Saturday, 17 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Hafiz Safwan
  4. Qaumiat Paraston Ki Zehniyat Ka Aik Profile

Qaumiat Paraston Ki Zehniyat Ka Aik Profile

قومیت پرستوں کی ذہنیت کا ایک پروفائل

خواتین و حضرات، میں اپنی تحریروں میں گاہے بگاہے بائیں بازو کے دانشوروں، "لبرلز"، "ترقی پسندوں" اور نسلی قومیت پرستوں سے مخاطب ہوتا رہتا ہوں۔ اِن سے گفتگو کرنے کے بعد میں نے اِن کی ذہنیت کا ایک پروفائل بنایا ہے جو میں آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں اور اِس پروفائل پر آپ کے تبصرے پڑھنا چاہتا ہوں۔

اِس ذہنیت میں سب سے اہم عنصر یہ ہے کہ اِن دوستوں کی پہلی وفاداری اِن کے صوبے سے جڑی ہوئی ہے اور اپنی ریاست سے نہیں۔ اِن کے لیے، وہ ریاست جس کا اُن کا آبائی صوبہ ایک جزو ہے، ایک "مصنوعی" ریاست ہے۔ یہ چار "اقوام" کے بے بس لوگوں پر "اُن کی مرضی کے خلاف" "مسلط" یا "تھوپ دی گئی" ہے۔ اِنھیں اس حقیقت پر ناراضی ہے کہ اِن کے آبائی علاقے، جنھیں اپنی ذات میں آزاد اور خودمختار ریاستیں بنایا جانا چاہیے تھا، ایک کثیر نسلی ریاست کے صوبے جیسے ماتحت مقام پر پہنچا دی گئی ہیں۔

اِن کا ماننا ہے کہ اِنھیں "مصنوعی پاکستانی شناخت" قبول کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ وہ اِس وجہ سے پاکستانی قوم کے تصور کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔ وہ قومی یکجہتی اور اتحاد کی تمام کوششوں کی مخالفت اور حوصلہ شکنی شدت کے ساتھ کرتے ہیں۔

اِن کا یہ بھی ماننا ہے کہ اِن کی مادری زبانیں اور ثقافتیں، جو ہزاروں سال پرانی ہیں، پاکستان میں "قتل" کر دی گئی ہیں۔ اِن کا دعویٰ ہے کہ یہ سب پاکستانی قوم کے "مصنوعی" تصور اور اردو کے "کلچرل امپیریل ازم" cultural imperialism (ثقافتی سامراجیت) کی وجہ سے ہے۔ یہ ذہنیت اور بیانیہ اِن کے ہم خیال حلقوں یعنی echo chambers ایکو چیمبرز میں مسلسل دوہرایا جاتا ہے۔ اِن نظریات اور اِن کو ہم خیالوں میں مسلسل دوہراتے رہنے سے اِن میں غصہ پیدا ہوتا ہے۔ اِس غصے کی وجہ سے یہ لوگ نہ صرف اپنے ملک کو "اپنا" نہیں سمجھتے ہیں بلکہ یہ غصہ اپنے ملک سے شدید نفرت کروانے کا سبب بھی بنتا ہے۔

اِن کی اپنی ریاست سے ناپسندیدگی کئی شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے:

وہ اپنے صوبے کے بارے میں اِس طرح بات اور عمل کرتے ہیں جیسے یہ کوئی آزاد ملک ہو۔ وہ اُس کی ہر چیز کو ریاست کے مفادات پر ترجیح دیتے ہیں۔ وہ اپنی ریاست کے مفادات اور صوبے کے مفادات کو ساتھ ساتھ نہیں چلاتے بلکہ اِن میں اِس طرح کی مسابقت رکھتے ہیں جس میں ایک کا فائدہ لازمی طور پر دوسرے کے لیے خسارہ ثابت ہو۔ Zero-sum game

