Thursday, 15 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Hafiz Safwan
  4. Kya UP Ki Ashrafia Ne Apni Zuban Pakistan Mein Bazor Nafiz Ki?

Kya UP Ki Ashrafia Ne Apni Zuban Pakistan Mein Bazor Nafiz Ki?

کیا یو پی کی اشرافیہ نے اپنی زبان پاکستان میں بزور نافذ کی؟

قائدِاعظم نے پاکستان کے صوبے مشرقی بنگال میں اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی "ریاستی زبان" اردو اور صرف اردو ہوگی اور جو شخص اِس کے علاوہ کوئی بات کرتا ہے تو وہ پاکستان کا دشمن ہے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اردو پاکستان کے لیے ضروری تھی۔

اِس اعلان پر ہمارے دانشور دوست کہتے ہیں کہ اردو کو گن پوائنٹ پر نافذ کیا گیا۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اردو پاکستان کے لیے ضروری نہیں تھی بلکہ اِسے زبردستی نافذ کیا گیا ہے۔

دیکھا جائے تو یہ دونوں الگ الگ انتہاؤں کی باتیں ہیں۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اِن انتہاؤں میں سے حقیقت تک کیسے پہنچیں؟

اگر ہم اپنے دانشور دوستوں کی بات پر غور کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ وہ یہ بات اپنے صوبے اور مادری زبان کے پس منظر میں کرتے ہیں۔ اُن کا ماننا ہے کہ اُن کی زبانیں اِتنی قدیم، وسیع اور عظیم ہیں کہ اُنھیں سرکاری طور پر "قبول کیا جانا" چاہیے۔

گو کہ اِن میں سے کچھ دوست اپنی بات کو زیادہ قابل قبول بنانے کے لیے یہ کہنے لگے ہیں کہ اُنھیں اردو سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، وہ خود اردو میں لکھتے یا پوڈکاسٹ کرتے ہیں، مسئلہ اُنھیں "زبانوں کی درجہ بندی" اور اردو کے سرکاری نفاذ سے ہے۔

اب ہم قائدِاعظم کی بات کو دیکھ لیتے ہیں۔ وہ اِس معاملے کو صوبائی حوالے سے نہیں بلکہ ملک کے وسیع تر تناظر میں دیکھ رہے تھے۔ اُن کے پیشِ نظر ایک نوزائیدہ ملک کی ضروریات، خطرات اور ترجیحات تھیں۔

کسی بھی فیڈریشن میں مرکز کو پورے ملک کی بہتری کے لیے پالیسیاں بنانی اور اقدامات اٹھانا ہوتے ہیں۔ ایک کثیر القوم اور کثیر اللسان ملک میں اِن کاموں کے کرنے میں کافی پیچیدگیاں درپیش ہوتی ہیں اور ایک ایسے کثیر القوم اور کثیر اللسان ملک میں جس میں صوبوں کی آبادی، رقبوں، خواندگی، غربت اور انفراسٹرکچر میں بہت فرق ہوں، یہ کام اور بھی زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہوجاتا ہے۔

کثیر القوم اور کثیر اللسان ریاستوں میں کچھ لوگ اپنی صوبائی شناخت کو نہ صرف اپنی بنیادی بلکہ واحد شناخت سمجھتے ہیں اور اپنی قومی (ملکی) شناخت کا اقرار مجبوری کے عالم میں ہی کرتے ہیں۔ اِن میں سے کچھ قومیت پرست یہ تک سمجھتے ہیں کہ اُن کے صوبوں کو خودمختار اور آزاد ملک ہونا چاہیے تھا اور اُنھیں ایک فیڈریشن میں صوبے کی ماتحت پوزیشن دینا اِن خطوں کی توہین ہے۔

کسی بھی فیڈریشن میں یہ امکانات ہوتے ہیں کہ اُس کے کچھ خطے آسودہ حال ہوں اور کچھ پسماندہ۔ تیسری دنیا کی ریاستیں اپنے پسماندہ حصوں کے لیے غربت کم کرنے اور انفراسٹرکچر بہتر کرنے کے پروگرام چلاتی ہیں۔ ایسے پروگراموں کی فنڈنگ کا ایک بڑا حصہ شہریوں کے ٹیکسوں اور خام مال، تیار شدہ مصنوعات اور قدرتی وسائل کی برآمدات سے آتا ہے۔ یہ مصنوعات اور قدرتی وسائل ملک کے کسی نہ کسی صوبے میں تیار کیے جاتے اور زمین سے نکالے جاتے ہیں۔

