Wednesday, 24 July 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Azhar Hussain Azmi
  4. Saare Jahan Ka Dard Hamari Churi Mein Tha

Saare Jahan Ka Dard Hamari Churi Mein Tha

سارے جہاں کا درد ہماری ''چھری'' میں تھا

بچپن سے ہی بڑے ہو کر بک شاپ یا ہوٹل کھولنے کا شوق تھا۔ ہوٹل کھولنے کا اصل مقصد گوشت کے کھانوں سے اپنے پیٹ کی شکم پُری کرنا تھی۔ بچپن میں بازار سے سودا سلف لینے جاتے تو سب سے آئیڈیل صابر بھائی کی گوشت کی دکان ہوتی۔ رش ہوتا تو کبھی جلدی کا نہ کہتے۔ صابر کے ہاتھ میں چھری دیکھ کر ہمارا دل مچل مچل جاتا کہ کب یہ چھری ہمارے ہاتھ میں آئے اور پانی میں مچھلی کی طرح گوشت پر چلنے لگے۔ گوشت والے کے پٹرے پر بیٹھ کر گوشت کاٹنے ہمارا ایک رومانس تھا۔

مجھے تو یہ آوازیں بھی اچھی لگتیں: صاحب کی بوٹی کردے۔ باجی کا دل کلیجی نکال دے۔ بھائی کی چانپ کہاں رکھ دی۔ اگر کوئی گاہک گوشت میں مین میخ نکالتا تو صابر کہتا: بابو جی لے جاؤ۔ یہ بوٹیاں تھوڑی ہی ہیں قسم سے، حنان کے پیڑے ہیں۔ اس زمانے کی کراچی میں عبد الحنان کی مشہور مٹھائی کی دکان تھی اور اس کے پیڑے بہت ذائقہ دار ہوا کرتے تھے۔

کچھ قصائی کے ہاتھوں میں چھری کسی مصور کا برش لگتی۔ یہی وجہ ہے کہ میں قصائی کو "چھری طراز" فنکار کہتا ہوں۔ ظالم اس نفاست اور دست شفقت سے ران میں سے گوشت کا پیس نکالتا ہے۔ لگتا ہے کہ واقعی یہ اضافی تھا اور اصل خال و خد تو اب نمایاں ہوئے۔ حسن اور بھی آشکار ہوا۔ ہمارے دل کے آر پار ہوا۔ سرخی مائل گوشت اور اس پر مایوں کے رنگ والی چربی دیکھ کر منہ میں پانی آ جاتا ہے۔ بچپن سے ہمارے اندر ایک چھری زن موجود تھا مگر حالات اور اوقات نے کبھی موقع نہیں دیا مگر وہ کہتے ہیں کہ قسمت ایک بار ضرور دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔ بس آپ باہر نکل آئیں اور ہم نکل آئے۔

گائے تو ہمارے حصے میں نہ آئی مگر بکرے ہمارے چھری تلے آ گئے۔ دن تھا بقرعید کا اور صورت حال یہ تھی کہ ہاتھ میں چھری اور منہ پر اللہ اکبر۔ یہ 80 کی دھائی کے ابتدائی سال تھے۔ ایک کزن کی شادی بیرون کراچی بقر عید کے تیسرے روز تھی۔ گھر والے سب جا چکے تھے اور مجھے بقرعید کے پہلا دن گزار کر رات کو بذریعہ ٹرین روانہ ہونا تھا۔

