Tuesday, 27 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Mark Tully: Awaz Jo Yaad Ban Gayi

Mark Tully: Awaz Jo Yaad Ban Gayi

مارک ٹلی: آواز جو یاد بن گئی

کچھ لوگ محض صحافی نہیں ہوتے، وہ وقت کے گواہ ہوتے ہیں، تاریخ کے راوی ہوتے ہیں اور بعض خوش نصیبوں کے لیے بچپن کی یادوں میں گھلی ہوئی ایک مانوس آواز بھی۔ مارک ٹلی بھی ایسے ہی لوگوں میں شامل تھے۔ آج جب بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر اُن کی وفات کی خبر پڑھی تو یوں لگا جیسے خبر نہیں، کسی پرانی تصویر کے کنارے جل گئے ہوں۔ وہ تصویر جس میں ایک چارپائی ہے، ہمارے پیارے اور مہربان چاچا جی ہیں، شام ڈھل رہی ہے، ریڈیو کی مدھم سی آواز ہے اور خبروں کے ہجوم میں کہیں سے مارک ٹلی کی آواز ابھرتی ہے۔ صاف، متوازن، ٹھہری ہوئی اور غیر ضروری جذبات سے پاک، مگر اثر میں گہری۔ ہم بہت چھوٹے تھے، ہمیں نہ سیاست کا شعور تھا نہ تاریخ کی نزاکتوں کا ادراک، مگر یہ ہم سب جانتے تھے کہ جب یہ آواز آتی ہے تو بات کچھ خاص ہوتی ہے، بات دور کہیں دہلی، لکھنؤ، لاہور یا ڈھاکہ میں ہو رہی ہے، لیکن بات ہے سچ کے قریب تر۔

مارک ٹلی اُن صحافیوں میں سے تھے جنہوں نے جنوبی ایشیا کو محض خبر کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ ایک تہذیب، ایک مزاج، ایک مسلسل دھڑکتے ہوئے دل کے طور پر سمجھنے کی کوشش کی۔ پچیس برس تک بی بی سی کے ساتھ وابستگی محض ملازمت نہیں تھی، یہ ایک عہد تھا جس میں انہوں نے طاقت، مذہب، عدالت، فوج، ہجوم اور سیاست، سب کو قریب سے دیکھا اور سنا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی جیسے سانحے کی کوریج ہو یا بابری مسجد کے انہدام جیسا زلزلہ خیز واقعہ، مارک ٹلی کی رپورٹنگ میں چیخ نہیں تھی، شور نہیں تھا، مگر ایک ایسا وزن ضرور تھا جو سننے والے کو جھنجھوڑ دیتا تھا۔ اُن کی آواز میں کسی فریق کی وکالت نہیں، کسی مسلک کی تلوار نہیں، بلکہ ایک سوال ہوتا تھا۔ یہ سب کیوں ہوا؟ اور ہم یہاں تک کیسے پہنچ گئے؟

بھٹو کی پھانسی کے حوالے سے اُن کے الفاظ آج بھی صحافت کے طالب علموں کے لیے ایک اخلاقی سبق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کیسے وہ ہر شام ایک جج کے پاس جاتے تھے، جو سب کچھ بتانے پر آمادہ تھا، مگر ساتھ ہی یہ شرط بھی رکھتا تھا کہ اگر یہ سب شائع ہوا تو وہ ان معلومات سے مکر جائے گا۔ یہ محض ایک صحافتی dilemma نہیں تھا، یہ سچ اور ذمہ داری کے درمیان کھڑی ہوئی ایک دیوار تھی۔ مارک ٹلی جیسے لوگ اسی دیوار کے سامنے کھڑے ہو کر پہچانے جاتے ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ خبر صرف بتا دینا کافی نہیں، خبر کو بچانا بھی ہوتا ہے۔ اس کی ساکھ کو، اس کے اثر کو اور کبھی کبھی اس کے نتیجے میں جینے والے انسانوں کو بھی۔ شاید اسی لیے اُن کی رپورٹنگ میں جلدی نہیں تھی، سنسنی نہیں تھی، بلکہ ٹھہراؤ تھا اور یہ ٹھہراؤ ہی اُن کی پہچان بنا۔

