Sunday, 01 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Ilm o Faqr: Raste Ki Pehchan Aur Manzil Ki Khabar

Ilm o Faqr: Raste Ki Pehchan Aur Manzil Ki Khabar

علم اور فقر: راستے کی پہچان اور منزل کی خبر

اقبال کے اس شعر میں علم اور فقر کا جو تقابلی رشتہ سامنے آتا ہے، وہ محض لفظی حسن نہیں بلکہ ایک گہری فکری ترتیب ہے۔ علم فقہیہ و حکیم، فقر مسیح و کلیم کہہ کر اقبال علم کی قدر گھٹاتے نہیں، بلکہ اس کی حد متعین کرتے ہیں۔ علم انسان کو سوال کرنا سکھاتا ہے، تجزیہ عطا کرتا ہے، اشیا کے ظاہری اور عقلی رشتوں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، مگر یہ سب کچھ راستے کی پہچان تک محدود رہتا ہے۔ علم بتاتا ہے کہ راستہ کہاں سے شروع ہوتا ہے، موڑ کہاں ہیں، خطرات کہاں ہیں، لیکن منزل کی یقینی خبر وہیں سے آگے جا کر فقر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال فرماتے ہیں علم ہے جو بیاں کرے، فقر ہے دانائے راہ، یعنی علم بولتا ہے، سمجھاتا ہے، مگر فقر جانتا ہے، پہچانتا ہے اور راستہ دکھاتا نہیں بلکہ خود راستہ بن جاتا ہے۔

اقبال کے نزدیک علم اور فقر کی نسبت استاد اور رہبر کی نہیں بلکہ نقشہ اور مسافر کی ہے۔ نقشہ جتنا بھی دقیق ہو، وہ منزل تک پہنچنے کا تجربہ نہیں دے سکتا۔ علم فقہیہ اور حکیم پیدا کرتا ہے، جو قوانین، اصولوں اور ضابطوں کے ماہر ہوتے ہیں، مگر تاریخ کے دھارے کو موڑنے والے کردار محض علم سے نہیں بنتے۔ مسیحؑ اور کلیمؑ جیسے انقلابی کردار فقر سے جنم لیتے ہیں، اس فقر سے جو انسان کو ذات کی گہرائیوں سے جوڑ دیتا ہے اور پھر وہی انسان زمانے کے جمود کو توڑ دیتا ہے۔ یہاں فقر کسی مادی کمی کا نام نہیں بلکہ اس روحانی قوت کا نام ہے جو انسان کو اللہ پر کامل توکل، سچ پر کامل یقین اور مقصد پر کامل استقامت عطا کرتی ہے۔

علم کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ اکثر سوالوں کے جال میں الجھ جاتا ہے۔ علم پوچھتا ہے: کیوں؟ کیسے؟ کب؟ کہاں؟ یہ سوالات انسانی ذہن کی تربیت کے لیے ناگزیر ہیں، مگر اگر انسان صرف سوال ہی کرتا رہے اور عمل، یقین اور سپردگی کی منزل تک نہ پہنچے تو علم بوجھ بن جاتا ہے۔ اقبال اسی لیے کہتے ہیں علم ہے جو ہوِیاتِ راہ، فقر ہے دانائے راہ، علم راستے کی تفصیل بتاتا ہے، مگر فقر خود راستے کا شعور ہے۔ فقر میں سوال کم اور یقین زیادہ ہوتا ہے، دلیل کم اور بصیرت زیادہ۔ یہی بصیرت انسان کو تذبذب سے نکال کر فیصلہ عطا کرتی ہے اور فیصلہ ہی تاریخ بناتا ہے۔