صبح عید کی نماز پڑھی۔ اب فارغ کوئی کام کرنے کو نہیں۔ اندر کے قصائی نے باہر انگڑائی لی۔ گلی کے لڑکوں کو جمع کیا اور کہا کہ چلو آج گلی کے بکرے کاٹتے ہیں۔ دوستوں نے کانوں کو ہاتھ لگائے مگر ہم باز نہ آئے۔ ہم نے کہا تم بس میرا ساتھ دو، باقی ذمہ داری میری۔ دوسری بات یہ کہ بھائی پیسے لیں گے فری میں تھوڑی کاٹیں گے۔ دوستوں کو پیسے مصالحہ لگی بوٹیوں کی طرح نظر آئے، راضی ہو گئے۔ اب مسئلہ آیا۔ آلات ذبیحہ کا۔ نیت صاف تھی۔ مانگ تانگ کے تمام چھوٹی بڑی چھریاں، بغدہ، چاپڑ اور ٹوکا جمع کیا۔

اس وقت بکرے کاٹنے کا ریٹ 150 روپے چل رہا تھا۔ ہم نے 50 روپے کا ہول سیل ریٹ مقرر کردیا اور بات سینہ بہ سینہ گلی میں تازہ خون کے بو کی طرح پھیلادی کہ قربانی کرنے والوں کو قربانی کا بکرا بنتے نہیں دیکھا جاتا۔ درد مند دل رکھتے ہیں اس لیے آپ کا درد چھری میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے:

سارے جہاں کا درد ہماری چھری میں ہے

کوئی ٹس سے مس نہ ہوا بلکہ یہی کہا کہ تم اتائیوں سے کون کٹوانے گا۔ ہمارے تجربے کو گھاس نہیں ڈالی جا رہی تھی۔ ایک مہذبانہ تقریر دل پذیر کر ڈالی:

دست ابرنجن (کنگن) نہیں باندھا۔ تیز چھری رکھیں گے ہاتھ میں۔ قصاب خاندانی نہ سہی مگر بچپن قصاب کی دکان پر گزرا ہے۔ ہم وہ نہیں کہ قصاب کے برتے پر شکرا پالیں۔ اس کام میں دست آزما ہیں۔ آپ پہلے بکرے کی کٹنگ دیکھیں پھر بکنگ کرائیں۔

تقریر کا اتنا اثر تو ہوا کہ 7 یا 8 لڑکے ہمارے ساتھ ہو لئے۔ اب ہمارا نام پڑ چکا تھا استاد جی۔ پہلے بکرے کو قبلہ رو کیا اور اپنے گناہوں کی معافی دل میں مانگی۔ چشم زدن میں بکرا ذبح کیا۔ بکرا ذبح ہوا تو اناڑی پن کی جو چھری ہم پر لٹک رہی تھی وہ ہٹی۔ گردن سے کھال اتارنا شروع کی اور پھر گھونسے مار مار کر کھال اتار کر ایک طرف کردی۔ بکرے کی صحیح سالم کھال اتری اور ہماری کھال بچی۔ بکرے کی کھال پر ایک کٹ بھی نہ آیا۔ محلے کے ایک بزرگ نے ہم پر دستِ شفقت رکھا اور ہم بکرے کی چیرہ دستیوں میں مصروف ہو گئے۔ بکرے کے بڑے بڑے پیس کر لڑکوں کے حوالے کیے اور خود آ گے بکرا ذبح کرنے نکل گئے۔

لیجئے صاحب! پہلے بکرے کی دھوم کیا مچی گلی سے سارے قصائیوں کو گلی بدر کیا اور جناب 6 بکروں کی بکنگ آ گئی بلکہ زیادہ ہی ہوں گے لیکن ہم نے بکنگ بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ وجہ یہ تھی کہ ہم صرف 50 روپے میں بکرا ذبح کر رہے تھے۔ قصائی بکرے کے علاوہ قربانی کرنے والوں کی 150 روپے لے کر کھال بھی اتار رہے تھے اور جاتے جاتے تھوڑا گوشت اور سری پائے پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے تھے۔ ہم نے کہا کہ گوشت نہ دو۔ بس اگر چاھوں تو ہماری پارٹی کو کوئی بھی دو گھروں میں سے ایک بھنی کلیجی کھلا دے اور ایک رات کا کھانا۔

