ICC, Bharti Baladasti Aur Aik Mazaq Banta Hua Aalmi Khel
آئی سی سی، بھارتی بالادستی اور ایک مذاق بنتا ہوا عالمی کھیل

عالمی کرکٹ آج جس موڑ پر کھڑی ہے، وہاں ایک غیر رکن ملک کی طنزیہ پوسٹ پوری دنیا کے کرکٹ شائقین کے ضمیر پر دستک دیتی ہے۔ آئس لینڈ کرکٹ کی جانب سے پاکستان کی ممکنہ عدم شرکت کے تناظر میں کیا گیا مذاق دراصل مذاق نہیں، ایک تلخ تبصرہ ہے، اس نظام پر جس نے کرکٹ کو کھیل کے بجائے کاروبار، وقار کے بجائے مفاد اور اصولوں کے بجائے منڈی بنا دیا ہے۔ پاکستان کی آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے دوران آئس لینڈ کرکٹ نے کہا کہ وہ "گرین شرٹس" کی جگہ لینے کے لیے دستیاب نہیں۔ حالانکہ آئس لینڈ آئی سی سی کا رکن بھی نہیں، مگر اس کی بات نے آئی سی سی اور اس کے فیصلوں کی سنجیدگی کو آئینے میں کھڑا کر دیا۔
آئس لینڈ نے لکھا کہ قلیل وقت میں پیشہ ورانہ تیاری ممکن نہیں، ہمارے کھلاڑی عام زندگیوں سے وابستہ ہیں، ہمارا کپتان بیکر ہے جسے اپنا اوون سنبھالنا ہے، ہمارا ایک کھلاڑی جہاز کا کپتان ہے جسے اپنی کشتی چلانی ہے اور ہمارے بینکرز کو (ایک بار پھر) دیوالیہ ہونا ہے۔ یہ سب جملے ہنسی کے پردے میں وہ سچ بیان کرتے ہیں جو آئی سی سی کی فیصلہ سازی پر سوالیہ نشان ہے۔
اس طنزیہ بیان میں سب سے کاری ضرب اُس وقت لگی جب آئس لینڈ کرکٹ نے بنگلہ دیش کی عدم شرکت پر اسکاٹ لینڈ کو متبادل بنانے کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "ہم اسکاٹ لینڈ کی طرح نہیں کہ بنا کسی تیاری اور کِٹ اسپانسر کے اچانک کہیں بھی پہنچ جائیں"۔ مزید یہ کہ "ہم فن لینڈ کے سونا جیسی گرمی میں اچانک اُڑ کر آ جانے والے شوقیہ نہیں"۔
یہ جملے دراصل آئی سی سی کے دوہرے معیار کی نشاندہی ہیں، کہاں اصول، کہاں تیاری، کہاں کھلاڑیوں کی فلاح اور کہاں صرف میزبان اور مالی مفادات۔ پوسٹ میں امریکی سیاست پر ہلکی سی چوٹ، نیدرلینڈز اور یوگنڈا کا ذکر، حتیٰ کہ یوگنڈا کی کِٹس پر طنز، یہ سب مل کر ایک بات واضح کرتے ہیں: جب کھیل کی باگ ڈور سنجیدہ منتظمین کے ہاتھ سے نکل جائے تو اس کی سنجیدگی مذاق بن جاتی ہے اور پھر غیر متعلق فریق بھی آئینہ دکھانے لگتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ آئی سی سی اس مقام تک کیسے پہنچی؟ جواب مشکل نہیں۔ پچھلے ایک عشرے میں بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے مالی طاقت کے بل پر آئی سی سی کی پالیسیوں، شیڈولنگ، میزبانی اور حتیٰ کہ بیانیے پر بھی غیر متناسب اثر و رسوخ قائم کر لیا۔ براڈکاسٹ رائٹس، اسپانسرشپس، مارکیٹ سائز، یہ سب عوامل کھیل کی روح پر غالب آ گئے۔ نتیجہ یہ کہ فیصلے کھیل کی مساوات، عالمی نمائندگی اور اصولی توازن کے بجائے "ریونیو سینٹرک" ہو گئے۔ جب بنگلہ دیش بھارت جانے سے انکار کرتا ہے تو متبادل فوراً ڈھونڈ لیا جاتا ہے، جب پاکستان کے تحفظات سامنے آتے ہیں تو غیر یقینی کو طول دیا جاتا ہے۔ یہ کھلا تضاد ہے اور اسی تضاد نے آئس لینڈ جیسے غیر رکن کو بھی طنز کا موقع دیا۔