وہ اپنی تحریروں اور پوڈ کاسٹوں میں اپنی آئیڈیالوجی سے متاثر ہوکر انتہائی اشتعال انگیز، توہین آمیز اور طنزیہ زبان ideologically motivated loaded language استعمال کرتے ہیں جن میں "زبردستی"، "تھوپنا"، "مغلوب کر لینا"، "بالادستی"، "ریاستی جبر"، اپنے ہی ملک کے لیے "ظلم کا آلہ"، instrument of oppression اور "ثقافتی سامراجیت" cultural Imperialism جیسی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمارے سب دوست اِن سب اصطلاحوں کو استعمال کرتے ہوں۔ مختلف لوگوں کی الگ الگ پسندیدہ اصطلاحات ہوتی ہیں۔

پاکستان جیسی کثیر نسلی ریاست میں ایسی loaded expressions کا استعمال بہت خطرناک ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اِن کے استعمال سے گفتگو میں میانہ روی برقرار نہیں رہ پاتی اور فریقین انتہاؤں والے موقف اپنا لیتے ہیں، جس کی وجہ سے اُن کے درمیان مفاہمت کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں۔ ایسے جملوں سے لوگوں کے درمیان دلی برائی بڑھ جاتی اور باہمی نفرتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ مثال کے طور ہمارے دوست اردو کو مشترکہ ثقافتی اثاثہ کے بجائے دشمن کے طور پر پیش کرتے ہیں، جس سے اردو کے حمایتیوں میں شدید غم و غصہ پیدا ہوجاتا ہے۔

وہ پیچیدہ مسائل کو oversimplify زیادہ ہی آسان بناکر پیش کرتے ہیں جو حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔ مثلًا، اُن کے نزدیک پورا سرمایہ دارانہ نظام صرف یہ ہے کہ امیر کاروباری شخصیات اور ادارے غریب مزدوروں کا استحصال کرتے اور اپنے ٹیکس کی چوری کرتے ہیں اور اُن کا دھیان بھی ملک میں معاشی سرگرمیوں، روزگار کے مواقع، بازاروں میں اشیا کی دستیابی اور محنت کرکے خود کو غربت سے نکالنے وغیرہ کی طرف نہیں جاتا۔

وہ اُن تمام عوامل، واقعات اور شخصیات پر شدید تنقید کرتے ہیں جنھوں نے پاکستان کے قیام میں حصہ ڈالا ہو۔ اُنھیں اِن چیزوں میں کوئی خوبی، کوئی درست بات نظر نہیں آتی۔ وہ سر سید احمد خاں پر اپنے دور میں خواتین کی تعلیم کو فروغ نہ دینے پر تنقید کرتے ہیں جب اُس دور میں خواتین کی تعلیم کا کوئی رواج نہیں تھا اور نہ ہی خواتین میں تعلیم عام کرنے کی کوئی مہم چل رہی تھی۔ وہ اُن پر انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کی تحریک میں حصہ نہ لینے پر تنقید کرتے ہیں، جو اُن کے زمانے میں موجود ہی نہیں تھی۔ وہ مسلم لیگ کے قیام کے وقت اُس کے بیان کردہ مقاصد پر تنقید کرتے ہیں۔ وہ 1916ء کے معاہدۂ لکھنؤ میں مسلم لیگ کے موقف پر تنقید کرتے ہیں۔ وہ دو قومی نظریے کو برِصغیر کے تمام مسائل کی جڑ سمجھتے ہیں۔ وہ بانیانِ پاکستان پر شدید تنقید کرتے ہیں۔ اُنھیں یہ بھی اعتراض ہے کہ ریاست قلات کو اُن کے اپنے ملک میں کیوں شامل کیا گیا، حالانکہ وہ شمولیت 3 جون 1947ء کے پارٹیشن پلان کے عین مطابق تھی جس میں کہا گیا تھا کہ انڈیا اور پاکستان کی ریاستیں قائم کی جائیں گی اور اُن کے اندر پائی جانے والی ریاستوں کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ اِن دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرلیں لیکن اُن کے آزاد رہنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ ہمارے دوستوں کا خود کو پروگریسو ثابت کرنے کا سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا حربہ ہے "ریاستی بیانیے" کی مخالفت۔ یہ لوگ حوالے بھی صرف اُن کتابوں اور دوسرے ذرائع کے دیتے ہیں جو پاکستان مخالف ہوں۔