بات بات اگے پیچھے کی گلیوں میں پھیلی تو ہم نے کہا: نہیں بھائی گلی والوں کا حق پہلے ہے۔ دوسرے اور تیسرے دن کی بکنگ آئی تو لڑکوں نے صاف کہہ دیاکہ استاد رات والی گاڑی سے چلے جائیں گے۔ ٹائم نہیں ہے۔ شام ہوتے ہوتے ہم فارغ ہوچکے تھے۔ اب رقم جمع ہوئی 300 روپے جو اس زمانے میں قابل ذکر رقم تھی۔ سب تھک ہار کر گھر چلے گئے۔ طے ہوا کہ رات 9 بجے کے بعد ملیں گے۔ ہم گھر آئے اور ٹھیک 9 بجے گھر سے نکلے، اسٹیشن پہنچے اور شادی والے روانہ ہو گئے۔

شادی والے شہر جا کر سوچا کہ اب ان 300 روپوں کا کیا جائے۔ ایک رشتے دار سے پوچھا کہ اچھی کھدر کہاں سے مل جائے گی۔ چھوٹا شہر تھ۔ وہ لوگ رہتے بھی شاہی بازار میں تھے۔ جاننے والے کی دکان کھلوائی۔ کپڑا لیا۔ دکان والا درزی بھی تھا اس نے کہا کہ کہو تو آج کل دن میں سی کر بھی دے سکتا ہوں۔ ہم نے کہا کہ نیکی اور پوچھ پوچھ۔ ہم نے سوچا صبح وہ جوڑا سی دے گا اور رات میں ہم برات میں پہن لیں گئے۔

تیسرے دن صبح میں گلی میں رہنے والا ہمارا چچا زاد بھائی بھی پہنچ گیا۔ وہ بھی ہماری پارٹی میں شامل تھا۔ کہنے لگا: آپ یہاں آ گئے۔ سب پوچھ رہے ہیں کہ یہ کیا بات ہوئی بغیر حساب کتاب کئے چل دیئے۔ میں نے اسے بتایا کہ میں نے تو ان پیسوں کا برات کے لیے نیا جوڑا سلوا کیا ہے۔ کہنے لگا: یہ تو زیادتی ہے ہم سب نے محنت کی ہے۔ بات بالکل صحیح تھی اور اس کا نتیجہ بھی یہی نکلنا تھا۔ رات برات میں کھدر کا جوڑا پہننا۔ بڑے اِترائے اِترائے پھر رہے تھے۔

شادی ایک گراونڈ میں تھی جس میں داخلے کا ایک گیٹ تھا اور چاروں طرف لوھے کے جنگلے لگے تھے۔ ہمارے عزیز شاید نکاح کے چھوارے گھر بھول آئے تھے۔ مجھ سے کہا گیا کہ کسی کے ساتھ جا کر جلدی سے گھر سے چھواروں کا تھیلا لے او۔ جلدی کے چکر میں گیٹ کے بجائے آدھی دیوار اور آدھے لوھے کے جنگلے سے جو چھلانگ لگائی تو پیچھے سے کُرتا نوکدار لوھے میں پھنس گیا اور ایک فٹ تک چرتا چلا گیا۔ کتنوں کا دل دکھا کر جوڑا سلوایا تھا۔ اس لیے جو چھری بکروں پر چلائی تھی وہ ہمارے کُرتے پر چل گی۔ دل خون کے آنسو بہا کر رہ گیا۔

About Azhar Hussain Azmi

Azhar Azmi is associated with advertising by profession. Azhar Azmi, who has a vast experience, has produced several popular TV campaigns. In the 90s, he used to write in newspapers on politics and other topics. Dramas for TV channels have also been written by him. For the last 7 years, he is very popular among readers for his humorous articles on social media. In this regard, Azhar Azmi's first book is being published soon.

Check Also

Saudi Arab Mein Bike Delivery Ki Nokariyan

By Mansoor Nadeem