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آسودہ حال خطوں کے شہریوں سے جو ٹیکس جمع کیا جاتا ہے وہ پسماندہ علاقوں کے لوگوں سے وصولی سے زیادہ ہو مگر اُس کا زیادہ حصہ پسماندہ علاقوں میں کیے جانے والے ترقیاتی کاموں کی فنڈنگ میں استعمال ہوتا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ چونکہ ریاست کو پورے ملک کی ترقی دیکھنا ہوتی ہے اِس لیے کسی صوبے سے نکالی جانے والی معدنیات کی آمدنی کا بڑا حصہ ملک کے باقی حصوں میں لگایا جاسکتا ہے۔ یوں ایسا ممکن ہے کہ کسی ملک کے آسودہ حال خطے قومی خزانے کو دیں زیادہ اور اُنھیں وفاق سے حصہ کم ملے۔

ہمارے دوست اِن باتوں کو "ریاستی جبر" قرار دیتے ہیں۔ کچھ اِس کے لیے اپنے صوبے کے "وسائل پر ڈاکہ" جیسی جذباتی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اُن کے صوبے کی دولت اور وسائل اُن کے صوبے سے باہر نہیں جائیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اُن کے صوبے میں پائی جانے والے قدرتی وسائل پر صرف صوبے کا حق ہو۔ وہ ریاست کے اُن کے صوبوں میں پائے جانے والے قدرتی وسائل کو باقی ملک کی ترقی پر خرچ کرنے کو صوبے کے ساتھ زیادتی سمجھتے ہیں۔

یہی بات زبان اور ثقافت پر بھی لاگو ہوتی ہے۔

آج کی دنیا میں رائج نظام میں آزادی اور خودمختاری کا قانونی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ منبع "ملک" ہوتا ہے نہ کہ اُس کے انتظامی یونٹ۔ دنیا کے دیگر ممالک "ملک" کو قبول کرتے ہیں، اپنے علاقے میں اُس کے اقتدارِ اعلیٰ کو تسلیم کرتے ہیں، اُس کی سرحدوں کو تقدیس حاصل ہوتی ہے، وہ بین الاقوامی معاہدے کرسکتا ہے اور اقوامِ متحدہ کا رکن بن سکتا ہے۔

اِن سب باتوں کی وجہ سے ملکوں کی نہ صرف خواہش بلکہ ضرورت ہوتی ہے کہ دنیا میں باقی ملکوں کے مقابلے میں اُن کی مخصوص شناخت ہو۔

اِس خواہش کی تکمیل میں کثیر القوم اور کثیر اللسان ملکوں میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ جس طرح کسی ملک کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ اُس کے کچھ خطے جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہوں وہ تو بہت امیر ہوں اور دوسرے خطے جن میں آبادی، وسائل یا انفراسٹرکچر کم ہو وہ بہت غربت ہوں، اِسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ وہ کسی ایک خطے یا قومیت کی زبان یا ثقافت کو پورے ملک کی قومی زبان یا ثقافت قرار دے دے۔ ایسا کرنے سے دوسری قومیتیں بھڑک اٹھیں گی۔ وہ اِس کو کسی طور قبول نہیں کریں گی، خاص طور پر اگر وہ زبان یا ثقافت ملک کے امیر ترین یا اکثریتی خطے یا قومیت کی زبان ہو۔ باقی خطوں اور قومیتوں کے لوگ اِسے "اکثریت کا جبر" یا "بالادستی" کہیں گے اور خود کو اُس خطے یا قومیت کی "کالونی" کہنا شروع کر دیں گے۔

دوسری طرف یہ بھی مناسب نہیں کہ کسی ملک میں جتنی بڑی قومیتیں ہوں اُن سب کی زبانوں کو قومی زبان قرار دے دیا جائے۔ اگر اِس معاملے کو جذباتیت سے ہٹ کر ملک کے point of view سے دیکھا جائے تو اِس سے national integration ناممکن ہوجائے گی۔ جب ساری زبانیں قومی زبانیں ہوجائیں گی تو اپنے علاقوں میں جلد یا بدیر وہ سرکاری اور دفتری کاموں میں بھی استعمال ہونے لگیں گی۔ ایسی صورت میں ملک کے دوسرے حصوں سے آئے ہوئے لوگوں کو اُن علاقوں میں کام کرنے میں بڑی مشکلات پیش آئیں گی۔ اگر ہر علاقے میں دفتروں، عمارتوں، سڑکوں اور دکانوں کے سائن بورڈ مقامی زبان میں ہوں گے تو ملک کے دوسرے علاقوں کے شہریوں کو اپنے ہی ملک میں ایسا لگے گا کہ وہ کسی غیر ملک میں آگئے ہوں۔ یہ سب باتیں قومی اتحاد کے لیے نقصان دہ ہوں گی اور زیادہ تر ملک ایسی صورت حال سے بچنا چاہیں گے۔ چنانچہ یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ پاکستان میں قومی زبان کا معاملہ انتہائی حساس اور جذبات بھڑکانے والا معاملہ ہے۔

