Kitab Tehzebon Ki Maa: Tazkar Sahabiyat Mutahirat (22)
کتاب تہذیبوں کی ماں: تذکار صحابیات مطہرات (22)

ادب جب محض الفاظ کا کھیل نہ رہے بلکہ دلوں کی دنیا میں روشنی بن کر اترے، تو وہ محض تحریر نہیں رہتا بلکہ ایک دعوت بن جاتا ہے، دعوتِ فکر، دعوتِ عمل اور دعوتِ ایمان۔ طالب الہاشمی صاحب کا شمار ایسے ہی صاحبِ طرز ادیبوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی قلمی قوت کو وقتی شہرت یا سطحی موضوعات کے لیے نہیں بلکہ اُن عظیم ہستیوں کے تذکرے کے لیے وقف کر دیا ہے جن کی زندگیاں رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے تاریخ کو محض جیا نہیں بلکہ اسے ایسا رنگ عطا کیا کہ رہتی دنیا تک اُن کے نقوش دلوں پر ثبت رہیں گے۔ طالب الہاشمی صاحب کی ادبی کاوشوں میں ایک خاص وقار، ایک سنجیدہ دردمندی اور ایک ایسی روحانی حرارت محسوس ہوتی ہے جو قاری کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے اور اسے اُس عہد میں لے جاتی ہے جہاں سادگی تھی مگر عظمت بھی، جہاں فقر تھا مگر وقار بھی اور جہاں زندگی تھی مگر مقصدیت کے ساتھ۔
زیرِ نظر کتاب میں انہوں نے صحابیاتِ مطہرات کی زندگیوں کو جس انداز میں پیش کیا ہے، وہ نہ صرف ایک ادبی کارنامہ ہے بلکہ ایک روحانی خدمت بھی ہے۔ ڈھائی سو سے زائد صحابیات کے حالات و واقعات کو یکجا کرنا، اُن کی زندگیوں کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنا اور اُن کے روشن کارناموں کو قرطاس پر اس انداز سے بکھیرنا کہ ہر واقعہ دل پر اثر چھوڑے، یہ کوئی معمولی کام نہیں۔ یہ محض معلومات کی فراہمی نہیں بلکہ ایک ایسی دنیا کی تشکیل ہے جہاں قاری خود کو اُن پاکیزہ ہستیوں کے درمیان محسوس کرتا ہے۔ ان خواتین کی زندگیاں ایثار، قربانی، صبر، استقامت اور عشقِ رسول ﷺ سے لبریز تھیں۔ وہ گھروں کی چار دیواری میں محدود رہ کر بھی تاریخ کے دھارے کو موڑ دینے کی صلاحیت رکھتی تھیں اور میدانِ عمل میں آ کر بھی اپنی حیا اور وقار کو مجروح نہیں ہونے دیتی تھیں۔
صحابہ کرام اور صحابیاتِ مطہرات سے محبت اور عقیدت ہر صاحبِ ایمان کے دل میں ایک فطری جذبے کے طور پر موجود ہوتی ہے۔ یہ وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جنہوں نے حضور اکرم ﷺ کی صحبت میں رہ کر دین کو نہ صرف سیکھا بلکہ اسے اپنی عملی زندگی میں اس طرح ڈھالا کہ وہ خود دین کی جیتی جاگتی تصویر بن گئے۔ ان کے حالاتِ زندگی کا مطالعہ محض تاریخی معلومات کا حصول نہیں بلکہ ایک روحانی تربیت بھی ہے۔ جب ایک قاری ان کے صبر کو پڑھتا ہے، تو اپنے دکھ چھوٹے لگنے لگتے ہیں، جب ان کی قربانیوں کا ذکر آتا ہے، تو اپنی کم مائیگی کا احساس ہوتا ہے اور جب ان کی محبتِ رسول ﷺ کا بیان سامنے آتا ہے، تو دل میں ایک نئی تڑپ پیدا ہوتی ہے کہ کاش ہم بھی اس محبت کا کچھ حق ادا کر سکیں۔
طالب الہاشمی صاحب کی یہ کاوش اس اعتبار سے بھی قابلِ تحسین ہے کہ انہوں نے ایک ایسے موضوع کو منتخب کیا ہے جس پر جتنا بھی لکھا جائے کم ہے، مگر اسے اس انداز سے پیش کرنا کہ وہ عام قاری کے لیے بھی قابلِ فہم ہو اور خاص قاری کے لیے بھی باعثِ تسکین، ایک بڑی مہارت کا تقاضا کرتا ہے۔ ان کی تحریر میں نہ تو غیر ضروری تصنع ہے اور نہ ہی بے جا طوالت، بلکہ ایک سادگی اور روانی ہے جو قاری کو آغاز سے انجام تک اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے۔ وہ واقعات کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ قاری کے ذہن میں مناظر خود بخود ابھرنے لگتے ہیں، جیسے وہ کسی داستان کو نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت کو دیکھ رہا ہو۔
یہ کتاب دراصل اُن دلوں کے لیے ایک تحفہ ہے جو اپنے ایمان کو تازگی بخشنا چاہتے ہیں، جو اپنے اندر ایک نئی روحانی حرارت پیدا کرنا چاہتے ہیں اور جو اپنی زندگیوں کو اُن عظیم ہستیوں کے نقشِ قدم پر ڈالنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ آج کے دور میں جب مادیت نے انسان کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور روحانیت ایک اجنبی شے بنتی جا رہی ہے، ایسے میں اس نوع کی کتب نہ صرف رہنمائی فراہم کرتی ہیں بلکہ ایک داخلی انقلاب کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔ یہ کتاب قاری کو یہ احساس دلاتی ہے کہ عظمت کا راستہ آج بھی وہی ہے جو کل تھا، اخلاص، تقویٰ، صبر اور محبت۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ طالب الہاشمی صاحب نے اپنی اس کاوش کے ذریعے نہ صرف ایک ادبی خلا کو پُر کیا ہے بلکہ ایک روحانی ضرورت کو بھی پورا کیا ہے۔ ان کی یہ کتاب اُن تمام لوگوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے جو صحابیاتِ مطہرات کی پاکیزہ زندگیوں سے روشنی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے جس میں ہم اپنے کردار کو دیکھ سکتے ہیں، اپنی کمیوں کا ادراک کر سکتے ہیں اور اپنی اصلاح کی راہ تلاش کر سکتے ہیں۔ اگر اس کتاب کا مطالعہ خلوصِ نیت کے ساتھ کیا جائے تو یہ یقیناً دلوں میں ایک نئی روشنی پیدا کرے گی اور انسان کو اُس راستے کی طرف مائل کرے گی جو کامیابی اور فلاح کا راستہ ہے۔

