Kifayat Shaari Ke Daway Aur Zameeni Haqaiq Ka Tazad
کفایت شعاری کے دعوے اور زمینی حقائق کا تضاد

ریاستی مالیاتی نظم و نسق ہمیشہ سے کسی بھی حکومت کی انتظامی صلاحیت، پالیسی سازی کی بصیرت اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی کارکردگی کا آئینہ دار سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کے وفاقی مالیاتی منظرنامے میں حالیہ اعداد و شمار ایک ایسے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں جو بظاہر اعلان کردہ کفایت شعاری اور اخراجات میں کمی کے دعووں کے باوجود انتظامی وسعت اور مالیاتی بوجھ میں مسلسل اضافے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں کہ رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ (جولائی 2025 تا مارچ 2026) کے دوران وفاقی حکومت کے روزمرہ امور چلانے کے اخراجات میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 12.57 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ مجموعی حجم 629 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
یہ اضافہ محض ایک عددی تبدیلی نہیں بلکہ اس وسیع تر مالیاتی رجحان کی علامت ہے جس میں ریاستی مشینری کا حجم کم ہونے کے بجائے مزید پھیلتا دکھائی دیتا ہے، خواہ اس کے ساتھ ساتھ کفایت شعاری کے بیانیے کو مرکزی حیثیت کیوں نہ دی جا رہی ہو۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ اخراجات 558 ارب 77 کروڑ روپے تھے، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایک سال کے اندر اندر انتظامی اخراجات میں قابلِ ذکر اضافہ ہوا ہے اور یہ اضافہ اس وقت وقوع پذیر ہوا جب حکومتی سطح پر مسلسل اخراجات میں کمی، غیر ضروری دفاتر کی بندش اور مالی نظم و ضبط کے اعلانات کیے جاتے رہے۔
تین سہ ماہیوں کے اعداد و شمار اس رجحان کو مزید واضح کرتے ہیں۔ پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر 2025) میں اخراجات 161 ارب 18 کروڑ روپے رہے، جو بظاہر نسبتاً کم سطح پر تھے، تاہم دوسری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر 2025) میں یہ بڑھ کر 219 ارب 42 کروڑ روپے تک پہنچ گئے اور تیسری سہ ماہی (جنوری تا مارچ 2026) میں مزید اضافہ ہو کر 248 ارب 40 کروڑ روپے تک جا پہنچے۔ یہ ترتیب نہ صرف اخراجات میں تسلسل کے ساتھ اضافے کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس امر کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ مالیاتی دباؤ وقت کے ساتھ کم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
اگر مجموعی سالانہ تناظر میں دیکھا جائے تو مالی سال 2024-25 کے دوران وفاقی حکومت کے انتظامی اخراجات 892 ارب روپے تک پہنچ چکے تھے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 108 ارب روپے کا اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا جب معیشت مہنگائی، مالیاتی خسارے اور قرضوں کے بوجھ جیسے سنگین مسائل سے دوچار تھی اور ریاستی بیانیہ مسلسل مالیاتی نظم و ضبط اور کفایت شعاری پر زور دیتا رہا۔
یہ صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو اعلان کردہ پالیسیوں اور زمینی حقائق کے درمیان اس واضح تضاد کو جنم دے رہے ہیں۔ ایک طرف حکومت کی جانب سے بار بار کفایت شعاری، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے دعوے کیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری طرف انتظامی ڈھانچے کے اخراجات مسلسل بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ یہ تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاستی مشینری کے اندرونی ڈھانچے میں وہ بنیادی اصلاحات نہیں ہو سکیں جو اخراجات میں حقیقی کمی کا باعث بنتیں۔
