Friday, 09 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Imran Ismail
  4. 18 December, Qaumi Yadasht Aur Nai Nasal Ki Zimmedari

18 December, Qaumi Yadasht Aur Nai Nasal Ki Zimmedari

18 دسمبر، قومی یادداشت اور نئی نسل کی ذمہ داری

قوموں کی زندگی میں کچھ دن محض کیلنڈر کی تاریخ نہیں ہوتے بلکہ اجتماعی شعور، فکری سمت اور قومی حافظے کا امتحان ہوتے ہیں۔ 18 دسمبر ایسا ہی ایک دن ہے جو ہمیں رئیسُ الاَحرار چوہدری غلام عباسؒ کی یاد دلاتا ہے، ایک ایسی شخصیت جس نے اپنی پوری زندگی اصول، استقامت اور جموں و کشمیر کے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے لیے وقف کر دی۔ یہ دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم واقعی اپنے محسنوں کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہیں یا انہیں وقت کی گرد میں گم ہونے دے رہے ہیں۔

چوہدری غلام عباس 1904 میں جموں کے ایک معزز مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ جموں و کشمیر کے مسلمانوں کے اجتماعی دکھ، سیاسی محرومی اور مستقبل کے سوالات ان کے دل میں اس طرح رچ بس گئے تھے کہ وہ اپنی ذات کو مکمل طور پر اسی مقصد کے لیے وقف کر بیٹھے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے وکالت اختیار کی، لیکن جلد ہی یہ حقیقت ان پر آشکار ہوگئی کہ فرد کے مقدمات لڑنے سے کہیں زیادہ ضروری قوم کے اجتماعی حق کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔ یہی شعور انہیں سیاست کے میدان میں لے آیا۔

ڈوگرہ راج کے دور میں جموں و کشمیر کے مسلمان شدید سیاسی، معاشی اور سماجی استحصال کا شکار تھے۔ اکثریت ہونے کے باوجود انہیں اقتدار، وسائل اور فیصلوں سے دور رکھا گیا۔ ایسے حالات میں مسلم کانفرنس کا قیام محض ایک سیاسی جماعت کا وجود نہیں تھا بلکہ ایک اجتماعی بیداری اور سیاسی مزاحمت کا اعلان تھا۔ چوہدری غلام عباس اس تحریک کی نظریاتی اور عملی بنیادوں میں مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی سیاست کا جوہر اصول پسندی، دیانت اور واضح مؤقف تھا، وہ صفات جو وقت گزرنے کے ساتھ نایاب ہوتی چلی گئی ہیں۔

چوہدری غلام عباس کی سیاسی زندگی قربانیوں سے عبارت ہے۔ قید و بند، نظر بندی، سیاسی دباؤ اور تنہائی ان کے لیے اجنبی نہیں تھے۔ مگر انہوں نے کبھی اپنے نظریے پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ جانتے تھے کہ وقتی سہولت یا اقتدار حاصل کرنے کے لیے اگر اصول قربان کر دیے جائیں تو تاریخ معاف نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اقتدار کے ایوانوں سے زیادہ قوم کے دلوں میں زندہ رہے۔

یہی اصول پسندی وہ وصف تھا جس نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کو بھی چوہدری غلام عباس سے متاثر کیا۔ قائداعظم انہیں جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی حقیقی اور معتبر آواز سمجھتے تھے۔ قائداعظم کا کسی رہنما پر اعتماد محض رسمی نہیں ہوتا تھا، وہ کردار، دیانت اور استقامت کو معیار بناتے تھے۔ غلام عباس ان رہنماؤں میں شامل تھے جنہیں قائداعظم نے جموں و کشمیر کے مسئلے پر قابلِ اعتماد ساتھی تصور کیا۔ یہ اعتماد اس بات کا ثبوت ہے کہ غلام عباس کی سیاست محض جذباتی نعرہ نہیں بلکہ فکری گہرائی اور عملی بصیرت رکھتی تھی۔

