Eman, Yaqeen Aur Zimmedari Ki Raat
ایمان، یقین اور ذمہ داری کی رات

شبِ معراج اسلامی تاریخ کی عظیم ترین راتوں میں سے ایک ہے۔ یہ وہ مقدس رات ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کو ایک ایسا روحانی سفر عطا فرمایا جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ رات صرف ایک معجزہ نہیں بلکہ ایمان کو تازہ کرنے، فکر کو جھنجھوڑنے اور عمل کی یاد دہانی کا پیغام بھی ہے۔
معراج کا واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب نبی کریم ﷺ شدید آزمائشوں سے گزر رہے تھے۔ حضرت خدیجہؓ اور حضرت ابو طالبؓ کا انتقال ہو چکا تھا۔ مکہ میں مخالفت عروج پر تھی۔ طائف میں اذیت دی گئی۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو عزت اور تسلی عطا فرمائی۔ یہ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ مشکلات کے بعد اللہ کی مدد ضرور آتی ہے۔ اس سفر کا آغاز مسجدِ حرام سے ہوا۔ نبی کریم ﷺ کو مسجدِ اقصیٰ لے جایا گیا۔ وہاں تمام انبیاءؑ نے آپ ﷺ کی امامت میں نماز ادا کی۔ یہ واقعہ امتِ مسلمہ کے لیے اتحاد اور قیادت کا واضح پیغام ہے۔ مسجدِ اقصیٰ کی اہمیت بھی اسی واقعے سے جڑی ہے۔ آج جب یہ مقدس مقام آزمائش میں ہے تو معراج ہمیں اس سے غفلت نہ برتنے کا سبق دیتی ہے۔
معراج کا اصل مقصد صرف آسمانوں کی سیر نہیں تھا۔ یہ روحانی تربیت کا سفر تھا۔ نبی کریم ﷺ نے آسمانوں میں مختلف مناظر دیکھے۔ جنت اور جہنم کے حالات ملاحظہ فرمائے۔ ہر منظر میں انسان کے لیے نصیحت تھی۔ یہ پیغام واضح تھا کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور اصل کامیابی آخرت میں ہے۔ شبِ معراج کا سب سے بڑا تحفہ نماز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے براہِ راست نماز کا حکم عطا فرمایا۔ ابتدا میں پچاس نمازیں فرض ہوئیں، مگر رحمتِ الٰہی سے پانچ رہ گئیں۔ اجر پھر بھی پچاس کا رکھا گیا۔ یہ اللہ کی بے پایاں رحمت کا ثبوت ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ نماز دین کا ستون ہے۔ جو نماز کو ترک کرتا ہے، وہ دراصل اپنے رب سے تعلق کمزور کر لیتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج ہم معراج کی رات تو مناتے ہیں، مگر نماز کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ہم تقریبات کرتے ہیں، مگر عمل سے دور رہتے ہیں۔ معراج ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ عبادت صرف رسم نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ نماز ہمیں بے حیائی، ظلم اور ناانصافی سے روکتی ہے، بشرطیکہ ہم اسے شعور کے ساتھ ادا کریں۔
شبِ معراج ہمیں اخلاقی اصلاح کا بھی پیغام دیتی ہے۔ سچ بولنا، امانت داری، عدل اور صبر وہ صفات ہیں جو اس سفر میں نمایاں نظر آتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی ہمارے لیے عملی نمونہ ہے۔ اگر ہم واقعی معراج کے پیغام کو سمجھ لیں تو ہمارے معاشرتی مسائل خود بخود کم ہو سکتے ہیں۔ آج کا مسلمان بے شمار مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ بے چینی، ناانصافی اور مایوسی ہر طرف ہے۔ معراج ہمیں امید دلاتی ہے کہ اللہ کی رحمت ہر مشکل سے بڑی ہے۔ شرط یہ ہے کہ ہم اللہ سے تعلق مضبوط کریں۔ دعا، نماز اور عمل کے ذریعے۔ یہ رات ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ عزت اور کامیابی کا راستہ اللہ کی اطاعت میں ہے۔ دنیا کی طاقتیں وقتی ہیں۔ اصل طاقت ایمان میں ہے۔ جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
شبِ معراج محض ایک تاریخی واقعہ نہیں۔ یہ ایک زندہ پیغام ہے۔ اگر ہم اسے سمجھ لیں تو ہماری زندگی بدل سکتی ہے۔ ہمیں اس رات کو صرف عبادت تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو بہتر بنائیں گے۔ یہی معراج کا اصل مقصد ہے۔

