Monday, 02 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Azhar Hussain Azmi
  4. Wo To Khushbu Hai Hawaon Mein Phail Jaye Gi

Wo To Khushbu Hai Hawaon Mein Phail Jaye Gi

وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں پھیل جائے گی

انسان کتنا مجبور ہے۔ اس کے لئے قبض کا ہونا اور پھر اسے سمجھنا ہی کافی ہے۔ قبض امیری غریبی، رنگ و نسل کچھ نہیں دیکھتا۔ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ قبض کا فیص ہر کس و ناکس پر جاری ہے۔ اسی لئے قبض کو مساوات کی سب سے بڑی درس گاہ کہا جاتا ہے۔ یہ خالی یا بھرے پیٹ دونوں میں ہو سکتا ہے۔ قبض بظاہر کوئی بڑی بیماری نہیں لیکن اس کے ہونے سے انسان اپنے کئے کرائے پر پانی نہیں پھیر سکتا۔ ایسے موقع پر انسان پہلو نہیں کولھا بدلتا ہے۔

انسان آج کل جسمانی قبض سے زیادہ ذہنی قبض کا شکار ہے۔ کوئی بھی بات اس کے بھجے میں نہیں گھستی۔ جسمانی قبض سے ریاح کاری جبکہ ذہنی قبض سے ریا کاری جنم لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے معاشرہ ذہنی قبض زدوں کی ریا کاریوں سے بھرا پڑا ہے۔

قبض دو دن کے لیے بھی ہو جائے تو اپنی چلبلی بہن ریاح بھی ساتھ لے آتا ہے۔ ریاح ہیٹ میں موجود نمی کو باہر لا کر ہیٹ کو پتھر جیسا کر دیتی ہے جس سے سامان شکم نکلنے کے راستے اور بھی محدود و مسدود ہو جاتے ہیں۔ ہلکے پیٹ والے ریاح کی یہ شوخیاں زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر پاتے اور ذرا سی دیر میں نیچے سے چین بول جاتے ہیں اور اریب قریب لوگ چیں بہ جبیں ہونے سے پہلے چیں بہ ناک ہو جاتے ہیں۔

ریاح کا خروج اتنا آسان بھی نہیں ہوتا۔ لاکھ چھپائیں یہ ہر صورت خراج تحسین مانگتی ہے۔ متاثرہ شخص اسے جلد از جلد روانہ از جسم کرنا چاہتا ہے۔ خواہش تو یہی ہوتی ہے کہ یہ کم بخت جتنی جلدی ہو خاموشی سے جسم کے بیک ڈور سے Exit کر جائے۔ کوئی دھوم دھڑکا نہ ہو۔ لیکن صاحبو! آپ اسے قسطوں میں نکالیں یا ایک ساتھ اور یہ چاہیں کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو مگر یہ ناکوں ناک سب کو اپنے سحر میں لے لیتی ہے۔

وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں پھیل جائے گی۔۔

میں نے زندگی میں بڑے سے بڑے پرہیز گار کو کہ جن پاس سے ریاکاری چھو کر بھی نہیں گزری، کھلم کھلا ریاح کار پایا ہے۔ ریاح کاری سیدھی سادی ہے جیسی ہے، جہاں ہے کی بنیاد پر ناک آمد ہوتی ہے جبکہ ریاکاری نہ جانے کتنے پردوں میں آتی ہے اور آپ اس کی بو تک نہیں سونگھ پاتے۔ ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ جس کی ریاح خارج ہو کبھی منہ پر ہاتھ نہیں رکھتا اور انجان بنا بیٹھا رہتا ہے لیکن لوگ سمجھ جاتے ہیں۔۔

یہ ہوائی اسی دشمن نے اڑائی ہوگی

بہرحال جس کی نکلتی ہے، وہ لاکھ شرمندہ ہو مگر جو سکون محسوس کرتا ہے، وہ گویا نئی زندگی کی نوید جیسا ہوتا ہے۔ گویا قبض کا قرض ریاح کی صورت میں فضا میں تقسیم کر دیا ہے۔

