Thursday, 01 December 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Dr. Ijaz Ahmad

Sufaid Hathi Aur Nuskha e Kimiya

ملک کے موجودہ معاشی مسائل دگرگوں ہو چکے ہیں۔ ڈیفالٹ ہونے کی دبی دبی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ ملک کی سمال انڈسٹری بند ہو رہی ہے۔ مزدور بے روزگار ہو رہے ہیں۔ ملکی خزانہ روز بروز کم ہوتا جا رہا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ اور چھوٹا تاجر مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہے۔ میں کوئی ماہر معیشت دان نہیں پر ملک کی اقتصادی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ بحثیت ایک عام پاکستانی میں یہ سمجھتا ہوں کہ ملکی خزانے میں اضافہ کی کنجی صرف چھوٹے تاجران کے پاس ہے۔ لیکن اس سے پہلے سفید ہاتھی یعنی ایف بی آر کی تنظیم نو ان کی طرف سے کھڑی کی گئی فصیلیں گرانی ہوں گی۔

چھوٹے تاجر کو بے جا قوانین سے خوف و ہراس پیدا کر کے ملکی خزانے کی بجائے اپنی جیبوں کو بھرنے کے سلسہ کو بند کرنا ہوگا۔ اور یہ صرف آٹو میشن پالیسی، ون ونڈو آپریشن اور ایک اچھی ایپ کے ذریعے سب ممکن ہے۔ چھوٹے تاجر کو نیٹ ٹیکس میں لانے کے لئے فکس ٹیکس سے بہتر کوئی آپشن نہیں ہے۔ اس حوالے سے میرے مائنڈ میں کچھ تجاویز ہیں۔ امید کرتا ہوں کہ متعلقہ ادارے ان خطوط پر ضرور سوچیں گے۔

فکس ٹیکس لاگو کرنے سے پہلے ہمیں اپنے شہروں کو تین زون میں تقسیم کرنا ہوگا۔ اسے ہم اے، بی اور سی زون فرض کر لیتے ہیں۔ اے زون میں تمام بڑے شہر جو کاروباری سرگرمیوں میں پیش پیش ہیں۔ بی ضلع اور تحصیل لیول پر، سی تمام ایسے قصبے جہاں کاروباری سرگرمی ہوتی ہو۔ پھر ہر شہر کو انفرادی تین زون میں تقسیم کیا جائے اور اس کے لئے اے اے، بی بی، سی سی کا نام دیا جائے۔ اے اے میں اس شہر کی تمام بڑی مارکیٹس، پھر عام بازار اس کے بعد جو گلیوں میں کاروباری مراکز ہوں ان کی درجہ بندی کی جائے۔ گوگل میپ کو ایپ سے منسلک کر کے اس مسئلے کا باآسانی حل نکالا جا سکتا ہے۔

کسی کو الگ سے این ٹی این نمبر لینے کے لئے کسی وکیل کی ضرورت نہ پڑے اس کے لئے جو بھی سی این سی (شناختی کارڈ) رکھتا ہو نادرا کی مدد سے اس کا وہی این ٹی این نمبر شمار ہو اور یہ سب کے لئے ہو چاہے وہ ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہو یا نہ ہو بس پاکستانی شہری ہونا شرط ہو۔ جب تک وکیل اور ایف بی آر کا جو چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اس ساتھ کو ختم نہیں کریں گے چور دروازے موجود رہیں گے۔

ایک ایپ میں ہر سوال کا ایک نمبر ہو جو بھی اس ایپ میں دئیے گئے سوالوں کو اپنی دانست میں صحیح جواب فل کرے گا۔ خودکار طریقے سے اس کی کیٹگری بنتی جائے کہ وہ بندہ کس زون میں آتا ہے۔ اس ایپ میں سالانہ ٹوٹل بجلی کا بل، ملازم کتنے، کاروبار کی نوعیت، کاروبار کی جگہ کا سائز گراؤنڈ فلور ہی شمار کی جائے اور اس ایپ کو اردو میں بنایا جائے۔ ہر کوئی اپنے موبائل سے باآسانی سب پر کر سکے اور وہ جس زون میں آئے آن لائن ہی سالانہ وہ فکس شرح جو مقرر ہو ادا کر دے۔