اِن کے دلوں میں اُن لوگوں کے لیے بے انتہائی وسیع نرم گوشہ ہے جنھوں نے اُن کی اپنی ریاست کے خلاف اِس کو توڑنے کی نیت سے ہتھیار اٹھائے ہوں۔

وہ اپنی ناراضی میں مکمل طور پر یکطرفہ اور متعصب ہیں۔ اگر اُن کی اپنی ریاست اپنی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے کوئی قدم اٹھاتی ہے تو وہ اُن کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور اُسے "نسل کشی" کہتے ہیں۔ تاہم، وہ کبھی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔ وہ اِس حقیقت کا ذکر گول کر جاتے ہیں کہ جن لوگوں کو مارا گیا ہے وہ ریاست کو توڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔

جب کوئی ریاست کے متعلق اُن کے موقف پر سوال کرنے کی جرات کرتا ہے اور اُنھیں یہ سمجھاتا ہے کہ اُن کی اپنی ریاست اِتنا بڑا عفریت نہیں ہے جتنا وہ اِسے بناکر پیش کرتے ہیں تو یہ اُنھیں ذاتی توہین لگتی ہے اور وہ ناراض ہوجاتے ہیں۔

وہ بلوچستان میں جاری مسلح علیحدگی پسند تحریک کی کبھی مذمت نہیں کرتے۔ ویسے اگر انصاف کیا جائے تو وہ بربریت کے انفرادی اقدامات کی مذمت ضرور کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، بلوچستان میں ٹرین میں سفر کرنے والے پنجابیوں کا شناختی کارڈ کے ذریعے شناخت کرکے قتل کیا جانا۔ تاہم، وہ کبھی پاکستان سے علیحدگی کی تحریک کی مذمت نہیں کرتے۔ آپ اِنھیں کتنا ہی مجبور کریں وہ کبھی پاکستان توڑنے کی کوششوں کی مذمت نہیں کریں گے۔

جب اُن سے ریاست کے ہاتھوں اپنے دفاع میں مارے گئے علیحدگی پسندوں کے اِقدامات کی مذمت کرنے کو کہا جاتا ہے تو وہ کبھی نہیں کرتے۔ اِس کے بجائے، وہ چالاکی سے گفتگو کو پلٹ دیتے ہیں۔ وہ ملک توڑنے کے اِقدامات کی مذمت کرنے کو کہنے والے شخص کی اخلاقی اقدار اور کردار پر الزام لگا دیتے ہیں۔ وہ اپنے مخاطَب پر نسل کشی کا حامی ہونے کا الزام لگا دیتے ہیں، مگر علیحدگی پسند تحریک کی مذمت نہیں کرتے۔

وہ پاکستان کے قیام کی تاریخ کو اپنے نظریات سے ہم آہنگ کرنے کے سلسلے میں توڑ مروڑ کر revisionist history پیش کرتے ہیں۔ وہ تاریخ پر بحث کرنے کے بہانے اپنی آئیڈیالوجی کی تبلیغ کرتے ہیں۔ وہ اپنے ایکو چیمبر میں استعمال ہونے والی بیان بازی کو حقائق کے طور پر دوہراتے ہیں۔ وہ اپنے ہم خیال لوگوں کے حلقوں میں دیے گئے دلائل کو ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ اُن میں سے زیادہ نفیس suave and sophisticated لوگ اپنی زبان کو معتدل رکھتے ہیں۔ تاہم، نکات اور دلائل بنیادی طور پر وہی رہتے ہیں۔

وہ برِصغیر کے مسلمانوں اور آل انڈیا مسلم لیگ کی پاکستان بنانے کی خواہش، اِقدامات اور تحریک کو من گھڑت کہتے ہیں اور اِن باتوں کو "پروپیگنڈہ" قرار دیتے ہیں۔