وفاقی حکومت کے امور چلانے کے اخراجات میں تنخواہیں، مراعات، انتظامی اخراجات، دفتری اخراجات اور مختلف وزارتوں و ڈویژنز کے روزمرہ کے مالی تقاضے شامل ہوتے ہیں۔ ان میں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ ریاستی اداروں کی operational efficiency یا تو بہتر نہیں ہو رہی یا پھر ان کا حجم اور پیچیدگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ مالی بوجھ بھی خود بخود بڑھتا چلا جاتا ہے۔ بعض ماہرین کے نزدیک یہ اضافہ اس administrative expansion کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ترقیاتی اخراجات کے مقابلے میں غیر ترقیاتی اخراجات کو زیادہ وزن دے رہی ہے۔
یہ بھی ایک اہم پہلو ہے کہ جب حکومتیں مالیاتی دباؤ کے باوجود انتظامی اخراجات کو کم کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو اس کا براہِ راست اثر ترقیاتی بجٹ، عوامی فلاحی منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر پڑتا ہے۔ نتیجتاً ایک ایسا مالیاتی توازن پیدا ہوتا ہے جس میں ریاست کا بڑا حصہ اپنے ہی نظام کو چلانے پر صرف ہو جاتا ہے جبکہ عوامی ترقی کے لیے وسائل نسبتاً محدود رہ جاتے ہیں۔ یہی وہ ساختیاتی مسئلہ ہے جو پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی مالیاتی پالیسیوں میں بار بار سامنے آتا ہے۔
معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو کسی بھی ریاست کے لیے ضروری ہے کہ اس کے انتظامی اخراجات GDP کے تناسب سے ایک قابلِ قبول حد میں رہیں، بصورت دیگر مالیاتی دباؤ بڑھتا ہے اور قرضوں پر انحصار مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ مالیاتی منظرنامے میں جب ایک طرف قرضوں کا حجم بڑھ رہا ہے اور دوسری طرف انتظامی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے تو یہ صورتحال مالیاتی پائیداری کے لیے ایک خطرناک اشارہ بن جاتی ہے۔
اس مسئلے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ کفایت شعاری کے اقدامات اکثر سطحی نوعیت کے ہوتے ہیں، جن میں چھوٹے پیمانے پر اخراجات میں کمی یا علامتی اقدامات شامل ہوتے ہیں، مگر ریاستی مشینری کی بنیادی ساخت، بیوروکریٹک وسعت اور ادارہ جاتی پیچیدگی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آتی۔ نتیجتاً مجموعی اخراجات میں کمی کے بجائے اضافہ برقرار رہتا ہے۔
بین الاقوامی تجربات یہ بتاتے ہیں کہ انتظامی اصلاحات صرف اس وقت مؤثر ہوتی ہیں جب وہ structure-based ہوں، یعنی اداروں کی ازسرنو تنظیم، ڈیجیٹلائزیشن، redundancy کی کمی اور کارکردگی پر مبنی نظامِ احتساب نافذ کیا جائے۔ بصورتِ دیگر کفایت شعاری کے بیانیے وقتی توجہ حاصل کرتے ہیں مگر مالیاتی حقیقت کو تبدیل نہیں کر پاتے۔
پاکستان کے تناظر میں ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ مختلف وزارتیں اور ادارے اکثر اپنے بجٹ کو برقرار رکھنے یا بڑھانے کے لیے سالانہ بنیادوں پر اخراجات میں اضافہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے مجموعی مالیاتی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تنخواہوں، مراعات اور انتظامی ڈھانچے کے پھیلاؤ نے بھی اس بوجھ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اگر اس پورے مالیاتی منظرنامے کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے دوہرے دباؤ کا شکار ہے جس میں ایک طرف قرضوں اور سودی ادائیگیوں کا بوجھ ہے اور دوسری طرف انتظامی اخراجات کی مسلسل توسیع ہے۔ یہ دونوں عوامل مل کر ریاستی مالیاتی گنجائش کو محدود کر رہے ہیں اور ترقیاتی امکانات کو دباؤ میں لا رہے ہیں۔
آخرکار یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ آیا ریاست واقعی کفایت شعاری کے ایک مؤثر اور عملی ماڈل کی طرف بڑھ رہی ہے یا پھر یہ صرف ایک بیانیاتی فریم ورک ہے جس کے نیچے پرانا مالیاتی ڈھانچہ اپنی پوری قوت کے ساتھ برقرار ہے۔ جب تک اس سوال کا جواب عملی اصلاحات اور حقیقی مالیاتی نظم و ضبط کی صورت میں سامنے نہیں آتا، اس وقت تک اخراجات میں اضافہ ایک مسلسل حقیقت بنا رہے گا، خواہ بیانیہ کچھ بھی ہو۔