اگر ایف بی آر کا نمائندہ اس کے دئیے گئے ڈیٹا سے اختلاف کرے تو وہ موقع پر جا کر اسکی انکوائری کر سکتا ہے۔ اور وہ اس سال کا جتنا فکس ٹیکس بنتا ہوگا بطور جرمانہ وصول کرنے کا مجاز ہوگا۔ اگر سائل کو ایف بی آر یا کوئی بھی ٹیکس سے متعلقہ اپنی کوئی مشکل ہو تو اس کو ون ونڈو آپریشن جو کہ ایک دن میں اس کے مسئلے کو حل کرنے کی پابند ہو۔ جو بھی ایپ کے ذریعے رجسٹرڈ ہوگا اس کا ایک کوڈ جنریٹ ہوگا جو ہر کسی کا الگ ہوگا اور وہی اس کے کاروبار کی پروفائل اس کوڈ پر محفوظ ہوگی۔

فکس ٹیکس ایک سال کے لئے ہوگا جب آن لائن ادائیگی ہو جائے تو ایک سرٹیفیکیٹ آن لائن ہی جو پرنٹ کروایا جا سکے سائل اس کا پرنٹ نکال کے اپنے کاروباری پوائنٹ پر آویزاں کرے۔ یہ ایک طرح سے ایک سال کا پرمٹ شمار ہو۔ ایسا شاید گلف ممالک میں ہو بھی رہا ہے۔ اسی طرح جو چھابڑی والے یا ریڑھی بان یا فٹ پاتھ پر یا بازار میں چل پھر کر جو سامان فروخت کرتے ہیں ان کو بھی اسی ایپ کے ذریعے کنٹرول کیا جائے۔

ان سے پانچ سو سالانہ فیس بھی اگر وصول کر لی جائے تو بے شمار رقم ملکی خزانے میں ہر سال آتی رہے گی۔ فکس ٹیکس کو کم از کم دس سال کے لئے منجمد کر دیا جائے تاکہ اعتماد کی فضا قائم ہو اور ٹیکس کی شرح تاجران کے مشورے سے رکھی جائے اور کم رکھی جائے تاکہ ہر کوئی باآسانی اور بہ خوشی ملکی خزانے میں جمع کروائے۔

سفید ہاتھی کی اگر بات کی جائے تو کبھی ان کے ملازمین، ان کی عمارتوں پر ہونے والے اخراجات کا حساب لگایا جائے تو ہوشربا انکشافات پڑھنے کو ملیں گے۔ جب تک اس سفید ہاتھی (ایف بی آر) کی تنظیم نو نہیں کی جاتی۔ اس ملک کے معاشی حالات سدھر نہیں سکتے۔ تاجر کو وکیل اور اس ادارے کی نورا کشتی سے بچانے کے لئے ان دونوں سے دور کر دیں۔ ڈائریکٹ ڈیلنگ ختم ہوگی تو ہی کاروباری معاملات آزادی سے چلیں گے۔

آپ تاجر کا خوف دور کر دیں۔ اسکے لئے آسانی پیدا کر دیں۔ فائل سسٹم گوشوارہ سسٹم جیسے پیچیدہ نظام سے چھٹکارا دلا دیں۔ ایپلی کیشن اردو میں کر دیں۔ ہر بندہ خود اس کو باآسانی پر کر سکے۔ غلط بیانی پر سزا ہونی چاہئے۔ پر اس کا فیصلہ بھی موقع پر ایک دن کے اندر اندر ختم ہونا چاہئے۔

ایف بی آر کی سروسز بڑے صنعتی یونٹوں ایمپورٹ ایکسپورٹ کے حوالے سے جاری رہنی چاہئے۔ یہ سکیم صرف چھوٹے کاروباری طبقے کے لئے ہے۔ جب تک ہم ٹیکس نیٹ ورک نہیں بڑھائیں گے ٹیکس ریونیو میں اضافہ نہیں کر سکتے ہیں۔ جو ٹیکس دے رہے کب تک ان کے کندھوں پر مزید بوجھ ڈالتے رہیں گے؟

اوپر دی گئی سکیم ہی نسخہ کیمیاء ہے۔ دیکھتے ہیں کون کیمیاء دان اس نسخہ پر عمل کرے گا؟

Check Also

Kam Zarf Ke Shar Se Bacho

By Tayeba Zia