ہمارے دانشور اور قوم پرست دوست اپنی آئیڈیالوجی سے مطابقت بنانے کی خاطر تبدیل کی گئی تاریخ میں ایک چالاکی چلتے ہیں اور وہ ہے 1940ء کی قراردادِ لاہور کے الفاظ کی غلط تشریح کرنا۔ اِس قرارداد کے جس حصے کی وہ غلط تشریح کرتے ہیں وہ یہ ہے"۔۔ وہ علاقے جن میں مسلمان عددی اکثریت میں ہیں جیسا کہ (برطانوی) ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی زونوں میں ہیں، اُنھیں "آزاد ریاستیں" بنانے کے لیے گروپ کیا جانا چاہیے جن میں جزو اکائیاں آزاد اور خود مختار ہوں۔ " قراردادِ لاہور کے اِس حصے کے عام طور پر یہ معنی لیے جاتے ہیں کہ برِصغیر میں دو الگ الگ مسلم اکثریتی ممالک بنائے جائیں گے۔ ایک شمال مغرب میں ہوگا، جس میں برطانوی ہندوستان کے صوبے پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبہ، سندھ اور بلوچستان شامل ہوں گے۔ دوسرا ملک شمال مشرق میں ہوگا، جس میں بنگال پر مشتمل ہوگا۔ یہ موجودہ دور کے پاکستان اور بنگلہ دیش کی طرح تصور کیا گیا تھا۔

ہمارے دانشور اور نسلی قومیت پرست دوست دعویٰ کرتے ہیں کہ اِس حصے کا مطلب یہ تھا کہ یا تو پانچوں صوبے آزاد اور خودمختار ممالک ہوں گے، یا برطانوی ہندوستان کے شمال مغربی زون میں کوئی دنیا سے نرالی اکائی ہوگی جس میں پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبہ، سندھ اور بلوچستان نام کے آزاد اور خودمختار ممالک ہوں گے۔ اِس بیانیے میں اِس بات کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ سنہ 1940ء میں برِاعظموں کے علاوہ وہ کون سی سیاسی اکائی وجود رکھتی تھی جس کے اندر آزاد اور خود مختار ممالک ہوں؟ دوسری بات یہ ہے کہ وہ اِس بقراطی منصوبے کو باقی سٹیک ہولڈرز جیسے انگریزوں اور کانگریس سے کیسے منواتے؟ یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قراردادِ لاہور کا مقصد واقعی مسلمانوں کی لسانی بنیاد پر ریاستیں بنوانا تھا تو اُس دن کے بعد برِصغیر کے مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں نے جن کی مادری زبانیں اُن ریاستوں میں بسنے والے مسلمانوں سے الگ تھیں تحریکِ میں حصہ کیوں لیا؟ اِس تحریک کی کامیابی سے اُنھیں کتنی رکعتوں کا ثواب ملتا؟

ہمارے لسانی قومیت پرست دوست زور دے کر کہتے ہیں کہ سندھ نے پاکستان میں شامل ہونے کے لیے ووٹ ایک آزاد اور خودمختار ملک بننے کے لیے دیا تھا نہ کہ ایک کثیر نسلی ملک میں صوبہ بننے کے لیے۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ اُنھیں دھوکہ دیا گیا ہے۔ میرا سوال یہ ہے: اگر سندھ کا خیال تھا کہ وہ ایک آزاد اور خودمختار ملک بننے جا رہا ہے، تو 3 مارچ 1943ء کو اُس کا ووٹ پاکستان میں شامل ہونے کا ووٹ کیسے تھا؟ اگر شمال مغربی زون میں چار آزاد ممالک بنائے جا رہے ہوتے تو پاکستان کہاں ہوتا؟

