Saturday, 05 April 2025
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ashfaq Inayat Kahlon
  4. Chalte Ho To Baku Chalte Hain (2)

Chalte Ho To Baku Chalte Hain (2)

چلتے ہو تو باکو چلتے ہیں (2)

امیگریشن ہال میں پہلا سامنا ایک خوش شکل، نسواری شرٹ، ڈھیلا ٹراؤزر، سپورٹس شوز پہنے، مناسب قد، اتھلیٹ جیسی مشابہت، گھنگریالے بالوں والی نازک اندام آذری حسینہ، سینے پر انجلینا نام کا بیج، ہر مسافر سے ویزہ پوچھ رہی تھی، آمنا سامنا ہونے پر نہایت شائستگی سے انگریزی میں بولی "کیا آپ کے پاس ویزہ ہے؟" میں اسے روسی زبان میں مختصر جواب دیا "ویزہ آن آرائیول"، انجلینا کے پاسپورٹ مانگنے پر میں نے پاسپورٹ، سعودی اقامہ اور ایمریٹس آئی ڈی تینوں ایک ساتھ اسے تھما دیئے، چیک کرنے کے بعد اس نے رہنمائی کی "آپ وہ سامنے ویزہ آن آرائیول والے کاؤنٹر پر جائیں"۔

جن کے پاس پہلے سے ویزہ تھا انہیں امیگریشن ہال کی طرف بھیجا جا رہا تھا، عملہ ہر مسافر کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہا تھا، یہ سارا عمل نہایت شائشتگی اور تمیز سے ہو رہا تھا، کوئی بدتمیزی نظر نہ آئی، میں جب مطلوبہ کاؤنٹر کی طرف نظر دوڑائی تو میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے، تین عدد کاؤنٹرز اور لگ بھگ ہزار مسافر اپنی اپنی باری کے منتظر تھے، مرتا کیا نہ کرتا، ادھر کا رخ کرنا پڑا اور لائن میں لگ گیا، ہر کاؤنٹر پر صنف نازک موجود تھی، جب میری باری آئی تو میرے بعد فقط دو مسافر باقی تھے، وہاں سے رجسٹریشن کروانے کے بعد حکم صادر ہوا "آپ آٹومیٹک ویزہ مشین کی طرف جائیں اور وہاں 50 ڈالر ادا کرکے آن لائن ویزہ نکلوائیں "، میں مڑنے ہی لگا تھا کہ اس نے پکارا "اگر آپ کے پاس پچاس ڈالرز کا نوٹ نہیں ہے تو یہیں سے تبدیل کروالیں "، میں پرس چیک کیا، سب نوٹ ہی سو ڈالر مالیت والے تھے اور چند ایک چھوٹی مالیت کے تھے، سپیسی با یعنی شکریہ ادا کرکے ایک سو ڈالر تبدیل کروایا۔

یہاں سے فارغ ہو کر ویزہ مشین کی طرف گیا، دو عدد مشینیں اور لمبی لائن، یا اللہ کہاں پھنس گیا ہوں، پھر سے لمبی لائن میں لگ کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگا، انجلینا مسافروں کی رہنمائی کیلئے ویزہ مشین پر موجود تھی، وہ لائن کے گرد چکر لگا کر ہر مسافر سے استفسار کرتی تاکہ وہ اپنے کاغذات تیار رکھے، جس مسافر کو سمجھ نہ آتی وہ اسکی مدد کرتی، دوسری مرتبہ اس نے مجھ سے استفسار کیا تو میں شکریہ ادا کرتے روسی زبان میں ایک جملہ اچھال دیا "ڈیوٹی نہایت فرض شناسی سے ادا کر رہی ہو"۔

اس تعریف پر وہ جوابی مسکرائی اور میری طرف دیکھتے ہوئے بائیں آنکھ ہولے سے دبا دی، جب وہ آتے جاتے پاس سے گزرتی تو میری طرف دیکھ کر مسکراتی، لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹے بعد میری باری آئی تو وہ میرے پاس آ کھڑی ہوئی، میں نے اندراج معلومات مسافر کیلئے رشین زبان کا انتخاب کیا تو اس نے حیرت سے پوچھا "زیادہ تر مسافران انگریزی زبان اختیار کرتے ہیں، ٹہرو، میں مدد کرتی ہوں "، جب اس نے فرسٹ نام پوچھا اور میں نے "اشفاق" بتایا تو اسے گویا کھانسی سی لگ گئی، ہنستے ہنستے بولی "ایش فک"، میرے نام کی صراحاً بے حرمتی پر لائن میں موجود باقی مسافران کھل کر ہنسے، وہ میری حالت سے محظوظ ہو رہے تھے، ان کے قہقہے میں شامل ہوتے میں نے ویزہ مشین پر نام پنچ کیا۔

آن لائن فارم پُر کرکے منی سلاٹ میں پچاس ڈالر رکھے، لو جی فوراً ہی ویزہ مشین پر نمودار ہوگیا، انجلینا کا شکریہ ادا کرتے امیگریشن ہال کا رخ کیا، چلتے چلتے ویزہ پرنٹ کو پڑھا، لکھا تھا کہ اس ویزہ کی مدت تیس دن ہے، اگر آپ پندرہ دن سے زیادہ قیام کرنا چاہتے ہیں تو پندرہ دن کے اندر امیگریشن آفس جا کر مفت رجسٹریشن کروائیں، بصورت دیگر آذربائیجان چھوڑتے وقت سات سو منات کا جرمانہ ہوگا اور خیر سے ایک منات کی قیمت اڑھائی سعودی ریال برابر ہے، یہ تحریر غیر ملکی مسافران کی سہولت کیلئے یہ ایک بہت اچھا اقدام ہے ورنہ اکثر لوگ بے خبری میں رجسٹریشن نہیں کرواتے اور جرمانہ کا سامنا کرتے ہیں۔