اقبال کا فقر کسی علم دشمنی کا نام نہیں۔ یہ وہ نکتہ ہے جسے اکثر سطحی قاری نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اقبال خود اعلیٰ درجے کے عالم تھے، فلسفہ، تاریخ، مذہب اور ادب پر گہری نظر رکھتے تھے، مگر وہ اس علم کے خلاف تھے جو انسان کو عمل سے کاٹ دے اور اس عقل کے ناقد تھے جو دل سے رشتہ توڑ لے۔ فقر علم کو جلا بخشتا ہے، اسے مقصد دیتا ہے اور اسے محض ذہنی مشق کے بجائے زندگی کی قوت بنا دیتا ہے۔ جب علم فقر کے تابع ہو جائے تو وہ حکمت بن جاتا ہے اور جب فقر علم سے خالی ہو تو وہ اندھی جذباتیت میں بدل سکتا ہے۔ اقبال کی اصل دعوت اسی توازن کی ہے، مگر اس توازن میں آخری برتری فقر کو حاصل ہے، کیونکہ منزل کی پہچان وہی دیتا ہے۔

اگر ہم آج کے عہد کو دیکھیں تو علم کی فراوانی ہے مگر دانائی کی قلت۔ ڈگریاں بڑھ گئی ہیں، معلومات کے انبار لگ گئے ہیں، مگر راستہ بھٹک گیا ہے۔ انسان جانتا بہت کچھ ہے، مگر جانتا نہیں کہ کدھر جانا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں اقبال کا فقر عصرِ حاضر کے لیے ایک نجات دہندہ تصور بن کر ابھرتا ہے۔ فقر انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ تم کتنا جانتے ہو، بلکہ یہ ہے کہ تم کس کے لیے جیتے ہو۔ علم تمہیں دنیا کی تفہیم دیتا ہے، فقر تمہیں خود تمہاری پہچان عطا کرتا ہے اور جو خود کو پہچان لے وہی راستہ بھی پہچان لیتا ہے۔

آخرکار، اقبال کے اس شعر کا حاصل یہی ہے کہ علم اور فقر میں تضاد نہیں بلکہ فرقِ مراتب ہے۔ علم ابتدا ہے، فقر انتہا۔ علم چراغ ہے، فقر روشنی۔ علم آواز ہے، فقر معنی۔ جو قومیں صرف علم پر اکتفا کرتی ہیں وہ مہذب تو ہو جاتی ہیں، مگر انقلابی نہیں بنتیں اور جو فقر کو اختیار کر لیں وہ خاموشی سے تاریخ کا دھارا موڑ دیتی ہیں۔ اقبال ہمیں اسی خاموش مگر طاقتور راستے کی طرف بلاتے ہیں، ایسے راستے کی طرف جسے جاننے کے لیے کتاب نہیں، بلکہ خودی، یقین اور فقر درکار ہے۔

علم انسان کو راستوں کے نقشے دیتا ہے، دلیلیں عطا کرتا ہے اور سوال کرنے کا سلیقہ سکھاتا ہے، مگر منزل کا عرفان محض علم سے حاصل نہیں ہوتا۔ جب علم دل کے دروازے پر فقر کی دستک سنتا ہے تو وہ حکمت میں ڈھل جاتا ہے۔ یہی فقر انسان کو یقین کی وہ آنکھ عطا کرتا ہے جو اندھیروں میں بھی راستہ دیکھ لیتی ہے۔ اس تحریر کا خلاصہ یہی ہے کہ جاننا کافی نہیں، ماننا اور بن جانا اصل کمال ہے۔

علم نے راہ کی سب دھول دکھا دی ہم کو
فقر نے منزل کی تعبیر سکھا دی ہم کو

کتابوں میں ملے الفاظ ہزاروں لیکن
ایک سجدے نے حقیقت دکھا دی ہم کو

سوالوں نے گھمایا ہمیں صحراؤں میں
ایک یقین آیا تو دنیا سے رہائی دلا دی ہم کو

نہ دلیل کا غرور، نہ خرد کا نشہ
فقر کی خاک نے انسانیت ملا دی ہم کو

Check Also

Tail, Taqat Aur Samundaron Ki Jang

By Muhammad Umar Shahzad