Tuesday, 13 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Hafiz Usama Razzaq
  4. Zaroorat Se Zyada Kabhi Mat Bolein

Zaroorat Se Zyada Kabhi Mat Bolein

ضرورت سے ذیادہ کبھی مت بولیں

اتنا مت بولیں کہ لوگ خاموش ہونے کا انتظار کریں بلکہ اتنا بول کر خاموش ہو جائیں کہ لوگ دوبار سننے کا انتظار کریں۔ یہ جملہ ہمیں زبان کے استعمال کا وہ سلیقہ سکھاتا ہے جو آج کے شور زدہ معاشرے میں تقریباً ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ بات اتنی نہ کی جائے کہ سننے والا بے زاری کے عالم میں صرف خاموشی کے لمحے کا منتظر رہے، بلکہ گفتگو ایسی ہو کہ جب ختم ہو تو سننے والا دوبارہ سننے کی خواہش میں مبتلا ہو جائے۔ یہ ایک معمولی نصیحت نہیں بلکہ اظہار و ابلاغ کا ایک سنہرا اصول ہے، جو خطابت، تحریر، تدریس اور حتیٰ کہ روزمرہ زندگی پر بھی پوری طرح منطبق ہوتا ہے۔

آج ہم ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں بولنے والے بے شمار ہیں مگر سننے والے کم۔ ہر شخص اپنی بات منوانے کے شوق میں اتنا بول جاتا ہے کہ الفاظ وزن کھو بیٹھتے ہیں اور مفہوم بوجھ بن جاتا ہے۔ اس شعر میں شاعر نے اسی رویّے کی نفی کی ہے اور بتایا ہے کہ اصل کمال کثرتِ الفاظ میں نہیں بلکہ اثرِ کلام میں ہے۔ بات مختصر ہو مگر جامع ہو، کم ہو مگر دل میں اتر جائے یہی وہ گفتگو ہے جو زندہ رہتی ہے۔

یہ شعر خطیبوں، واعظوں اور لکھنے والوں کے لیے بھی ایک آئینہ ہے۔ منبر ہو یا قلم، اگر بات میں جان نہ ہو تو سامع اور قاری دونوں تھک جاتے ہیں۔ بہترین مقرر وہی ہے جو مجمع کو اپنی بات پر مجبور کر دے اور بہترین لکھاری وہ ہے جو قاری کے دل میں یہ خواہش پیدا کر دے کہ کاش یہ تحریر ابھی ختم نہ ہوتی۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے شاعر نے "دوبارہ سننے کا انتظار" کہا ہے۔

درحقیقت، خاموشی بھی گفتگو کا ایک حصہ ہے۔ جب بات ضرورت سے زیادہ ہو جائے تو خاموشی نعمت بن جاتی ہے اور جب بات دل کو چھو جائے تو خاموشی سوال بن جاتی ہے۔ یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ الفاظ کا احترام کریں، انہیں اسراف سے نہیں بلکہ شعور سے خرچ کریں۔ کیونکہ وہی بات زندہ رہتی ہے جو ختم ہونے کے بعد بھی سننے والے کے اندر گونجتی رہے۔

یہ شعر محض ایک مصرع نہیں، بلکہ ایک مکمل فلسفۂ گفتگو ہےایسا فلسفہ جو اگر ہم اپنی زندگی میں اتار لیں تو ہمارے الفاظ بوجھ نہیں، نعمت بن جائیں۔

Check Also

Fanoon e Latifa Kya Hai

By Babar Ali