اِن دوستوں کا ایک اور حربہ 1946ء کے دہلی کنونشن کی اہمیت کو گھٹا کر پیش کرنا ہے۔ اِس کنونشن میں، 1940ء کی قراردادِ لاہور میں استعمال ہونے والی اصطلاح "ریاستوں " کو تبدیل کرکے "ریاست" کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اِس کا مطلب برِصغیر کے مسلمانوں کے لیے پاکستان نامی ایک ملک کا قیام تھا۔ یہ ملک برِصغیر کے شمال مغربی اور شمال مشرقی بازوؤوں میں مسلم اکثریتی صوبوں پر مشتمل ہوگا۔ اِس فیصلے کا برِصغیر کی تاریخ پر بہت گہرا اثر پڑا۔

اِس فیصلے کو مسلم لیگ اور اُس کے حامیوں نے دل سے قبول کیا۔ دہلی کنونشن میں کیا گیا یہ فیصلہ مسلم لیگ کے اِس تاریخ کے بعد اٹھائے گئے تمام اقدامات کی بنیاد تھا۔ اِن اقدامات میں برطانوی حکام، انڈین نیشنل کانگریس اور اکالیوں جیسے دیگر تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مذاکرات شامل تھے۔ 26 جون 1947ء کو سندھ اسمبلی میں پاکستان میں شامل ہونے کی قرارداد بھی اِسی فیصلے کی بنیاد پر منظور کی گئی تھی۔ لہٰذا یہ کہنا غلط ہے کہ سندھ کو دھوکے سے یا جبراً پاکستان میں شامل کیا گیا تھا۔ ہوا یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت سندھی اپنی مرضی سے پاکستانی بنے تھا۔ ہاں اب موجودہ دور کے سندھی دانشور اپنے بڑوں کے کیے ہوئے فیصلے سے ناخوش ہیں اور اپنے موجودہ نظریات کو جسٹیفائی کرنے کے لیے تاریخ کو مسخ کرکے کہتے ہیں کہ ہمیں تو دھوکہ دِہی یا جبر کی بنیاد پر پاکستان میں شامل کیا گیا تھا۔

چونکہ یہ فیصلہ ہمارے دانشور اور نسلی قومیت پرست دوستوں کے آج کے دور کے نظریات کے خلاف تھا اِس لیے وہ اِس کی اہمیت گھٹاتے اور بے توقیر play down and discredit کرتے ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ "بند دروازوں کے پیچھے چند غیر منتخب لوگوں کا فیصلہ تھا، " اور یہ "لوگوں کی مرضی" will of the people کی نمائندگی نہیں کرتا۔ یہ ایک گھٹیا آدھا سچ ہے۔ بے شک اِس فیصلے سے پہلے مسلم لیگ کی قیادت کے سامنے پیش کی گئی سفارشات پر بند دروازوں کے پیچھے ایک ذیلی کمیٹی نے بحث اور حتمی شکل دی تھی۔ تاہم، ہمارے دوست اخلاقی بے ایمانی intellectual dishonesty دکھاتے ہوئے اِس بات کا ذکر نہیں کرتے ہیں کہ اِن سفارشات کو مسلم لیگ کی اعلیٰ کمان نے قبول کرلیا تھا۔ اِس فیصلے کو برِصغیر کے اُن مسلمانوں نے دل سے قبول کیا اور اِس کی حمایت کی جو مسلم لیگ کے حمایتی تھے۔

