Wednesday, 07 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Engineer Muhammad Abrar
  4. Digital Khatra, Social Media Aur Barhte Hue Jinsi Juraim

Digital Khatra, Social Media Aur Barhte Hue Jinsi Juraim

ڈیجیٹل خطرہ، سوشل میڈیا اور بڑھتے ہوئے جنسی جرائم

آج کا دور ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ مگر جس سہولت کے لیے ہم ان پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہیں، وہی آج ہمارے نوجوانوں اور خواتین کے لیے خطرے کا سبب بن رہی ہے۔ پاکستان میں حالیہ برسوں میں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جنہوں نے نہ صرف معاشرتی شعور کو جھنجھوڑا بلکہ یہ واضح کر دیا کہ آن لائن دنیا میں نجی زندگی محفوظ نہیں رہی۔

ایک نوجوان خاتون کے دو بچوں کو قتل کرنے کے واقعے نے دکھایا کہ جذبات اور ذاتی تنازعات آن لائن اثر ڈال سکتے ہیں اور نجی زندگی کب حقیقی خطرے میں بدل جاتی ہے۔ اسی طرح ایک شخص کی غیر اخلاقی ویڈیو لیک ہونے سے یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ بلیک میلنگ اور ہیونی ٹریپ جیسے جرائم اب روزمرہ کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ صرف ذاتی مسائل نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور اخلاقی تربیت کی کمی کی علامت ہیں۔

ان جرائم کی بڑھتی ہوئی تعداد کی ایک وجہ معاشرتی شعور کی کمی اور قانون کے نفاذ میں کمزوری ہے۔ پرائیویسی کی حفاظت نہ ہونا، نوجوانوں میں ڈیجیٹل خطرات کے بارے میں آگاہی کی کمی اور خواتین کی آن لائن سرگرمیوں پر کنٹرول معاشرتی ماحول کو غیر محفوظ بنا رہا ہے۔ بلیک میلنگ اور ویڈیوز لیک کرنے کے واقعات یہ بتاتے ہیں کہ یہ جرائم اتفاقاً نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیے جا رہے ہیں۔

سب سے زیادہ تشویش نوجوان نسل پر پڑ رہی ہے۔ مسلسل غیر اخلاقی مواد دیکھنے سے رویے متاثر ہو رہے ہیں۔ خاندان خوفزدہ ہیں اور معاشرہ ایک ایسے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے جس میں عورتوں کی آن لائن سرگرمی محدود، نوجوانوں میں اخلاقی کمزوری زیادہ اور قانون پر اعتماد کم ہوگا۔ اگر آج ہم سنجیدگی سے اقدامات نہ کریں، تو کل کا معاشرہ اخلاقی اور معاشرتی اعتبار سے کمزور ہوگا۔ ضرورت ہے کہ تعلیمی ادارے اور والدین نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا کے خطرات سے آگاہ کریں، قانون نافذ کرنے والے ادارے سخت کارروائی کریں اور ہر فرد اپنی اور دوسروں کی پرائیویسی اور عزت کا احترام کرے۔ یہی واحد راستہ ہے کہ ہم بڑھتے ہوئے جرائم کو محدود کر سکیں اور سوشل میڈیا کو محفوظ اور مثبت پلیٹ فارم بنا سکیں۔

یہ کالم صرف خبروں کا احاطہ نہیں کرتا بلکہ قارئین کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ معاشرہ اور ٹیکنالوجی کے بیچ توازن برقرار رکھنا کتنا ضروری ہے اور کس طرح ہم نوجوانوں اور خواتین کو اس خطرناک لہر سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

Check Also

Ramzan o Eidain: Scienci Pesh Goi, Ijtemai Nazm Aur Taqveemi Imkan

By Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi