Shunwai Ki Saat: Mankera Se Uthti Umeed
شنوائی کی ساعت: منکیرہ سے اُٹھتی امید

مرزا غالب کے یہ الفاظ یاد دلاتے ہیں کہ قلم صرف کاغذ پر نہیں چلتا، بلکہ اپنے ساتھ درد اور جدوجہد کی کہانی بھی لے کر چلتا ہے:
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاں
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
کبھی کبھی خبر محض خبر نہیں رہتی، وہ دل کے کسی گہرے گوشے میں اتر کر برسوں کی تھکن، تلخی اور محرومی کا مداوا بن جاتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا بھکرکے علاقے منکیرہ میں دانش اسکول کا افتتاح اور سکول میل پروگرام کا آغاز ایسی ہی خبر ہے۔ یہ محض ایک سرکاری تقریب نہیں، بلکہ ایک خاموش اعتراف بھی ہے کہ پنجاب کے وہ علاقے جنہیں برسوں ترقی کے نقشوں میں حاشیے پر رکھا گیا، اب مرکزِ نگاہ بننے لگے ہیں۔ منکیرہ، جو ضلع بھکر کی پہچان ہے، وہاں دانش اسکول کا قیام اس حقیقت کی علامت ہے کہ تعلیمی انصاف کا سفر اگرچہ سست ہے، مگر رُکا ہوا نہیں۔ یہ خبر پڑھ کر دل میں ایک عجیب سی مسرت جاگی، جیسے کسی نے اندھیرے میں جلتا ہوا دیا دیکھ لیا ہو اور یقین آ گیا ہو کہ رات چاہے کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، سحر کا امکان پھر بھی باقی رہتا ہے۔
وزیراعلیٰ کا طالبات میں لنچ بکس تقسیم کرنا، کلاس رومز کا دورہ کرنا اور ملک پیک ری سائیکلنگ سے بننے والے ڈیسک پر خوشی کا اظہار محض رسمی مناظر نہیں تھے۔ یہ اشارے تھے ایک ایسے طرزِ حکمرانی کے، جو تعلیم کو صرف عمارت اور نصاب تک محدود نہیں سمجھتا بلکہ صحت، ماحول اور خود اعتمادی کو بھی اس کا لازمی جزو مانتا ہے۔ طالبات کو دودھ پینے، اچھی غذا کھانے اور مضبوط بننے کی نصیحت میں ماں کی سی شفقت جھلکتی ہے اور شاید یہی بات اس تقریب کو باقی سرکاری تقریبات سے الگ کر دیتی ہے۔ دانش اسکول گرلز کیمپس کے ہاسٹل میں بلوچستان کی طالبات کی سالگرہ منانا، ان کے ساتھ کھانا کھانا، یہ سب علامتی افعال ہیں مگر علامتیں ہی تو معاشروں کی سمت متعین کرتی ہیں۔ ایک طالبہ جب یہ دیکھتی ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھی شخصیت اس کے ساتھ میز پر بیٹھ سکتی ہے، تو اس کے اندر خوف کے بجائے امکان جنم لیتا ہے۔
منکیرہ کے تین اسکولوں کی فوری آپ گریڈیشن اور نوٹیفکیشن کا اجرا ایک خوش آئند روایت کا آغاز ہے۔ گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول کیسانوالہ کا ایلیمنٹری بننا اور کری و نورپور شاہ کے اسکولوں کا ہائی گریڈ کا درجہ پانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت ہو تو فائلیں دھول میں نہیں اٹکتیں۔ یہ اقدامات اس خطے کے لیے محض تعلیمی سہولت نہیں بلکہ سماجی وقار کی بحالی ہیں۔ ایک اسکول جب ہائی بنتا ہے تو صرف کلاسیں نہیں بڑھتیں، خوابوں کی چھت بھی بلند ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر لڑکیوں کے لیے، جن کے راستے اکثر غربت، روایت اور فاصلے روک لیتے ہیں، یہ آپ گریڈیشن ایک خاموش انقلاب سے کم نہیں۔
میں اس خبر کو پڑھتے ہوئے اپنے اُن کالموں کو یاد کرتا رہا جو میں نے کچھ عرصہ پہلے انہی محروم اضلاع کے لیے لکھے تھے۔ تلہ گنگ، اٹک، میانوالی، بھکر، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، یہ سب نام میرے لیے محض جغرافیہ نہیں بلکہ احساس کی حد بندیاں ہیں۔ ان علاقوں کی محرومی پر میں نے بارہا قلم اٹھایا، دلیلیں دیں، مثالیں دیں، مگر شنوائی نہیں ہو پاتی تھی۔ شاید آواز کمزور تھی، شاید کان مصروف تھے، یا شاید وقت موافق نہیں تھا۔ مگر آج جب منکیرہ میں دانش اسکول کی خبر سامنے آئی تو یوں لگا جیسے کہیں نہ کہیں کوئی تحریر، کوئی فقرہ، کوئی استدلال آخرکار بااختیار کانوں سے ٹکرا گیا ہو۔ یہ کہنا خود فریبی نہیں کہ لکھنے والا ہمیشہ یہی امید رکھتا ہے کہ اس کا قلم محض کاغذ پر نہیں، کہیں دلوں اور فیصلوں پر بھی اثر ڈالے گا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ یہ شنوائی کسی اور ذریعے سے ہوئی ہو، کسی رپورٹ، کسی کالم، کسی آواز، کسی سروے یا کسی سیاسی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہو، مگر مجھے اس بحث میں الجھنے کی ضرورت نہیں۔ خوشی اس بات کی ہے کہ شنوائی ہوئی اور اگر اس میں میرے جیسے لکھنے والوں کے الفاظ کا ایک معمولی سا حصہ بھی شامل ہے تو یہ ہمارے لیے اعزاز سے کم نہیں۔ ایک قلم کار کے لیے اس سے بڑی تسکین اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ دیکھے اس کے لفظ محض شکوہ نہیں رہے بلکہ کسی عمل کی بنیاد بن گئے۔ منکیرہ میں دانش اسکول کا افتتاح میرے لیے ذاتی سطح پر بھی ایک جواب ہے۔ اس مایوسی کا جواب جو برسوں کی بے اعتنائی نے پیدا کی تھی۔
سکول میل پروگرام کے اعداد و شمار بھی اسی امید کو مضبوط کرتے ہیں۔ چار ہزار سے زائد بوائز اور گرلز اسکولوں میں صحت بخش لنچ، انرولمنٹ میں اٹھائیس فیصد اضافہ، کروڑوں ملک پیک اور بسکٹ کی فراہمی، یہ سب اعداد نہیں، یہ کہانیاں ہیں۔ یہ ان بچوں کی کہانیاں ہیں جو شاید خالی پیٹ اسکول آنے کے بجائے اب شوق سے بستہ اٹھاتے ہیں۔ یہ ان ماؤں کی دعائیں ہیں جنہیں معلوم ہے کہ ان کا بچہ کم از کم ایک وقت کی معیاری غذا ضرور حاصل کرے گا۔ تعلیم اور خوراک کا یہ امتزاج دراصل غربت کے اس دائرے کو توڑنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے جو نسل در نسل چلتا رہتا ہے۔
دانش اسکول منکیرہ، جو دو ہزار سترہ میں شروع ہوا اور آج ڈھائی سو ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے، سات سو ستر طلبہ کا مستقبل سنوار رہا ہے۔ یہ تعداد شاید کسی بڑے شہر کے ایک اسکول کے برابر نہ ہو، مگر محروم خطے میں یہ ایک چراغ کی مانند ہے جس کی روشنی دور تک جاتی ہے۔ جب ایک علاقے میں ایک معیاری ادارہ قائم ہوتا ہے تو اس کے اثرات اردگرد کے دیہات، بستیوں اور ذہنوں تک پہنچتے ہیں۔ بچے خود کو کمتر نہیں سمجھتے، والدین تعلیم کو فضول خرچی نہیں کہتے اور معاشرہ آہستہ آہستہ اپنی سمت بدلنے لگتا ہے۔
میں اس کالم کو کسی تعریف نامے کے طور پر نہیں لکھ رہا، بلکہ ایک امید نامے کے طور پر لکھ رہا ہوں۔ امید اس بات کی کہ منکیرہ کے بعد تلہ گنگ، اٹک، میانوالی، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کی باری بھی آئے گی۔ امید اس بات کی کہ محرومی کو جغرافیہ کے ساتھ نہیں، ضرورت کے ساتھ ناپا جائے گا۔ امید اس بات کی کہ قلم کی آواز مکمل خاموشی میں نہیں جاتی، کہیں نہ کہیں اس کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ اگر منکیرہ میں دانش اسکول بن سکتا ہے تو باقی علاقوں میں بھی بن سکتا ہے۔ بس شرط یہی ہے کہ شنوائی کا یہ دروازہ بند نہ ہو اور لکھنے والے لکھتے رہیں، کیونکہ کبھی کبھی ایک کالم بھی تاریخ کے کسی موڑ پر اپنا کردار ادا کر جاتا ہے۔
یہ کالم کسی فرد یا حکومت کی مدح نہیں بلکہ اس امید کی دستاویز ہے جو محرومی کے طویل موسم کے بعد کہیں سے کونپل بن کر اُبھری ہے۔ منکیرہ میں دانش اسکول کا قیام اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر آواز مسلسل، دلیل کے ساتھ اور خیر کی نیت سے اٹھتی رہے تو وہ کبھی نہ کبھی سنی جاتی ہے۔ یہ تحریر اسی یقین کا تسلسل ہے کہ قلم کی شنوائی فوری نہ سہی، مگر لاحاصل بھی نہیں ہوتی۔
یہ جو اک دیپ جلا ہے کسی ویرانے میں
روشنی پھیل ہی جاتی ہے ذرا پیمانے میں
ہم نے لکھ لکھ کے فقط درد نہیں بانٹا تھا
کچھ دعا بھی تھی چھپی لفظ کے افسانے میں
جن کو محرومی کے صحرا میں کوئی دیکھ نہ پایا
آج وہ نام بھی شامل ہیں نئے فسانے میں
یہ سنا ہے کہ صدا لوٹ کے آتی ہے کبھی
دیر لگتی ہے مگر آتی ہے ویرانے میں
ہم نے مانگا نہ صلہ، بس یہی خواہش تھی اسدؔ
کوئی بچہ بھی نہ رہ جائے اندھیرے خانے میں