1947 کا سال برصغیر اور خصوصاً جموں و کشمیر کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوا۔ تقسیم کے ہنگام، سیاسی بے یقینی اور طاقت کی کشمکش کے اس دور میں چوہدری غلام عباس نے ذاتی مفاد کے بجائے اجتماعی مستقبل کو ترجیح دی۔ ہجرت، سیاسی تنہائی اور مسلسل دباؤ کے باوجود انہوں نے آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی بنیادوں کو استحکام دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ اقتدار کے طلب گار نہیں تھے بلکہ ایک ایسے سیاسی نظام کے خواہاں تھے جو اصولوں پر قائم ہو، عوامی نمائندگی کا حامل ہو اور قومی وقار کا محافظ ہو۔

18 دسمبر 1967 کو چوہدری غلام عباس اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ بظاہر یہ ایک فرد کی وفات تھی، مگر حقیقت میں یہ ایک ایسے عہد کی یاد دہانی ہے جس میں سیاست خدمت اور قربانی کا نام تھی۔ ان کی وفات کے بعد بھی ان کا نام جموں و کشمیر کی سیاست میں اصولی قیادت کی علامت بن کر زندہ رہا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس ورثے کی حفاظت کی؟

آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہماری قومی یادداشت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ نئی نسل سوشل میڈیا کے فوری ہیروز، وقتی شہرت اور سطحی کامیابیوں میں الجھتی جا رہی ہے، جبکہ وہ شخصیات پس منظر میں چلی گئی ہیں جنہوں نے حقیقی قربانیاں دیں۔ اگر چوہدری غلام عباس جیسے رہنما نئی نسل کی یادداشت سے محو ہو گئے تو یہ صرف تاریخ سے لاعلمی نہیں بلکہ اپنی شناخت سے بے خبری ہوگی۔

نئی نسل کو یہ سمجھانا ناگزیر ہے کہ جموں و کشمیر کا مسئلہ محض سرحدوں یا نقشوں کا معاملہ نہیں بلکہ انسانی وقار، سیاسی حق اور تاریخی جدوجہد کی داستان ہے۔ چوہدری غلام عباس کی زندگی اس جدوجہد کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے ہمیں یہ سبق دیا کہ اصولوں پر قائم رہنا آسان نہیں، مگر یہی راستہ قوموں کو زندہ رکھتا ہے۔

اداریہ ہونے کے ناطے یہ بات پوری ذمہ داری سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر ہم نے اپنے نصاب، میڈیا اور قومی مکالمے میں اپنے اصل ہیروز کو جگہ نہ دی تو ہم اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ ناانصافی کریں گے۔ 18 دسمبر محض رسمی بیانات اور تقاریب تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے قومی احتساب کے دن کے طور پر منایا جانا چاہیے، یہ دیکھنے کے لیے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور کہاں جانا چاہتے ہیں۔

چوہدری غلام عباس ہمیں یہ پیغام دے گئے کہ سیاست اصولوں کے بغیر محض اقتدار کی کشمکش بن جاتی ہے اور ایسی سیاست قوموں کو جوڑنے کے بجائے توڑ دیتی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے اعتماد اور تائید نے ان کے کردار کو مزید معتبر بنا دیا۔ یہی وہ ورثہ ہے جسے نئی نسل تک منتقل کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

رئیسُ الاَحرار چوہدری غلام عباس ایک فرد نہیں بلکہ ایک معیار تھے، قیادت کا معیار، قربانی کا معیار اور اصولی سیاست کا معیار۔ 18 دسمبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر قومیں اپنے محسنوں کو فراموش کر دیں تو تاریخ بھی انہیں فراموش کر دیتی ہے۔ نئی نسل اگر واقعی ایک باوقار مستقبل چاہتی ہے تو اسے اپنے ان ہیروز کو یاد رکھنا ہوگا، سمجھنا ہوگا اور ان کے نظریات کو زندہ رکھنا ہوگا۔

یہی 18 دسمبر کا اصل پیغام ہے اور یہی قومی بقا کا راستہ بھی۔

Check Also

Kuwan Pyase Ki Talash Mein

By Muhammad Zeashan Butt