Hum Middle Classiya Danishwar
ہم مڈل کلاسیا دانشور

ہم مڈل کلاسیے اپنی عظمت کی عمارت دوسروں اور خاص طور پر اکابرین کی برائی کی بنیادوں پر تعمیر کرتے ہیں۔ جس طرح مکھی زیادہ تر گندگی اور کچرے پر بیٹھتی ہے اُسی طرح ہم مڈل کلاسیا دانشور اپنے بڑوں اور اکابرین کی صرف برائیوں کو تلاش کرکے اُن کی تشہیر کرکے اُن کے کارناموں کو بے توقیر کرتے ہیں۔ جب ہم اِن شخصیات پر بات کر رہے ہوتے ہیں تو اِن کی کوئی اچھائی یا کامیابی ہمیں اِس قابل نہیں لگتی کہ اُس کا ذکر کیا جائے۔
اِن شخصیات کے مخالفین یا دشمنوں کے لیے ہمارے دل میں بہت وسیع نرم گوشہ ہوتا ہے لیکن ہم اپنے اکابرین کے حوالے سے انتہائی کٹھور ہوتے ہیں اور اُنہیں کوئی شک کا فائدہ (benefit of doubt) نہیں دیتے۔ اُن کو جانچنے اور اُن پر حکم لگانے کے لیے ہم دشمنی کی حد تک کڑی کسوٹیاں استعمال کرتے ہیں۔ اُن کے اصلاحی کاموں، یا سیاسی اِقدامات کو کبھی اُن کی ذاتی بشری کمزوریوں کی بنیاد پر بے توقیر کرتے ہیں، کبھی اُن کے دور کے حالات، رسوم و رواج، اقدار، نظریات، خطرات، تحفظات، امنگوں اور روحِ عصر کو سراسر نظرانداز کرتے ہوئے اُنھیں اپنے اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے وسط والے نظریات کی عینک سے دیکھتے ہوئے خود اپنے حالات، رسوم و رواج، اقدار، نظریات، خطرات، تحفظات، امنگوں اور روحِ عصر کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں اور اِن اکابرین کو اِس کسوٹی پر پورا نہ اترنے پر برا سمجھتے ہیں اور سوشل میڈیا پر اِس وجہ سے اُنھیں مسلسل بدنام کرتے رہتے ہیں۔
ہم مڈل کلاسیا دانشوروں کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ سچ جب تک انتہائی کڑوے، دل آزار اور توہین آمیز انداز میں نہ بولا جائے تو اُس کا حق ادا نہیں ہوتا۔ اگر ہمارے اِس چلن کو ہمارے اپنے خاندان والوں، رشتے داروں اور دوسرے میل ملاقاتیوں کے تناظر میں دیکھیں تو ہمارے خیالات اور نظریات عام طور پر اُن سے یکسر مختلف ہوتے ہیں۔ چنانچہ، ایک ہم پہلے ہی وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں جو اُن لوگوں کے لیے ناقابلِ قبول ہوتی ہیں، تِس پر ہم یہ باتیں اِتنے برے، کڑوے، توہین آمیز اور اشتعال انگیز انداز میں کرتے ہیں کہ یہ لوگ ہمیں ناپسند کرنے لگتے ہیں۔
اِس ناپسندیدگی کا ہم پر نہایت مزیدار اثر ہوتا ہے۔ ہم اِس کو اپنے حق پر ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں اور جتنا زیادہ ہمارے خاندان والے، رشتے دار اور دوسرے ملنے والے ہمیں ناپسند کرتے ہیں، ہم خود کو دوسروں سے اُتنا ہی ممتاز سمجھتے ہیں اور ہمیں خود پر اُتنا ہی زیادہ مان ہوتا ہے۔ یہ بھی ہمارے اپنی عظمت کی عمارت دوسروں کی برائی کی بنیادوں پر تعمیر کرنے کے چلن کا ایک مظہر ہے۔
ہمارا یہ انداز یا چلن صرف شخصیات کے لیے ہی مخصوص نہیں ہے، یہ ہمارے ملک اور اِس سے متعلقہ تاریخ پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اپنے ملک کے founding fathers کو تو ہم برا کہتے ہی ہیں، ہم خود اپنے ملک کو بھی برا سمجھتے ہیں۔ ہم آج کے دور کی ہر برائی پر گفتگو شروع ہی اِس بات سے کرتے ہیں کہ یہ ملک تو بنا ہی غلط ہے۔ اپنے اپنے نظریات کے حساب سے ہم میں سے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان برِصغیر کے مسلمانوں کو تقسیم کرکے غیر موثر بنانے کے لیے بنایا گیا تھا۔ کچھ اور کہتے ہیں کہ پاکستان انگریزوں کی سازش تھی کہ دو ملک بنا دو اور وہ آپس میں لڑتے رہیں گے اور برِصغیر اِس کشاکش کی وجہ سے کبھی عظیم قوت نہیں بن سکے گا۔
کچھ کہتے ہیں کہ پاکستان کا قیام انگریزوں کی سازش تھی کیونکہ اُنھیں پتہ تھا کہ ہندوستان انگریزوں کو فوجی اڈے نہیں دے گا جب کہ پاکستان دے دے گا (حالانکہ پاکستان نے امریکہ کو تو فوجی اڈے دیے لیکن برطانیہ کو کوئی فوجی اڈہ نہیں دیا)۔ ہم میں سے کچھ اور یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کا قیام تو امریکی سازش تھی تاکہ ہندوستان میں اُس کے مفادات اور سوویت یونین کے درمیان افغانستان کے بعد بھی کوئی buffer state ہو۔ کچھ یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان اِس لیے برا ہے کہ اِسے اسلام کے نام پر قائم کیا گیا تھا لیکن اِس میں اسلامی نظام نافذ نہیں کیا گیا۔ کچھ کو یہ ناراضگی ہے کہ اُن کے صوبے سے آزاد اور خودمختار ریاست بنانے کا (بقول اُن کے) جھانسہ دے کر پاکستان میں شمولیت کا ووٹ لیا گیا مگر بنا دیا گیا ایک فیڈریشن کا صوبہ۔
ایک اور بات جو ہم لوگ اپنے ہی ملک کے حوالے سے کرتے ہیں وہ یہ کہ کسی بھی قسم کے تقابلی جائزے میں اپنے ملک سے بدترین مثال کا مقابلہ کسی دوسرے ملک کی بہترین مثال سے کرتے ہیں۔
یہ تحریر میں نے مڈل کلاسیا دانشوروں کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ترغیب دینے کی غرض سے لکھی ہے۔ کیسا اچھا ہو کہ ہم اپنے چلن پر نظرِ ثانی کریں اور خود کو لمبا منوانے کے لیے لمبے لوگوں کی ٹانگیں کاٹ کر چھوٹا ثابت کرنا چھوڑ دیں۔ ہم کبھی یہ بھی سوچ لیا کریں کہ ملک کو خرابی اِس بری سطح تک پہنچانے میں ہمارا اپنا کیا اور کتنا حصہ (contribution) ہے؟