دوسری بات یہ ہے کہ یہ بھونڈا نکتہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ ہمارے دوست اس بارے میں کتنے بڑے جاہل ہیں کہ دنیا میں اہم سٹریٹجک فیصلے کیسے کیے جاتے ہیں۔ چونکہ اُنھیں دہلی کنونشن کے فیصلے کو بے توقیر کرنا ہوتا ہے اِس لیے وہ یہ نہیں بتاتے کہ دنیا بھر میں اہم فیصلے سڑکوں پر، یا مجمعوں میں نہیں کیے جاتے، ایسے فیصلے لیڈران کرتے ہیں اور لیڈر بھی فیصلے اٹکل پچو میں یا اپنی ذاتی خواہشات کے تحت نہیں کرتے بلکہ اُس موضوع کے تمام پہلوؤں پر غور کرکے مناسب فیصلہ کرتے ہیں۔ اِس کے لیے اِس موضوع کے تمام پہلوؤوں پر غور کرنے کے لیے کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں جن میں اُس موضوع پر مہارت رکھنے والے subject matter experts بھی شامل ہوتے ہیں اور قانونی ماہرین بھی۔ یہ لوگ غور و خوض کے بعد اپنی سفارشات مرتب کرکے قیادت کو بھیجتے ہیں جو خود اُن سفارشات پر غور کرتے ہیں اور پھر کہیں جاکر حتمی فیصلہ کرتے ہیں۔ جب اعلیٰ قیادت فیصلہ کرلیتی ہے تب اُس پر عمل درآمد کی حکمتِ عملی بنائی جاتی ہے، جو پھر ماہرین کی کمیٹی بند کمروں میں کرتی ہے۔ حکمتِ عملی کے وضع ہوجانے کے بعد اُسے تنظیم میں درمیانی سطح کی قیادت کو بھیج دیا جاتا ہے کہ جو فیصلے پر عمل درآمد کرنے کے لیے بنائی گئی حکمتِ عملی کے تحت مختلف مرحلوں کے پلان بناتے ہیں۔ اِن پلانوں کو متعلقہ افراد تک پہنچایا جاتا ہے جو کارکنوں کو بریفنگ دیتے ہیں اور اُن کے کرنے کے کام اُنھیں تفویض کرتے ہیں۔ اِن سب مراحل سے گزرنے کے بعد کہیں جاکر عوام کو اِس سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ اِس کے بعد اگر عوام اسے قبول کرلیتی ہے تو یہ عوامی فیصلہ کہلاتا ہے۔

یہ منطق ہمارے دوستوں کے سوشل میڈیا پر اپنے ایکوچیمبر والے دلائل دوہرانے کی بہترین (حقیقت میں بدترین) مثال ہے۔ چونکہ اِن ایکوچیمبرز میں سب لوگ ایک ہی خیالات اور نظریات رکھتے ہیں اِس لیے کوئی بھی دلیل کی درستی پر سوال نہیں اٹھاتا۔ وہ اِسے الہامی سچ کے طور پر قبول کر لیتے ہیں۔

شاید وہ ایسے جعلی دلائل اِس لیے استعمال کرتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ کسی کو بھی تاریخ کا علم نہیں ہے اور کوئی بھی اُن کی کہی ہوئی بات کو جانچنے کی زحمت نہیں کرے گا۔

تاریخ کو نظریاتی رنگ دینے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ وہ پاکستان کی تاریخ میں مختلف شخصیات اور واقعات کو اہمیت تاریخ کی روشنی میں دینے کے بجائے اپنے نظریات کے حساب سے دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، قیامِ پاکستان کے وقت ملک میں اردو کو ملک کی قومی زبان بنانے کے فیصلے کی مخالفت ہوئی اور وہ مشرقی بازو میں ہوئی تھی۔ مغربی بازو میں اِس معاملے پر کوئی مخالفت نہیں ہوئی تھی۔

مشرقی بازو میں کیا ہوا، یہ ایک اور بحث کا موضوع ہے۔ لیکن چونکہ ہمارے دانشور اور قوم پرست دوست خود اردو کے پاکستان کے قومی زبان ہونے کے خلاف ہیں اِس لیے وہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ اردو کی مخالفت پورے پاکستان میں پائی جاتی تھی۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ سندھ میں احتجاج ہوئے تھے۔ اِس طرح، اُن کا ماننا ہے کہ اردو کو قومی زبان بنانے کا فیصلہ پاکستان کے لوگوں پر مسلط کیا گیا تھا۔