یا اللہ خیر، آگے بھی بہت رش تھا، ڈیوٹی آفیسر نے میرا پاسپورٹ اور آن لائن ویزہ پرنٹ چیک کرکے آگے لائن کی طرف بڑھنے کا اشارہ کیا، نظر دوڑائی تو سات عدد کاؤنٹرز کے پیچھے ایک سے بڑھ کر ایک روسی حسینہ موجود تھی جو پھرتی سے اپنا کام کر رہی تھیں، کاؤنٹر نمبر سات والی سب سے زیادہ خوش شکل نظر آئی، میرے آگے ایک پاکستانی کھڑا تھا، اس نے پیچھے مڑ کر میری طرف دیکھا اور بولا "بھاء جی دعا کرو کہ میری باری سات نمبر کاؤنٹر پر آئے"۔

لائن آگے بڑھتی رہی، اس کے آگے ایک خاتون پانچ عدد بچوں کے ہمراہ تھی، ڈیوٹی آفیسر نے ان سب کو کاؤنٹر نمبر چار کی طرف بھیجا، شومئی قسمت جب اس پاکستانی کی باری آئی اور وہ سات نمبر کاؤنٹر کی طرف قدم بڑھانے ہی لگا تھا کہ کاؤنٹر نمبر پانچ فارغ نظر آنے پر ڈیوٹی آفیسر نے اسے وہاں بھیج دیا، اب اگلا نمبر میرا تھا، ڈیوٹی آفیسر نے مجھے کاؤنٹر نمبر سات کی طرف بھیجا، میں نے جاتے ہی کاؤنٹر پر پاسپورٹ اور آن لائن ویزہ پرنٹ رکھتے ہوئے روسی زبان میں اسے "دراست وچے"، یعنی سلام عرض کیا، روسی زبان سن کر اس کا چہرہ کھل اٹھا تھا، پاسپورٹ اور ویزہ چیک کرتے بولی "ایک قدم پیچھے ہٹ کر کھڑے ہو جائیں اور سامنے نصب کیمرے کی طرف دیکھیں"۔

ضروری کاروائی کرنے کے بعد اس نے پاسپورٹ پر انٹری کی سٹامپ لگا کر میرے حوالے کر دیا، میں نے مسکراتے ہوئے روسی زبان میں شکریہ ادا کرتے کہا "سارا ایئرپورٹ ہی خوب صورت، مستعد اور عمدہ عملے سے بھرا پڑا ہے"، میری زبان سے رشین میں تعریف سن کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ کھل اٹھی اور باچھیں پھیلتی ہوئی کانوں تک پہنچنے لگیں، صاف شفاف موتیوں جیسے دانتوں کی نمائش کرتے کی بورڈ پریس کرتی اک ادا سے پاسپورٹ میری طرف بڑھاتے بولی "پژالوستا" یعنی پلیز، میں جوابی بولا "ایتا نی واژنا"، اردو میں اس کا مطلب "خیر اے کوئی گل نہیں "، اس کی مسکراہٹ دیکھنے لائق تھی لیکن بیان کرنے کیلئے مناسب الفاظ میسر نہیں۔

سامان وصول کرنے والے ہال میں میرا سفری بیگ اکیلا ہی بیلٹ پر گھوم رہا تھا، یعنی تمام مسافران اپنا سامان وصول کرکے جا چکے تھے، ایک ستون پر فری وائی فائی کا نشان نظر آیا، یہ ایک بہت اچھی سہولت ہے جو دنیا بھر میں تمام معیاری ایئرپورٹوں پر دستیاب ہے، موبائل کو وائی فائی سے منسلک کیا، واٹس ایپ پر شکیب کے میسج موجود تھے، اسے جواب لکھا "پہنچ گیا ہوں، ہوٹل جا رہا ہوں، تھوری دیر آرام کرنے کے بعد رابطہ کرتا ہوں"۔

گھر والوں اور دوستوں سے رابطہ کرکے انہیں بخیریت پہنچنے کی اطلاع دی، شکیب کا فوراً جوابی میسج آیا "کہاں موجود ہو؟ میں ویلکم کرنے آتا ہوں "، میں نے تھکاوٹ باعث معذرت کی لیکن اس کا اصرار جاری رہا، بے حد معذرت کرکے اسے وائس میسج بھیجا "فری ہو کر رابطہ کرتا ہوں "، اس کا جواب آیا "آج میرا شیڈول فل ٹائم پیک ہے، فقط تمہاری خاطر شیڈول تبدیل کیا ہے، ڈرائیور کو بھیج دیتا ہوں، میرے فلیٹ پر ہی قیام کرو"، میں ایک مرتبہ پھر سے معذرت کی "ہوٹل کی رقم پہلے ہی ادا کر چکا ہوں، ساری رات کا جاگا ہوا ہوں، تھوڑی دیر سونا چاہتا ہوں، تم کام نبٹاؤ، پھر شام کو ملتے ہیں"۔۔

Check Also

Masail e Mushkila Ka Hal Aur Hazrat Ali Ki Hazir Jawabi (3)

By Safdar Hussain Jafri