جو باتیں میں اوپر کرچکا ہوں اُن سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ قائدِاعظم کا اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانے کا فیصلہ درست تھا۔ میں اپنے قائد کے اِس فیصلے کے حق میں میں دو دلائل دوں گا۔ پہلا یہ کہ اردو پاکستان کے کسی خطے، کسی صوبے کی زبان نہیں ہے۔ جو کسی کی نہیں وہ سب کی ہوسکتی ہے، یعنی نیوٹرل ہے اِور اِس پر کوئی یہ اعتراض نہیں کرسکتا کہ کسی خاص خطے، صوبے یا قومیت کی زبان کو پورے ملک پر "تھوپ دیا گیا ہے"۔ اِس کے حق میں دوسری دلیل یہ ہے کہ یہ 19ویں صدی کے وسط سے شمالی برِصغیر کی رابطے کی زبان تھی اِس لیے پاکستان کے شروع کے دنوں میں مقامی نہ ہونے کے باوجود نامانوس زبان نہیں تھی۔

ہمارے قومیت پرست دوست عام طور پر اردو کے حوالے سے جو اعتراضات اٹھاتے ہیں میں اُن میں سے دو کا ذکر کروں گا۔ آئیے اِن کو دیکھ لیتے ہیں۔

اِن دوستوں کا ایک اعتراض یہ ہے کہ یہ غلط بات ہے کہ اردو کو پاکستان کی قومی زبان اِس لیے بنایا گیا تھا کہ یہ ایک غیر جانبدار زبان تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ اِسے پاکستان کی قومی زبان اِس لیے بنایا گیا تھا کہ یہ پاکستان کے شروع کے دنوں کی یو پی سے آئی ہوئی اشرافیہ کی مادری زبان تھی۔ اِس اشرافیہ نے اِسے ایک ایسے ملک کی قومی زبان بنایا دیا جہاں کی یہ مقامی زبان نہیں تھی۔

یہ منطق ایک فکری مغالطہ ہے۔ اِس مغالطے میں یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ کسی معاملے میں ایک وقت میں صرف ایک عامل درست ہوسکتا ہے اور ایک ہی وقت میں کئی عوامل کا درست ہونا ممکن نہیں ہے۔ ایسا سمجھنا درست نہیں ہے۔ انسانی معاملات انتہائی پیچیدہ ہوتے ہیں اور ایک ہی وقت میں کئی عوامل درست ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی صاحب ایک ہی وقت میں انجینئر اور شطرنج کے چیمپین ہوسکتے ہیں۔ اِسی طرح یہ بھی بالکل ممکن ہے کہ اردو پاکستان کے شروع کے دنوں کی اشرافیہ کی مادری زبان بھی ہو، ساتھ ساتھ شمالی برِصغیر کی رابطے کی زبان بھی ہو اور پاکستان کے کسی علاقے کی مقامی زبان نہ ہونے کی وجہ سے ایک غیر جانبدار زبان بھی ہو۔ اِن تینوں میں سے کوئی ایک عامل دوسرے کو رد (کینسل) نہیں کر دیتا۔

اردو (اور ہندی) کی شمالی برِصغیر کی رابطے کی زبان ہونے کی وجہ سے ہی جواہر لعل نہرو کے والد مویی لعل نہرو نے 1928ء کی نہرو رپورٹ میں ہندوستان کی سرکاری زبان "ہندوستانی زبان" (اردو اور ہندی) بنانے کی سفارش کی تھی۔ بعد میں مہاتما گاندھی نے بھارت کی قومی زبان بنانے کے لیے ہندی زبان کی سفارش کی۔

قائدِاعظم اور مہاتما گاندھی دونوں اردو کے اہلِ زبان نہیں تھے بلکہ گجراتی بولنے والے تھے۔ اِس لیے قائدِاعظم کا اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانے اور مہاتما گاندھی کی ہندی کو بھارت کی قومی زبان بنانے کی سفارش میں اِن دونوں کا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہوسکتا۔ بحیثیت عظیم لیڈر اِن دونوں نے اِن زبانوں کی افادیت دیکھ کر ہی اِن کو قومی زبان بنانے کی سفارش کی ہوگی۔

یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے اِس وقت کے چاروں صوبوں (مشرقی بنگال، مغربی پنجاب، سندھ اور شمال مغربی سرحدی صوبہ)، چیف کمشنریٹ آف بلوچستان اور کوئی درجن بھر ریاستوں کے درمیان آبادی، تعلیم، انفراسٹرکچر اور اقتصادی مواقع میں واضح فرق اور سب کی الگ الگ زبانیں ہونے کی وجہ سے ایک نوزائیدہ ملک کو قائم رکھنے اور قوم پرستی سے بچانے کے لیے اُس وقت کی قیادت کے نزدیک اردو ہی قومی زبان کے لیے بہترین زبان تھی۔