جب بھی کہیں بڑی تعداد میں لوگ ساتھ رہتے ہیں تو اِس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے کہ کسی نہ کسی مسئلے پر اُن کے درمیان کچھ اختلاف ہوجائے۔ کچھ لوگ احتجاجی مظاہرے بھی نکال سکتے ہیں۔ یہاں دو چیزوں پر غور کرنا ضروری ہے۔ پہلا یہ کہ صرف اِس بات سے کہ احتجاج کیے گئے، لازمی نہیں ہوجاتا کہ اُن کا مقصد درست ہو۔ دوسرا، ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ احتجاج کرنے اور اُن کی حمایت کرنے والوں کا پوری آبادی میں تناسب کیا ہے؟ اور اِس معاملے میں اکثریت کی خواہشات کیا ہیں؟

پاکستان کے قیام کے وقت اردو کو قومی زبان قرار دینے پر سندھ میں ہونے والے مظاہرے اِتنے چھوٹے تھے کہ عام بات چیت میں اِس کا کوئی ذکر نہیں ہے، کسی کتاب میں بھی اِس کا ذکر نہیں ہوتا دیکھا۔ تاہم، چونکہ یہ احتجاج اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دینے کے بارے میں ہمارے دانشور اور نسلی قوم پرست دوستوں کے نظریات، خیالات اور امنگوں کے مطابق ہیں، اِس لیے اُن کے لیے یہ احتجاج، چاہے کتنے ہی چھوٹے پیمانے پر کیوں نہ کیے گئے ہوں، مغربی بازو کے لوگوں کی غالب اکثریت، جنھیں، کم از کم اُس وقت، اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا، کی خواہشات سے زیادہ اہم ہوجاتے ہیں۔

دنیا کے دوسرے حصوں میں لوگ عام طور پر اپنے ملک سے نفرت نہیں کرتے ہیں۔ اگر دوسرے ممالک میں رہنے والے لوگوں کو معلوم ہو کہ پاکستان میں ایسی چیزیں ہوتی ہیں اور یہ کہ جو لوگ یہ کام کرتے ہیں وہ نہ صرف اپنے اعمال پر شرمندہ نہیں ہوتے بلکہ خود کو ریاستی بیانیے کی مخالفت کرنے پر دوسروں سے زیادہ ترقی پسند سمجھتے ہیں، تو وہ کہیں گے کہ ایسے لوگ خود سے نفرت کا شکار ہیں۔ اور، جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں، دنیا کے باقی حصوں میں، اپنی ریاست سے نفرت اور دشمنی کو ایک بڑا عیب سمجھا جاتا ہے۔

تاہم، ہمارے بائیں بازو کے دانشور، ترقی پسند، لبرل اور نسلی قومیت پرست دوست جو اِس خود نفرینی کا شکار ہیں، اِسے بالکل بھی خود نفرینی نہیں سمجھتے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کو "اپنا" ملک نہیں سمجھتے۔ اُن کے نزدیک پاکستان اُن کا "ملک" نہیں اُن کے آبائی صونے پر قابض ایک (اُن کی زبان میں) "غیر فطری" اکائی ہے جس کی وجہ سے اُن کے آبائی علاقے آزاد ملک نہیں بن سکے۔ جب وہ اِسے اپنا سمجھتے ہی نہیں تو وہ اِس سے اپنی نفرت کو خود سے نفرت کیوں سمجھیں گے؟ کیونکہ خود نفرینی کے وجود کے لیے ضروری ہے کہ جس چیز سے نفرت کی جا رہی ہے وہ "اپنی" ہو۔ وہ کسی ایسی چیز سے نفرت کو خود نفرینی کیوں سمجھیں گے جسے وہ اپنا تسلیم ہی نہیں کرتے؟

لیکن چاہے وہ اِس سے واقف ہوں یا نہ ہوں، چاہے وہ اِسے تسلیم کریں یا نہ کریں، اگر یہ لوگ پاکستانی شہری ہیں اور اپنے ملک سے نفرت کرتے ہیں تو ایسے لوگ خود نفرینی میں مبتلا ہیں اور باقی دنیا اُنھیں اِسی نظر سے دیکھے گی۔

Check Also

Zuban Badal Dijye, Nizam Badal Jaye Ga

By Abu Nasr