاست اپنانے کی کوشش کی۔ مگر وقت کے ساتھ ریاستی ڈھانچے کو اس انداز میں استعمال کیا گیا کہ اسلامی قوتوں کا اثر کمزور ہوتا گیا۔ تیونس کے صدر قيس سعيد نے پارلیمنٹ معطل کرکے اختیارات اپنے ہاتھ میں مرکوز کیے اور یوں جمہوری عمل عملاً محدود ہوگیا۔ عالمی برادری کی جانب سے شدید اور فیصلہ کن دباؤ دیکھنے میں نہیں آیا، حالانکہ جمہوری اصول واضح طور پر متاثر ہوئے تھے۔
یہ تمام واقعات ایک سوال کو جنم دیتے ہیں: کیا مسئلہ جمہوریت کا ہے یا نظریے کا؟ اگر کوئی جماعت آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اسلام کو سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کے طور پر نافذ کرنے کی بات کرے تو کیا وہ صرف اسی بنیاد پر ناقابلِ قبول ہو جاتی ہے؟ عالمی اسٹیبلشمنٹ عموماً "انتہاپسندی" کا حوالہ دیتی ہے، مگر انتہاپسندی کی تعریف اکثر سیاسی مفادات کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔ جو جماعت مغربی خارجہ پالیسی یا معاشی نظام سے اختلاف کرے، وہ فوراً شکوک کی زد میں آ جاتی ہے۔
بنگلہ دیش کا معاملہ خاص طور پر حساس ہے کیونکہ جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست پیچیدہ ہے۔ بھارت کا اثر و رسوخ، چین کی معاشی سرمایہ کاری اور مغربی طاقتوں کے اسٹریٹجک مفادات، یہ سب عوامل اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ڈھاکہ میں ایسی حکومت ہو جو عالمی طاقتوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔ اگر کوئی اسلامی جماعت خود مختار خارجہ پالیسی یا سود سے پاک معاشی نظام کی بات کرے، تو اسے "ریڈیکل ایجنڈا" قرار دینا آسان ہو جاتا ہے۔
میڈیا بھی اس پورے عمل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جب کسی اسلامی سیاسی جماعت کو مسلسل "انتہا پسند" یا "شدت پسند" کے فریم میں پیش کیا جائے تو عالمی رائے عامہ اس کے خلاف ہموار ہو جاتی ہے۔ پھر اگر اس کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں تو انہیں جمہوریت کے دفاع کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ درحقیقت یہ جمہوری انتخاب کو محدود کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔
مصر میں محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہزاروں کارکن گرفتار ہوئے، سزائیں سنائی گئیں اور سیاسی سرگرمیوں پر قدغن لگائی گئی۔ تیونس میں بھی جمہوری اداروں کی معطلی کے باوجود عالمی سطح پر شدید دباؤ دیکھنے میں نہیں آیا۔ بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کے خلاف اقدامات بھی اسی تسلسل کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ اگر کسی نظریاتی جماعت کو سیاسی میدان سے باہر رکھنے کے لیے عدالتی اور انتظامی حربے استعمال کیے جائیں، تو اسے خالص جمہوری عمل نہیں کہا جا سکتا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسلام کو مکمل ضابطۂ حیات کے طور پر پیش کرنے والا بیانیہ عالمی لبرل نظام کے لیے ایک نظریاتی چیلنج بن جاتا ہے۔ مغرب نے اپنی سیاسی و معاشی بالادستی ایک مخصوص ماڈل پر قائم کی ہے، سرمایہ دارانہ معیشت، سیکولر قانون سازی اور عالمی مالیاتی اداروں پر انحصار۔ اگر کسی مسلم ملک میں ایک ایسا ماڈل کامیاب ہو جائے جو سود سے پاک معیشت، سماجی عدل اور مذہبی بنیادوں پر قانون سازی کی بات کرے، تو یہ نہ صرف ایک ملک بلکہ پورے عالمی نظام کے لیے مثال بن سکتا ہے۔
یہی وہ خوف ہے جو عالمی اسٹیبلشمنٹ کو بے چین کرتا ہے۔ اس لیے جہاں بھی اسلامی سیاسی قوتیں مضبوط ہوتی ہیں، وہاں سفارتی دباؤ، معاشی پابندیاں، اندرونی سیاسی بحران یا عدالتی فیصلے اچانک نمایاں ہو جاتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے انتخابات اسی وسیع تر تناظر کا حصہ ہیں، جہاں بیلٹ بکس سے زیادہ اہم فیصلے طاقت کے عالمی مراکز میں ہوتے ہیں۔
یہ محض ایک جماعت یا ایک ملک کی کہانی نہیں، یہ نظریاتی کشمکش کی داستان ہے۔ ایک طرف وہ قوتیں ہیں جو اسلام کو مکمل نظامِ حیات سمجھتی ہیں اور دوسری طرف وہ عالمی ڈھانچہ جو اپنی فکری و سیاسی برتری کو چیلنج ہوتا نہیں دیکھنا چاہتا۔ جب تک یہ نظریاتی تصادم موجود رہے گا، اسلامی سیاسی قوتوں کے لیے راستہ آسان نہیں ہوگا، چاہے وہ مصر ہو، تیونس ہو یا بنگلہ دیش۔
جمہوریت کا اصل امتحان یہی ہے کہ کیا وہ نظریاتی تنوع کو برداشت کر سکتی ہے یا نہیں۔ اگر عوام کسی اسلامی جماعت کو ووٹ دیتے ہیں تو اس فیصلے کو قبول کرنا ہی حقیقی جمہوریت ہے۔ ورنہ جمہوریت صرف ایک نعرہ رہ جاتی ہے اور اصل طاقت وہیں رہتی ہے جہاں عالمی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