جس دوسرے اعتراض کی بات میں کروں گا وہ یہ ہے کہ اردو پاکستان میں گن پوائنٹ پر نافذ کی گئی ہے۔ اِس سلسلے میں ہمارے دوست قائدِاعظم کی ڈھاکہ والی تقریر کا حوالہ دیتے ہیں جس سے میں نے یہ مضمون شروع کیا تھا۔ اِس پر میرا جواب یہ ہے کہ ہمارے دوست صحیح کہہ رہے ہیں کہ اردو کو سرکاری طور پر نافذ کیا گیا تھا، لیکن اِس نفاذ کو گن پوائنٹ پر نفاذ کہنا مبالغہ اور جذبات جان بوجھ کر برانگیختہ کرنے والی بات ہے۔

ریاستوں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنی پالیسیاں نافذ کریں۔ یہ اُن کی بقا اور استحکام کے لیے ضروری ہوتا ہے اور اِس کے لیے اُن کے پاس قانونی طور پر تفویض کردہ قوت نافذہ ہوتی ہے۔ اگر مرکزی حکومت ایک قومی زبان اور قومی تشخص وضع نہ کر پائے اور ایک متحد ریاستی فریم ورک یا ڈھانچہ تشکیل نہ دے پائے تو وہ ملک جلد یا بدیر ایک ناکام ریاست failed state بن جائے گا۔ پاکستان کے معاملے میں اگر ایسا ہوتا تو وہ بننے کے ساتھ ہی ایک ناکام ریاست بن جاتا۔ اِس لیے 1948ء کے تناظر میں ہمیں سمجھنا چاہیے کہ قائدِاعظم کا منشا پاکستان میں بولی جانے والی بڑی زبانوں کو دبانے کا نہیں تھا۔ وہ پاکستان کا لسانی بنیادوں پر شیرازہ بکھرنے یعنی Balkanisation سے روکنا چاہتے تھے۔ جس کو لوگ "گن پوائنٹ پر نفاذ" کہتے ہیں وہ دراصل ملکی سالمیت کے دفاع کی کوشش تھی۔

1947ء اور 1948ء کے واقعات کو آج کے دور کے نظریات اور ترجیحات کی عینک سے دیکھنے میں قباحت یہ ہے کہ ہم اُس دور میں پاکستان کو درپیش وجودی خطرات کو اپنے یانیے میں نظرانداز کر دیتے ہیں۔ جس چیز کو آپ گن پوائنٹ پر نفاذ کہتے ہیں وہ ریاست کی قوتِ نافذہ کے ذریعے مختلف قومیتوں، زبانوں اور ثقافتوں والے خطوں کو ایک ہم آہنگ اور قابلِ عمل viable ملک بنانے کی کوشش تھی۔

میں سمجھتا ہوں کہ قومی زبان کے حوالے سے ہمارے دوستوں کے خیالات اِس معاملے کو صرف قومیت پرستی کی عینک سے دیکھنے کی وجہ سے ہیں۔ وہ اپنے صوبوں کو تو وطن سمجھتے ہیں، اُسے ماں کا درجہ دیتے ہیں لیکن اپنے ملک کو وہ درجہ نہیں دیتے جو اِس کا حق ہے۔ وہ دونوں کے لیے محبت اور وفاداری کو ساتھ ساتھ نہیں چلاتے۔

میں چاہتا ہوں کہ یہ دوست اپنے ملک کو بھی اپنا سمجھیں، اِس کی ضروریات، خدشات، خطرات اور مجبوریوں کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ریاست کے اقدامات کو دیکھتے وقت ریاست کے موقف کو بھی نظر میں رکھیں۔ اُنھیں صرف اپنے صوبے کے حوالے سے نہیں پرکھیں بلکہ صوبہ اور ملک دونوں ہی اُن کے ہیں۔ ملک کو اپنے کسی صوبے کا رقیب یا دشمن نہ سمجھیں اور نہ بنائیں۔ جو چیزیں ملک کے مفادات کے لیے ضروری ہیں اُن پر برا نہ مانیں اور قائدِاعظم اور دیگر founding fathers کو اِتنی سختی کی نظر سے نہ دیکھیں۔ اُن کے ہر قول و فعل میں مذموم عزائم نہ تلاش کریں اور اُنھیں شک کا فائدہ دیں۔

Check Also

Gilgit Baltistan Qudrati Husn

By Iqbal Bijar