ہم جیسے لوگوں کے لیے، جو اُس وقت محض سننے والے تھے، مارک ٹلی ایک نام نہیں بلکہ ایک تجربہ تھے۔ بی بی سی کی خبریں سنتے ہوئے ہمیں یہ احساس تو نہیں تھا کہ ہم تاریخ کے کسی موڑ پر کھڑے ہیں، مگر یہ ضرور محسوس ہوتا تھا کہ دنیا بڑی ہے، پیچیدہ ہے اور ہر سچ آسان نہیں ہوتا۔ اُن کی آواز ہمیں یہ سکھائے بغیر سکھا گئی کہ اختلاف میں بھی شائستگی ہو سکتی ہے اور تنقید میں بھی وقار۔ آج کے شور زدہ میڈیا کے دور میں، جہاں خبر سے زیادہ چیخ بکتی ہے، مارک ٹلی جیسے صحافی کسی اور زمانے کے معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے زمانے کے جب لفظ کو تول کر بولا جاتا تھا اور خاموشی کو بھی معنی حاصل تھے۔

اتوار کے روز نوّے برس کی عمر میں اُن کا اس دنیا سے رخصت ہونا محض ایک فرد کی موت نہیں، ایک روایت کا اختتام بھی ہے۔ وہ روایت جس میں صحافت کو خدمت سمجھا جاتا تھا، طاقت کے قریب ہو کر بھی طاقت سے فاصلہ رکھا جاتا تھا اور جس میں رپورٹر خود کو خبر سے بڑا نہیں سمجھتا تھا۔ مارک ٹلی نے اپنی زندگی میں بے شمار کہانیاں لوگوں تک پہنچائیں، مگر شاید اُن کی سب سے بڑی کہانی وہ ہے جو اُن کے بغیر کہی جا رہی ہے۔ کہ ایک آدمی کس طرح سچ کے ساتھ کھڑے ہو کر بھی نرم لہجہ رکھ سکتا ہے اور کس طرح برسوں بعد بھی کسی بچے کے دل میں ایک اچھی یاد بن کر زندہ رہ سکتا ہے۔

آج دل واقعی دکھ سے بھرا ہوا ہے، اس لیے نہیں کہ ہم نے مارک ٹلی کو ذاتی طور پر جانا تھا، بلکہ اس لیے کہ اُن کے ساتھ ہمارے بچپن کا ایک گوشہ، ایک شام، ایک چارپائی اور ایک آواز بھی چلی گئی ہے۔ مگر شاید یہی اصل کامیابی ہے کہ آدمی مر کر بھی یاد میں زندہ رہے۔ مارک ٹلی اب خبر نہیں رہے، وہ یاد بن چکے ہیں اور کچھ یادیں، اگر سچ سے بنی ہوں، تو کبھی مٹتی نہیں۔

کچھ آوازیں وقت کی گرد میں دبتی نہیں، وہ خبر سے نکل کر یاد بن جاتی ہیں۔ مارک ٹلی بھی انہی میں سے تھے۔ انہوں نے ہمیں یہ سکھایا کہ سچ کو چیخنے کی نہیں، سنبھال کر کہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج خبر ختم ہوئی، مگر آواز باقی ہے۔ ریڈیو کی اُس مدھم لہر پر، جہاں وقار اب بھی بولتا ہے۔

وہ بولتا تھا تو خبر میں وقار آ جاتا
لفظ ٹھہرتے، تو بات پر اعتبار آ جاتا

نہ چیخ تھی، نہ تماشہ، نہ کوئی شور وہاں
بس ایک لہجے سے تاریخ پر نکھار آ جاتا

خبر سے بڑھ کے وہ انسان کو خبر کرتا
اسی لیے دل میں اُس کا اثر آ جاتا

چلا گیا ہے مگر یہ صدا رہے گی یہاں
جو سُن سکے، اُسے اب بھی وہ پار آ جاتا

Check Also

Mark Tully: Awaz Jo Yaad Ban Gayi

By Asif Masood