یہاں وہ تاریخی حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ کرکٹ کی بنیاد انگلینڈ نے رکھی، اسے آسٹریلیا نے پروان چڑھایا اور دولتِ مشترکہ کے ذریعے دنیا بھر میں متعارف کرایا۔ ان ممالک نے کھیل کو قوانین، روایت اور وقار دیا۔ آج اگر وہی کھیل ایک منڈی میں بدل چکا ہے تو اس پر سوچنا لازم ہے کہ کس ذہنیت نے اسے اس مقام تک پہنچایا۔ "بنیانیت" سے مراد کسی قوم کی توہین نہیں بلکہ وہ تنگ نظر تجارتی سوچ ہے جو ہر فیصلے کو محض نفع و نقصان کے ترازو میں تولتی ہے۔ کھیل کی خوبصورتی غیر متوقع پن، برابری کے مواقع اور اخلاقی اصولوں میں ہوتی ہے، نہ کہ اس بات میں کہ کون سا بازار بڑا ہے اور کس کی جیب گہری۔
آئی سی سی کی ساکھ آج اسی لیے داؤ پر ہے کہ اس نے خود کو غیر جانبدار منتظم کے بجائے طاقتور مارکیٹ کا تابع بنا لیا ہے۔ آئس لینڈ کی پوسٹ محض ایک وائرل لطیفہ نہیں، بلکہ عالمی کرکٹ کمیونٹی کے احساسات کی ترجمان ہے۔ جب فیصلے یکطرفہ ہوں، متبادل مضحکہ خیز لگیں اور اصول موقع کی مناسبت سے بدلیں، تو کھیل ہنسی کا نشانہ بنتا ہے۔ اس کا نقصان صرف پاکستان یا کسی ایک ٹیم کو نہیں، بلکہ خود کرکٹ کو ہوتا ہے، اس کے شائقین کو، اس کے کھلاڑیوں کو اور اس کی تاریخ کو۔
آخر میں، اگر انگلینڈ اور آسٹریلیا جیسے بانی و محافظ ممالک واقعی کرکٹ کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں تو انہیں خاموش تماشائی بننے کے بجائے توازن بحال کرنے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ آئی سی سی کو یاد رکھنا چاہیے کہ کھیل منڈی نہیں، امانت ہے۔ اگر یہ امانت چند ہاتھوں میں گروی رکھی گئی تو آئندہ طنز آئس لینڈ تک محدود نہیں رہے گا، ہر وہ جگہ جہاں کرکٹ کھیلی جاتی ہے، وہاں اس کی سنجیدگی پر قہقہے لگیں گے اور پھر تاریخ یہی لکھے گی کہ کرکٹ کسی ایک فیصلے سے نہیں، بلکہ مسلسل مفاد پرستی سے مذاق بنی۔
کرکٹ کبھی محض ایک کھیل نہیں رہی، یہ تہذیبوں کے بیچ مکالمہ، میدان میں برابری اور اصولوں کی پاسداری کی علامت تھی۔ مگر جب فیصلے طاقت کے ایوانوں میں ہوں اور انصاف ریونیو شیٹس پر لکھا جائے تو کھیل کی روح زخمی ہو جاتی ہے۔ آئس لینڈ کا طنز ہمیں ہنسانے نہیں، سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کہیں ہم نے اس خوبصورت کھیل کو خود اپنے ہاتھوں سے تماشہ تو نہیں بنا دیا۔
کھیل تھا خواب، اسے منڈی میں بدلا کس نے
وقارِ فن کو یوں نیلام سا کر ڈالا کس نے
قانون کاغذ پہ رہا، فیصلے بازار میں
عدل کے میزان کو سکہ بنا ڈالا کس نے
جو ہنستے تھے کبھی میدان کی سچائی پر
آج ان ہنسیوں کو طنز میں ڈھالا کس نے
کرکٹ کی مٹی سے خوشبو ابھی باقی ہے مگر
اس خوشبو کو دھویں میں بدلا کس نے
یہ سوال رہ گیا تاریخ کے دامن میں
کھیل ہارا نہیں، کھیل کو ہروایا کس نے

