Monday, 26 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Imran Ismail
  4. 28 January

28 January

28 جنوری

تاریخ بعض اوقات خاموشی سے فیصلہ کن موڑ لیتی ہے۔ کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو سرکاری کیلنڈروں میں جگہ نہیں پاتے، مگر قوموں کی رگوں میں خون بن کر دوڑتے رہتے ہیں۔ 28 جنوری بھی ایسا ہی ایک دن ہے، ایک ایسا دن جسے اگر وقت پر نہ سنا جاتا، تو شاید آج ہم صرف ایک اقلیت ہوتے، ایک ہجوم میں گم شناخت، ایک ایسی قوم جس کا کوئی سیاسی، تہذیبی اور دینی تحفظ نہ ہوتا۔

28 جنوری 1933ء کو ایک شخص نے، جو نہ کسی تخت پر بیٹھا تھا اور نہ کسی فوج کا سالار تھا، برصغیر کے مسلمانوں کو وہ آئینہ دکھایا جس میں مستقبل کی تصویر صاف نظر آ رہی تھی۔ اس شخص کا نام چوہدری رحمت علیؒ تھا اور اس آئینے پر ایک ہی جملہ لکھا تھا:

"Now or Never"، اب یا کبھی نہیں۔

یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں تھا، یہ تاریخ کا حتمی انتباہ تھا۔ چوہدری رحمت علیؒ نے اس تحریر میں صاف الفاظ میں کہا کہ اگر ہندوستان کے مسلمان متحدہ ہندوستان کے کسی بھی آئینی فارمولے کو قبول کرتے ہیں تو یہ قبولیت اسلام اور ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے موت کے پروانے پر دستخط کے مترادف ہوگی۔ یہ وہ جملہ ہے جو آج بھی روح کو لرزا دیتا ہے، کیونکہ اس میں کوئی مبالغہ نہیں تھا، صرف حقیقت تھی۔

اس وقت برصغیر کی سیاست میں گول میز کانفرنسیں ہو رہی تھیں، آئینی مسودے بن رہے تھے، وعدے اور یقین دہانیاں دی جا رہی تھیں۔ مسلمان قیادت کا ایک بڑا حصہ اکثریت کے ساتھ رہ کر حقوق حاصل کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ مگر چوہدری رحمت علیؒ نے اس خواب کو تعبیر سے پہلے ہی ٹوٹتے دیکھ لیا تھا۔ انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ اکثریت کے رحم و کرم پر رہنے والی قومیں تاریخ میں زندہ نہیں رہتیں۔

اسی Now or Never کے پمفلٹ میں پہلی بار "پاکستان" کا تصور پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آیا، ایک ایسا خطہ، ایک ایسی مملکت، جہاں مسلمان اپنے دین، تہذیب، سیاست اور سماجی نظام کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں۔ یہ محض جغرافیہ نہیں تھا، یہ بقا کا منصوبہ تھا۔

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جس شخص نے سب سے پہلے پاکستان کا نام لیا، وہی شخص اپنی زندگی میں پاکستان کی زمین پر سکون سے قدم نہ رکھ سکا۔ جس نے نقشہ دیا، وہی نقشے سے باہر رہا۔ مگر تاریخ کا اصول ہے کہ جو بیج بوتا ہے، وہ خود سایہ نہ بھی پائے، تو درخت ضرور اگتا ہے۔

آج ہم آزادی کے 14 اگست کو تو پورے جوش و خروش سے مناتے ہیں، مگر کیا ہم نے کبھی 28 جنوری کو بھی اسی سنجیدگی سے یاد کیا؟ کیا ہم نے کبھی اپنی نئی نسل کو بتایا کہ پاکستان کسی ایک قرارداد کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ ایک طویل فکری جدوجہد کا حاصل تھا، جس کا پہلا باقاعدہ اعلان Now or Never میں ہوا؟

28 جنوری ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ تاریخ میں اصل تبدیلیاں اکثر تنہا آوازیں لاتی ہیں۔ وہ آوازیں جو ابتدا میں غیر مقبول، شدت پسند یا غیر عملی قرار دی جاتی ہیں، مگر وقت ثابت کرتا ہے کہ وہی آوازیں اصل میں بصیرت کی حامل ہوتی ہیں۔

آج جب ہم نظریاتی انتشار، سیاسی کمزوری اور فکری کنفیوژن کا شکار ہیں، تو 28 جنوری ہمیں پھر پکارتی ہے۔ یہ دن سوال کرتا ہے:

کیا ہم نے اس پاکستان کو ویسا بنایا جس کا خواب دیکھا گیا تھا؟

کیا ہم نے اس آزادی کی حفاظت کی جسے Now or Never کہہ کر مانگا گیا تھا؟

یا ہم ایک بار پھر سمجھوتوں، مصلحتوں اور وقتی فائدوں کے جال میں پھنس چکے ہیں؟

یہ کالم کسی شخصیت پرستی کی دعوت نہیں، بلکہ ایک فکری بیداری کی اپیل ہے۔ چوہدری رحمت علیؒ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ قومیں تب زندہ رہتی ہیں جب وہ وقت پر "نہیں" کہنا جان لیں۔ جب وہ جان لیں کہ ہر پیشکش قبول کرنا دانشمندی نہیں ہوتی اور ہر خاموشی حکمت نہیں ہوتی۔

28 جنوری کو یاد رکھنا محض ایک تاریخ کو یاد رکھنا نہیں، بلکہ اپنے اجتماعی ضمیر کو زندہ رکھنا ہے۔ یہ ماننا ہے کہ پاکستان کسی حادثے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک بروقت فیصلے کا ثمر ہے۔

کیونکہ اگر اُس دن Now or Never نہ کہا جاتا۔

تو شاید آج Pakistan بھی صرف ایک خواب ہوتا۔

Check Also

Kya Hum Waqai Riyasat e Madina Chahte Hain?

By Saleem Zaman