Tashbeeh Aur Isteara, Aik Kahani
تشبیہ اور استعارہ، ایک کہانی
یہ اُس دن کی بات ہے جب میں امتحان کے خوف سے کتابیں سمیٹ کر سو گئی۔ نیند گہری ہوئی تو میں نے خود کو ایک عجیب سی بستی میں پایا۔
ایک بورڈ پر سنہری حروف میں لکھا تھا: "خوش آمدید! یہ لفظوں کی بستی ہے"۔
میں ابھی حیرت سے ادھر اُدھر دیکھ ہی رہی تھی کہ دو کردار میری طرف بڑھے۔ ایک باوقار سی خاتون تھیں، چہرے پر دوستانہ مسکراہٹ۔ دوسرا گہرے رنگ کے لباس میں، آنکھوں میں گہرے راز اور آواز میں وقار۔
خاتون نے نرمی سے کہا: "میں ہوں تشبیہ"۔
دوسرا آہستگی سے مسکرایا: "اور میں ہوں استعارہ"۔
میں گھبرا گئی۔
"آپ، آپ دونوں وہی ہیں نا جن میں میں ہمیشہ الجھ جاتی ہوں؟"
تشبیہ مسکرا دی
"الجھن اس لیے ہوتی ہے کہ تم ہمیں ٹھیک سے پہچانتی نہیں۔
آؤ، میں تمہیں اپنا طریقہ دکھاتی ہوں"۔
وہ میرا ہاتھ تھام کر مجھے ایک میدان میں لے گئیں۔
وہاں ایک بچہ تیزی سے دوڑ رہا تھا۔
تشبیہ نے کہا: "یہ بچہ ہرن کی طرح تیز ہے"۔
پھر میری طرف دیکھ کر بولیں: "دیکھا؟ عیشہ میں نے آپ کو صاف بتایا کہ بچہ ہرن نہیں، بلکہ ہرن جیسا ہے۔ میں مثال دے کر بات سمجھاتی ہوں"۔
میں نے سر ہلا دیا۔
"اچھا، یعنی آپ موازنہ کھل کر کرتی ہیں اور صاف بات کرتی ہیں"۔
اب استعارہ آگے بڑھا، وہ مجھے اسی بچے کے پاس لے گیا۔
بچہ اب بھی دوڑ رہا تھا۔
استعارہ نے کہا: "یہ بچہ ہرن ہے"۔
میں چونک گئی۔
"لیکن وہ تو انسان ہے!"
استعارہ مسکرایا۔
"میں جانتا ہوں عیشہ مگر میں کہہ کر نہیں سمجھاتا، میں مان لیتا ہوں۔ میں ایک چیز کو دوسری بنا دیتا ہوں۔ یہی میری پہچان ہے"۔
اچانک فضا بدل گئی، بادل گرجنے لگے اور بارش برس پڑی۔
تشبیہ نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا: "بارش موتیوں کی طرح برس رہی ہے"۔
استعارہ نے دھیرے سے کہا: "بارش موتی برس رہی ہے"۔
میں بے اختیار ہنس پڑی۔
"اب بات سمجھ میں آ گئی! ایک بتا رہی ہیں، دوسرا بدل رہا ہے!"
یہی لفظوں کی بستی کا سنہرا اصول ہے۔
تشبیہ نے زمین پر لکھا: "جیسے، سا، کی طرح = تشبیہ"
استعارہ نے اس کے نیچے لکھا: "بغیر بتائے بدل دینا = استعارہ"
پھر دونوں نے ایک ساتھ کہا: "اگر تم یہ یاد رکھ لو تو کبھی غلطی نہیں کرو گی"۔
اچانک میری آنکھ کھل گئی۔
کتاب میرے سامنے کھلی ہوئی تھی۔
صفحے پر عنوان لکھا تھا: تشبیہ اور استعارہ۔
میں مسکرا دی۔
"اب یہ سوال آیا تو نمبر خود چل کر میرے پاس آئیں گے"۔
ایک جملہ جو کبھی نہ بھولے:
تشبیہ کہتی ہے: "یہ اُس جیسا ہے"۔
استعارہ کہتا ہے: "یہ وہی ہے"۔

