Dr. Kaleem Ullah Saddam: Yaadon Ka Shayar
ڈاکٹر کلیم اللہ صدام: یادوں کا شاعر

چاندنی راتیں اور حسین یادیں ان کا کل اثاثہ ہیں۔ اردو ادب میں غزل وہ واحد صنف ہے، جس نے اپنی فنی ساخت پر نہ کبھی سمجھوتا کیا اور نہ ہی فکری بوالعجیبیوں کی بنیاد پر کسی کو راندہ درگاہ کیا۔ جن لوگوں نے غزل کو نبھایا، تو غزل نے بھی ان کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔
غزل خود یہ سمجھتی ہے کہ کون اسے سمجھتا ہے۔ ڈاکٹر کلیم اللہ صدام بھی غزل سمجھنے والوں میں سے ایک تھے۔ کلیم اللہ صدام ضلع پشین کے کلی فیض آباد میں 1952 کو صاحب زادہ عبدالرحمن کے ہاں پیدا ہوئے۔ وہ معروف محقق اور شاعر پروفیسر صاحب زادہ حمید اللہ مرحوم کے چھوٹے بھائی تھے اور پیشے کے لحاظ سے ڈینٹل سرجن تھے۔ وہ پشتو زبان میں چار کتابوں (پشتو ٹپے، سپینی سپیدے، سہیلی نثر لیکونکی اور جاپانی پیغلہ) کے مصنف ہیں۔ اردو شاعری میں اصلاح رشید انجم سے لیا کرتے تھے۔ اردو میں ان کا شعری مجموعہ "سسکتے ارمان اور بکھرتے خواب" ہے، جس کا دیباچہ پروفیسر صاحب زاده حمید اللہ نے لکھا ہے۔ ان کے اردو شعری مجموعے میں 80 غزلیں، 4 نعتیں، ایک سلام اور 5 قطعات شامل ہیں۔
ان کا تعلق ایک پڑھے لکھے خاندان سے تھا۔ وہ معاشی طور پر خوشحال زندگی گزارتے تھے۔ ادب سے لگاؤ ان کو ورثے میں ملا تھا۔ ان کا اردو شعری مجموعہ ہر لحاظ سے ایک مکمل ادبی شاہ کار ہے۔ ان کی غزلوں میں محاسن شعری، ادبی رچاؤ، سلاست و روانی اور لفظی تصویر کشی کا مکمل خیال رکھا گیا ہے۔ وہ بنیادی طور پر جمالیت پسند غزل گو شاعر تھے۔ ان کا کلام وقتی نعره زنی، ابتدال پسند معاملہ بندی، مہلک قنوطیت پسندی اور لفظی صناعیت سے مبرا ہے۔ سہل ممتنع بحروں کا انتخاب، دلکش ردیفوں کی برتاؤ اور نادر تراکیب کا استعمال ان کے اسلوب کا خاصہ ہیں۔ ڈاکٹر صدام مرحوم محبتوں اور امیدوں کے شاعر تھے۔ ان کے مجموعے میں چند الفاظ کا استعمال بہ طور خاص بار بار کیا گیا ہے۔ صبح، امید، شب، چاندنی، یاد، نا خدا، انتظار، تشنگی، زندگی اور سراب جیسے الفاظ کا تکراری استعمال قابل ذکر ہے۔
ان کی شاعری میں چاند اور ناخدا کا ذکر کئی معنوں میں ہوا ہے۔ وہ شب آغوش میں چاندنی کے حضور میں محبوب کی یادوں کی خوشبو سے مخمور نئی صبح کا بے چینی سے انتظار کرنے والے شاعر تھے۔ ان کی غزل کہنے کا انداز نہایت والہانہ ہے۔ ان کے خیالات اور احساسات ایک حجاب پاسِ وضع رکھنے والے عاشق کا ہے۔ ان کے خاندانی اور علمی پس منظر نے ان کو نہ صرف بلا کا انا پرست بنایا تھا، بل کہ ان کو عشق و محبت کی دنیا میں انتہائی قدم اٹھانے سے باز رکھا تھا اور ان کے کلام کو گراوٹ اور ابتدال سے بھی پاک رکھا تھا:
ہم بھی انا کی قید میں محصور ہو گئے
خوددار بن گئے ہیں خودی کے حساب میں
ادب کا بنیادی کمال فصل میں وصل، تنہائی میں انجمن اور نارسائی میں تخیل کے مزے لوٹنا ہے۔ تجسیم سے تجرید اور الٹے پاؤں سفر غزل کے دریا ہی میں ممکن ہے اور ڈاکٹر کلیم اللہ صدام ان موجوں میں غوطہ زنی خوب جانتے تھے۔ دو مصرعوں کے درمیان ربط اور تجسس پیدا کرنے کا خوب شد بد رکھتے تھے۔ یادوں کے پھول کا دل کی زمین میں کھلنا، گلستان کی فضا شاعر کے لہو سے مہکنا، انسانی زندگی کو انا پرستی کا مقتل بنانا، کوئے جاناں کے طواف سے کافر دل کا مسلم ہونا، تلاش جانان میں کف پا کے لہو سے بیابان کو گلستان کرنا، مصائب کی فراوانی کو غزل کا سامان کرنا، چاند چہروں کے ذکر چھیڑ نے سے زخم دل ہرا ہونا، خورشید کی روشنی چرانے سے مجبور چاند کا عارضی طور پر روشن ہونا، خزاں میں پتوں کے جھڑنے سے انسانی زندگی منتشر ہونا اور زحل کو مشتری کے دامن میں دیکھنا۔۔ ہر لحاظ سے غزل کے موضوعات ہیں، جو انھوں نے مکمل انصاف سے برتا ہے۔
وہ حساس ہونے کے ساتھ ساتھ کہنہ خیالات اور فرسودہ روایات کے خلاف تھے۔ وہ ایک وسیع المشرب انسان تھے، مگر کم ظرف دوستوں، مادہ پرست احباب، زر پرست رہنما، غافل نا خدا اور لٹیرے اشرافیہ سے بیزار تھے، مگر غم روزگار سے بھی بے گانہ نہ تھے۔ انھوں نے ہمیشہ تنہائی کی زندگی بسر کرنے کو ترجیح دی تھی:
آج تنہا ہوں اس قدر تنہا
جیسے صحرا میں ہو شجر تنہا
زردار و زر خرید و زر نواز پہ اعتبار
ہر حال میں بکیں گے یہ سونا پرست لوگ
ایک رہزن رہبروں کا جب نگہبان ہوگیا
لوٹ لینا اور لٹ جانا بھی آسان ہوگیا
ان کی نظر میں معاشرے کی بنیادی اقداروں، محبتوں اور خلوص کو زردار طبقے نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، جن کو صرف ادیب اور ادب پسند لوگ ہی دوبارہ بحال کر سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر ان کی زیادہ تر شاعری محبوب کی یاد، نارسائی اور تنہائی سے معمور ہے۔ وہ بنیادی طور پر یادوں کا شاعر ہیں۔ شب آغوش میں چاندنی سے محبوب کی یادوں کا تذکرہ ان کا کل اثاثہ ہے۔ وہ ہمہ وقت یادوں کی خوشبو سے خود کو معطر کیے رکھتا تھا اور اردو ادب سے اتھاہ محبت کرنے والا غزل گو ڈاکٹر شاعر کو 2008 میں اس وقت شہرت ملی، جب وہ ہمیشہ کے لیے بے دوا سو گئے۔
تم کو صدام دنیا میں شہرت ملی
جب مریض جنوں بے دوا سو گئے