ریاح کیا جسم سے نکلی کوئی ارماں نکلا

قبض کی اجابت کا نہ پوچھیں۔ کمزور سے کمزور بندہ بھی ایڑی چوٹی کا زور لگا لیتا ہے تب کہیں جا کے برآمدگی کے کچھ آثار ہویدا ہوتے ہیں مگر بے یقینی کی کیفیت برقرار رہتی ہے۔ دل کہتا ہے کچھ اور۔۔ کچھ اور۔ کچھ تو ایسے جا کر بیٹھتے ہیں کہ داغ دہلوی یاد آنے لگتے ہیں۔ مبادا خیال آتا ہے کہ کہیں داغ نے یہ مصرعہ یہیں بیٹھتے بیٹھے تو نہیں داغا تھا۔

حضرت داغ جہاں بیٹھ گئے، بیٹھ گئے

انسان جب قبض کے غیض سے چھٹ کر 2x4 کے گراؤنڈ سے باہر آتا ہے تو ایسا لگتا کہ شارجہ میں جاوید میانداد کے چھکے سے بھی بڑا چھکا لگا کر آیا ہے جس کے اثرات چہرے پر پسینے اور کالے سے کالے چہرے پر ہلکی سی لالی سے آشکار ہوتے ہیں۔ کچھ کے چہرے دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ اپنے پیٹ کے پلاٹ سے کسی کا غاصبانہ قبضہ چھڑا کر آئے ہیں۔

قبض ایک صورت پر دو صورتوں میں ہوتا ہے۔ اول یہ کہ آپ نے شکم کے کنٹینر کو حد سے اوور لوڈ کر لیا ہو یا پھر پیٹ میں کچھ نہ ہو۔ خالی پیٹ کو لوگ قبض کہہ دیتے ہیں گو کہ اس کا سبب قحط الغذا ہوتا ہے۔ یہ لطیفہ کچھ لوگوں کو یاد تو ہوگا۔ ایک صاحب کسی چیریٹی کلینک میں ڈاکٹر کے پاس گئے اور قبض کی شکایت کی۔ اس نے دوا دی۔ دو تین روز گئے اور یہی کہا کہ قبض ٹوٹ نہیں رہا۔ ڈاکٹر حیراں کے دھان پان سا آدمی ہے۔ اب تک قبض تو کیا۔ اسے پورا کا پورا نکل جانا چاہیئے تھا۔ آخری روز نسخہ لکھتے ہوئے پوچھ بیٹھا: جناب آپ کرتے کیا ہیں؟ مریض نے کہا: ڈاکٹر صاحب شاعر یوں۔ ڈاکٹر نے فوراََ قلم روک دیا اور بولا: جناب کچھ کھائیں گا تو کچھ ہوگا۔

قبض بنیادی طور اپنے اندر بہت سارے مطالب پنہان رکھتا ہے۔ ہمارا ایک دوست کہتا ہے: گیس فیس کا مرر ہے۔ ہیٹ میں گیس ہو تو بندے کا فیس دیکھنے والا ہوتا ہے۔ اصل شکل و صورت سامنے آ جاتی ہے۔ پیٹ کی گیس نے اردو کے بہت سے محاورے غلط ثابت کر دیئے ہیں۔ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے کے لیے اس کا کہنا ہے اسے الٹ آکر پڑھیں "جیسا بھرو گے، ویسا کرو گے"۔ اسی طرح اس کا خیال ہے کہ جو کرو گے وہ سامنے آئے گا۔ اس بابت بھی اس کا کہنا ہے کہ جو کرو گے وہ نیچے آئے گا۔

"پیٹ کا قبض اور اس کا علاج آسان ہے۔ زندگی سے روانگی کو روح قبض کرنا کہا جاتا ہے جس کے بعد سارا حساب کتاب اوپر ہوگا۔ اگر انسان اس قبض کے معنی سمجھ لے اور یہ جان لے کہ آخری قبض روح پر منتج ہوتا ہے تو دنیا کے کئی مسئلے حل اور زندگی و آخرت سنوار جائیں"۔

About Azhar Hussain Azmi

Azhar Azmi is associated with advertising by profession. Azhar Azmi, who has a vast experience, has produced several popular TV campaigns. In the 90s, he used to write in newspapers on politics and other topics. Dramas for TV channels have also been written by him. For the last 7 years, he is very popular among readers for his humorous articles on social media. In this regard, Azhar Azmi's first book is being published soon.

Check Also

Kya Tareekh Sadiq o Amin Ke Baghair Badal Sakti Thi?

By Saleem Zaman