Friday, 09 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Engineer Muhammad Abrar
  4. Jamhuri Amal Ya Band Darwazon Ke Faisle?

Jamhuri Amal Ya Band Darwazon Ke Faisle?

جمہوری عمل یا بند دروازوں کے فیصلے؟

مختلف مکاتبِ فکرکے جید علما کی حالیہ کانفرنس محض ایک اجلاس نہیں تھی بلکہ یہ اس اضطراب کا اظہار تھی جو اس وقت پاکستانی معاشرے میں گہرائی تک موجود ہے۔ میڈیا نے دس نکات پر مشتمل اعلامیے کو نمایاں کیا، تقاریر کو رپورٹ کیا اور معروف شخصیات کے بیانات کو شہ سرخیوں میں جگہ دی، مگر اصل سوال یہ نہیں تھا کہ کیا کہا گیا، بلکہ یہ تھا کہ یہ سب کیوں کہا گیا۔ یہ کانفرنس ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کی علامت بن کر سامنے آئی۔ ایسے قوانین اور پالیسیاں متعارف کروائی جا رہی ہیں جن پر عوام کی ایک بڑی تعداد خود کو اعتماد میں لیا ہوا محسوس نہیں کرتی۔ مسئلہ صرف ٹرانسجینڈر ایکٹ یا چند آئینی ترامیم کا نہیں، بلکہ قانون سازی کے اس پورے عمل کا ہے جس میں مشاورت کم اور عجلت زیادہ دکھائی دیتی ہے۔

کانفرنس میں احتساب کی بحالی پر جس شدت سے زور دیا گیا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی سطح پر انصاف کے نظام پر اعتماد تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ پاکستان میں احتساب کو ایک عرصے سے غیر جانبدار عمل کے بجائے سیاسی ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔ کچھ افراد کے لیے قانون پوری قوت سے حرکت میں آتا ہے، جبکہ کچھ ہمیشہ قانون کی گرفت سے باہر رہتے ہیں۔ اس دوہرے معیار نے انصاف کے تصور کو کمزور کیا ہے اور یہی کمزوری عوامی بے چینی کو جنم دے رہی ہے۔ آئینی ترامیم کو واپس لینے کا مطالبہ بھی اسی پس منظر میں سامنے آیا۔ آئین کسی ایک حکومت یا طبقے کی دستاویز نہیں بلکہ قومی معاہدہ ہوتا ہے۔ جب اس میں بار بار تبدیلیاں ہوں، وہ بھی وسیع تر اتفاقِ رائے کے بغیر، تو ریاستی ڈھانچے پر سوال اٹھنے لگتے ہیں۔ عوام یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ آئین طاقت کے مطابق ڈھلتا ہے، اصول کے مطابق نہیں۔ یہ تاثر کسی بھی جمہوری ریاست کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔

سود کے خاتمے کا مطالبہ ایک پرانا مگر مسلسل نظر انداز ہونے والا مسئلہ ہے۔ عدالتوں کے فیصلے موجود ہیں، سرکاری بیانات بھی دیے گئے، مگر عملی اقدامات آج تک واضح نہیں ہو سکے۔ علما نے اس مسئلے کو صرف مذہبی زاویے سے نہیں دیکھا بلکہ اسے معاشی ناانصافی سے جوڑا۔ ان کے مطابق سودی نظام معاشرے میں طبقاتی فرق کو بڑھاتا ہے اور ریاست کے اسلامی تشخص سے متصادم ہے۔ جب وعدے بار بار دہرائے جائیں اور عمل نہ ہو تو اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔

ریاست کا عمومی رویہ ایسے معاملات پر یا تو خاموشی پر مبنی ہوتا ہے یا پھر تکنیکی وضاحتوں تک محدود رہتا ہے۔ مگر قانونی اصطلاحات اخلاقی تشویش کا متبادل نہیں بن سکتیں۔ بین الاقوامی دباؤ یا مجبوریوں کا حوالہ عوامی خدشات کو ختم نہیں کرتا۔ جب ریاست مکالمے سے گریز کرتی ہے تو اس کا نتیجہ دباؤ کی سیاست کی صورت میں نکلتا ہے، جو بالآخر نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

مختلف مسالک کے علما کا ایک پلیٹ فارم پر آنا محض اتفاق نہیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاستی سمت پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ جن معاملات کو وقتی سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے، وہ وقت کے ساتھ مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ اس لیے اس کانفرنس کو محض ایک رسمی اجلاس سمجھنا دانش مندی نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی اہم ہے کہ مذہبی قیادت اور ریاست کے درمیان تصادم کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اعلانات اور دباؤ وقتی توجہ تو حاصل کر سکتے ہیں، مگر پائیدار حل صرف ادارہ جاتی مکالمے سے ہی ممکن ہے۔ اگر ہر اختلاف کو سڑکوں پر لایا جائے تو ریاستی نظام مفلوج ہو جاتا ہے۔ ذمہ داری دونوں طرف ہے کہ بات چیت کے دروازے کھلے رکھے جائیں۔

حکومت کے لیے یہ صورتحال ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔ معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام اور عوامی مایوسی پہلے ہی موجود ہے۔ اگر اس میں آئینی اور اخلاقی تنازعات کا اضافہ ہوگیا تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ خاموشی بے چینی کو بڑھاتی ہے اور جلد بازی ادارہ جاتی وقار کو نقصان پہنچاتی ہے۔ عام شہری اس تمام بحث میں واضح جواب چاہتا ہے۔ وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ قانون سازی کا معیار کیا ہے، آئین کی سمت کیا ہے اور ریاست اپنے وعدوں پر کب عمل کرے گی۔ جب یہ سوال تشنہ رہیں تو مایوسی جنم لیتی ہے اور مایوسی اکثر خطرناک رخ اختیار کر لیتی ہے۔

یہ کانفرنس دراصل پاکستان میں مشاورت کے فقدان کو بے نقاب کرتی ہے۔ ایک اسلامی جمہوریہ میں مذہب کو نہ تو محض علامت بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی مکمل طور پر نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مذہبی، آئینی اور عوامی معاملات کو دباؤ کے بجائے سنجیدہ مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے۔

یہ اجلاس کسی خطرے سے زیادہ ایک تنبیہ ہے۔ احتساب، آئینی استحکام اور معاشی انصاف جیسے مطالبات محض مذہبی بیانات نہیں بلکہ عوامی احساسات کی ترجمانی ہیں۔ اب یہ حکومت پر منحصر ہے کہ وہ ان سوالات کا جواب مکالمے، شفافیت اور تدریج کے ساتھ دیتی ہے یا خاموشی اختیار کرتی ہے۔ یہی فیصلہ ریاست کی ساکھ اور مستقبل کا تعین کرے گا۔

Check Also

Iran, Navishta e Deewar Aur Islahat Mein Takheer Ki Qeemat (1)

By Saad Makki Shah